مطالعہ کا ذوق کامیابی کی کنجی

0

لیاقت علی جتوئی
ہر کوئی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے لیکن مطالعہ کو عادت بنانے کے لیے آپ کی والہانہ دلچسپی اور عشق وجنون درکار ہے۔ اس کے لیے مزاج میں کتابوں سے لگاؤ اور طبیعت میں ٹھہراؤ کا ہونا ضروی ہے، مگر آج کے زمانے میں سوشل میڈیا نے طلبا کی توجہ کو مختصر مدت کا عادی بنا دیا ہے۔ نت نئے لفظوں سے پیار، مطالعے میں محبت کے گیروئے رنگ بھردے گا۔ اس کے لیے آپ کواردو کی جامع لغت اور انگریزی ڈکشنری اسمارٹ فون میں ڈاؤن لوڈ کر کے چلتے پھرتے لفظوں کو ’کہانی‘ کے انداز میں پڑھنا ہوگا۔
روز ’آج کا لفظ‘ معنی، مترادفات، موقع محل کے لحاظ سے دُرست اورمتنوع استعمالات ہلکے پھلکے انداز میں پڑھتے جائیں۔ کوئی لفظ من موہ لے تو ڈائری میں لکھ لیں۔ ’لفظ‘ (Word)سے یہ تعارف ’ا‘ سے ’ے‘ اورAسے Zتک مکمل کریں، چاہے اس میں کتنا ہی وقت لگ جائے۔ ہر لفظ سے شناسائی مستقبل میں مضبوط، دانشورانہ عمارت تیار کرے گی۔ تحریر و کلام میں وسیع الفاظ کا استعمال آپ کو دانشوری کے اعلیٰ مقام پر فائز کردے گا۔
موسیقی پرپسندیدہ کتاب کا مطالعہ:مطالعہ میں دلچسپی کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ کو اظہار کا کون سا پیمانہ اور رنگ بھاتا ہے۔ شاعری، افسانہ، ناول، تنقید و تاریخ، فلسفہ و سائنس، ہر رنگ کے اصول اپنے ہیں۔ بطور طالبِ علم، ابتدا بچوں کے ادب سے کریں، پھر درجہ بہ درجہ مطالعاتی سیڑھیاں چڑھتے جائیں۔ پڑھنے میں تفریح لانے کے لیے موسیقی لگاکر سُر تال کی لہروں کے ہلکوروں میں پڑھنے کی رفتار تیز کر سکتے ہیں۔
ہر وقت کتاب ساتھ رکھیں:اپنی گاڑی، پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھے، چلتے پھرتے، اسکول، ہسپتال، پارک ،اسٹاپ پر گاڑی کا انتظار کرتے یا جہاں بھی موقع ملے کتاب پڑھیں۔ ٹیک اسٹوڈنٹ ہیں تو کورس ،سبجیکٹ اور موٹی ویشنل کتابیں ساتھ رکھیں لیکن تخلیقی جوہر کو اُبھارنے کے لیے کلاسیکی ادب پڑھنا نہ بھولیں جیسے آئن اسٹائن دمِ فرصت کبھی وائلن بجاتے، تیراکی کرتے تو کبھی جیمز جوائس کا مختصر سوانحی ناول ’ڈی پوریٹ آف این آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘ پڑھ کر لطف اندوز ہوتے۔
رِیڈنگ بک کلب جوائن کریں:ہمارے ہاں ریڈنگ بک کلب کا باقاعدہ رجحان انگریزی میڈیم میں رہا ہے، جسے اب اردو میڈیم بھی اپنا رہا ہے۔ ہمیں برطانیہ اور امریکا نے سکھایا کہ طالب علموں کے مابین مطالعاتی نشست بھی ہو سکتی ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی بک کلب کو لٹریری سوسائٹی کا رنگ دے کر’ کورس اسٹڈی کلاس‘ سجا سکتے ہیں۔ مطالعاتی نشست میں آپ پڑھنے کی سرشاری و عشق سے شاعر، افسانہ ، ناول اور ڈرامہ نگار بنتے ہیں یا تحقیق و جستجویانہ ذہن رکھنے والے مورخ و فلاسفر، ہم یہ آپ کی ’میٹھی خواہش‘ پر چھوڑے دیتے ہیں۔
