ملک کی پیشانی پر بدنما داغ

0

پروفیسرعتیق احمدفاروقی
میڈیا کے توسط سے بلقیس بانو کے گیارہ مجرمین کی رہائی کی خبرسن کر ہندوستان کے سارے مہذب اورصحیح سوچ رکھنے والے شہریوں ،بلا تفریق مذہب وملت ، کو گہراصدمہ پہنچاہے۔ یہ کام ایسے موقع پر ہوا ہے جب ملک آزادی کا امرت مہوتسو منارہاتھااور ہمارے وزیراعظم مودی جی نے لال قلعہ کی فصیل سے خواتین کی عزت وعصمت اوروقار کی بحالی کا عہد کیاتھااورعوام سے اپیل کی تھی کہ ایسا کچھ نہ کرنے کا عہد کریں جس سے خواتین کا وقار مجروح ہوتاہو۔پتہ چلاہے جب بلقیس کواِس بات کا علم ہواتو اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر رواں ہوگیااوراُس کے ذہن میں 3مارچ 2002 کے وہ حادثات ایک فلم کی طرح چلنے شروع ہوگئے۔ اگراختصار کے ساتھ ان واقعات کا ذکر کیاجائے توپتہ چلے گا کہ اُس وقت درندگی اوربربریت کی ساری حدیں پار کرلی گئی تھیں اور آج اُس کے خیال سے ہی روح کاپنے لگتی ہے۔بلقیس کے پڑوسیوں نے ان کے گھر پردھاوا بول دیاتھا اور بری طرح سے اُس پانچ مہینے کی حاملہ کی آبرو ریزی کی ۔ اِن لوگوں نے اس کی ۳ سال کی کم عمربیٹی صالحہ کو زمین پر پٹک کر موت کے گھاٹ اتاردیااوراُس کے خاندان کے دیگر 13 افراد کا درندگی کی ساری حدیں پارکرتے ہوئے قتل کردیا۔وشو گرو کا دعویٰ کرنے والے ہمارے ملک میں درندگی اوربربیت کی جو مثال پیش کی گئی تاریخ میں اُس کا ثانی ملنا مشکل ہے۔
خیال رہے کہ اس شرمناک واقعہ کے بعد انصاف کیلئے ایک طویل لڑائی لڑی گئی تھی۔ ممبئی میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے 11قصورواروںکو 21جنوری 2008کو اجتماعی عصمت دری اوربلقیس بانو کے کنبہ کے ۷؍افراد کے قتل کے جرم میں تاحیات قید کی سزاسنائی تھی۔ بعد میں ممبئی ہائی کورٹ نے بھی اُنہیں مجرم برقرار رکھاتھا۔ ان سبھی قصورواروں نے 15برس سے زیادہ قید کی سزا کاٹ لی ہے جس کے بعد ان میں سے ایک مجرم نے وقت سے پہلے رہائی کیلئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتھا۔ہائی کورٹ نے گجرات حکومت سے اُن مجرمین کی سزا معاف کرنے پر غور کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ عدالت کا نرم رویہ اور گجرات حکومت کی بدنیتی مجرمین کے حق میں ماحول بنانے میں معاون ثابت ہوئی ۔ مجرمین کو چھوڑنے کی سازش شروع ہوگئی اوربعد ازاں جو کچھ ہوا وہ اِسی سازش کا نتیجہ تھا۔ کچھ ماہ قبل تشکیل کمیٹی نے اتفاق رائے سے اِس معاملے کے سبھی گیارہ قصورواروں کو معاف کرنے کے حق میں فیصلہ کیا۔ ایک عذر یہ بھی پیش کیاگیا کہ جیل میں سبھی ملزمین کا سلوک اطمینان بخش تھا۔
فطری طور پر اِس واقعہ پر حزب اختلاف کا ردِّ عمل زبردست ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹرمیں منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ رہائی غیرقانونی ہے اورسنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیاجاسکتاہے ، اُس معاملے پر مسٹرمودی اورامت شاہ کے ساتھ ہی گجرات حکومت کو بھی جواب دیناچاہیے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ، ’’جن لوگوں نے پانچ ماہ کی حاملہ خاتون کی عصمت دری کی اوراس کی تین سالہ بچی کو قتل کیااُنہیں آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران رہا کردیاگیا۔