ترجیحی کتابوں کی فہرست بنائیں:ٹھوس معلومات کو یاد کرنے کے لیے سائنس کے طالب علموں کو مطالعے کے کچھ خاص گُر سیکھنے ہوں گے۔ سب سے اہم ’مائنڈ میپ سافٹ ویئر‘ ہے جو سائنس، انجینئرنگ، کمپیوٹر اینڈ ٹیکنالوجی اور ریاضی کے طالب علموں کو ٹھوس معلومات یاد کرنے کا ہنر دیتا ہے۔ ’مائنڈ میپ تکنیک‘ سے سائنسی کتابوں کی فہرست سازی کریں۔ اساتذہ اور ساتھی طالب علموں کے ذریعے انتہائی اہم کتابوں کے نام لکھ کر اُنہیں ترتیب وار پڑھنا ہوگا۔ بہتر تو یہی ہے کہ کتاب کی کاغذی صورت ہو لیکن دستیاب نہیں تو اسمارٹ فون، ٹیب، نوٹ بک یا لیپ ٹاپ پر ای بکس تو دستیاب ہیں ہی۔ ترجیحی کتابیں بالترتیب ڈائون لوڈ کرنے کے بعد جاسوس اور سراغ رساں کی طرح معلومات کا کھوج لگائیں۔ جو بات سمجھ نہ آئے ساتھی طالب علموں، اساتذہ اور سوشل میڈیا میں سائنس دانوں سے معلوم کریں۔
کتاب کو استاد اور رہنما رفیق بنائیں:کتاب کامطالعہ نامعلوم سے معلوم کی جانب آگہی و جستجو کا سفر ہے ۔ یہ ادراک، تخیل اور خیال میں گہرائی و گیرائی پیدا کرکے سوئے جذبے جگا کر روح کو مشاہدہ و گیان سے روشناس کرانے میں معلم و معلمہ، رہنما و رفیق، اساتذہ و والدین کا کردار ادا کرتے ہوئے ہمیں سوالات کی حیران کن دنیا میں لے جاتا ہے۔ وہ کون سی 1000 ایجادات و شخصیات ہیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا؟ کون سی سائنسی اصطلاحات کی سائنس کی دنیا پر حکمرانی رہی؟ کوانٹم میکانیات کے لامحدود امکانات کا سلسلہ کہاں رُکے گا؟
عظیم سیاسی، معاشی،ادبی، ثقافتی ،مذہبی،فلسفیانہ اور سائنسی نظریات کون سے ہیں؟ ذمہ دار شہری کے فرائض کیا ہیں؟ جاب مارکیٹ کی صورتحال کیا ہے؟ میری پسند کی جاب کہاں ہے؟ یہ تمام سوال آج گلوبل وِلیج کا حصہ بن چکے ہیں۔ عالمگیریت نے اب زبان و ثقافت کے فرق مٹا دیئے ہیں۔ ہم ایک ایسی بین الاقوامی آزاد تجارتی دنیا میں جی رہے ہیں، جہاں کوئی بھی ابنِ آدم اور بنت حوّا ایک دوسرے سے معاشی و سیاسی ،مذہبی و ادبی ، ثقافتی ، لسانی ونسلی اورملکی و غیرملکی تعلقات عامہ کے بغیرجی نہیں سکتا۔
شاعری سے سائنسی شاعری کریں ،سائنس فکشن سے سائنسی ادب کوفروغ دیں یا سائنسی تحریر سے سائنسی صحافت میں کمال دِکھائیں، آپ کو ہردو صورت دنیا کی100 عظیم ترین کتابوں کی ضرورت پڑے گی۔ کتاب کی طاقت سے سرسری نہ گزریں۔ یہی اسٹائل آج کے عظیم انٹرپرینیورز کا ہے۔ وہ بزنس اورسائنس کی کتابوں کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی اہمیت کا احساس آپ کو کرنا ہوگا اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ کتاب کی محبت میں مبتلا نہیں ہوجاتے۔ll