ناری شکتی کی بات کرنے والے ملک کی خواتین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ‘‘۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی نے حکومت پر بے حس ہونے کاالزام لگاتے ہوئے کہا ’’حاملہ خاتون کی اجتماعی عصمت دری اوراُس کے بچے کو قتل کرنے کے جرم میں تمام عدالتوں سے عمر قید کی سزایافتہ مجرموں کی بی جے پی حکومت کے ذریعے رہائی ، کیمرے کے سامنے اُن کااستقبال، کیا یہ خواتین کے ساتھ ناانصافی اوربے حسی کی انتہانہیں ہے؟‘‘۔نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میںکہا،’’گجرات حکومت کے کردار پر ہمیں افسوس ہے ۔ ہم اِس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ عدالتِ عظمیٰ اِس معاملے میں مداخلت کرے گی تاکہ حکومتی پالیسی کی آڑ میں کی گئی اِس سنگین ناانصافی کو ختم کیاجاسکے۔‘‘علاوہ ازیں بلقیس بانو کے قصورواروں کو رہا کرنے کی بی جے پی حکومت کے فیصلے کو راشٹریہ جنتادل ، سی پی ایم ، ترنمول کانگریس اوربی ایس پی نے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے۔
اگرریاستی حکومتوں کو گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود معافی پالیسی کے ذریعے اپنی پسند کے مجرموں کو رہا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اِس میں ہمارا عدالتی نظام ایک مذاق بن جائے گااورعام شہریوںکی اِس نظام سے وابستہ اُمیدیں ٹوٹ جائیںگی۔ گجرات حکومت کہتی ہے کہ اُس نے یہ فیصلہ 1992ء کی پالیسی کے تحت کیاہے لیکن اس نے یہ پالیسی 2013ء میں ختم کردی تھی ، پھر اِس پالیسی کے تحت معافی کیسے دی گئی۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اِن مجرمین کو پھانسی کی سزا ملنی چاہیے تھی ، پھراگرپھانسی کی سزا نہیں بھی ملی تھی توتاعمر انہیں جیل میں قید رکھناچاہیے تھا۔ الٹے جن لوگوں نے گجرات میں اِن مظلوموں کو انصاف دلانے کی سمت میں کوشش کی ان لوگوں پر شکنجہ سخت ہوتاجارہاہے۔ اُن میں سماجی کارکن تیستاسیتل واڈ ، گجرات پولیس کے اعلیٰ افسر آربی سری کمار اورایک دیگر پولیس افسر سنجیو بھٹ ، جو اب سلاخوں کے پیچھے ہیں ، کے نام قابل ذکرہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی اپیل سپریم کورٹ سے خارج ہونے کے بعدگجرات پولیس نے تیستااور سری کمار کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ قائم کردیاہے۔
سنجیو بھٹ نے 2002ء کی نسل کشی میں پولیس اورسول ایڈمنسٹریشن کی شمولیت کے ثبوت پیش کئے تھے۔ اس نوعیت کے دیگر معاملات میں بھی بہت سے ملزمان انتقامی کارروائی کے سبب جیل میں سڑرہے ہیں اورعدالت انہیں ضمانت پر چھوڑنے سے قاصر ہے۔ خواتین اور ملک کے تمام مہذب شہری عدالت عظمیٰ سے امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ سے ہم امید کرتے ہیں کہ معاشرہ کے روشن خیال افراد اور تنظیموں کی اپیل پر یا ازخود اِس معاملے کو طلب کرکے غور کرے اورمجرمین کو دوبارہ جیل بھیجے تاکہ ہمارے مہذب معاشرہ کی سند محفوظ رہ سکے اورعوام کا اعتماد عدلیہ پر قائم رہے۔
rvr