اپنے ہی دام میں پھنس گیا شکاری

0

اسرائیل کی سخت گیر حکومت جوکہ بڑے اعتماد کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر من مانی کر رہی تھی آج اس وقت اپنے گھٹنوں پر دکھائی دی جب گزشتہ دوماہ سے چلے آرہے مظاہروں نے بھیانک روپ لے لیا۔ اسرائیل میں عدالتی نظام کو درست بنانے کی غرض سے نیتن یاہو نے جوڈیشیل ریفارم کا سلسلہ شروع کیا تھا اور کئی حلقوں میں ان کے اس منصوبے کی مخالفت ہورہی تھی جس کے تحت وہ ملک کی عدلیہ کو ان کے تئیں نرم بنانے کے لئے اصلاحات نافذ کر رہے تھے۔ آج صبح سخت ترین مظاہروں اورملک کو تقریباً روکنے والے مظاہروں کے بعد نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ کسی بھی خانہ جنگی صورت کو روکنے کے لئے اپنے عدالتی اصلاحی منصوبے کے نفاذ کوروک رہے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو دو روز قبل تک اپنے اصلاحی منصوبوں کو لے کر اس قدرپراعتماد تھے کہ انہوں نے ان اصلاحات کے خلاف آواز اٹھانے والے اپنی ہی سرکار کے وزیر دفاع کو برخاست کردیا تھا۔ گزشتہ دوماہ اور خاص طورپر دو دنوں میں جو صورت حال بنی ہے وہ ان معنوں میں اہمیت کی حامل ہے کہ گزشتہ 4 سال میں اسرائیل میں تقریباً 5الیکشن ہوچکے ہیں اور اس کے باوجود وہاں کا نظام اس قدر مستحکم اورمضبوط ہے کہ تمام کارگزار اور قلیل مدت تک وزیراعظم کے عہدوں پر رہنے والے افراد اور دیگر وزرا کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا مگر گزشتہ دوماہ میں حالات اتنے پیچیدہ ہوگئے کہ پورا نظام درہم برہم ہوگیا اور وزیراعظم کو آج صبح اعلان کرنا پڑا کہ وہ اصلاحات کے نفاذ کوروک رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعتراف بھی کرلیا کہ حالات اس قدر قابو سے باہر تھے کہ ان کو خانہ جنگی کوروکنے کے لئے اپنے موقف پر نظرثانی کرنی پڑی۔ دوروز قبل پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر اتنا زبردست مظاہرہ ہوا کہ پورے ملک کا نظام معطل ہوگیا۔
خیال رہے کہ بنجامن نیتن یاہو کہ دائیں بازوکی حکومت ملک کی سب سے زیادہ سخت گیر نظریات والی سرکار ہے۔ شاید نیتن یاہو کا اس بات کا ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ملک جوکہ سخت گیر عناصر والا ملک سمجھا جاتا ہے اس میں ان کے نظریات کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیںگی۔ حالات اس قدر خراب ہوگئے تھے کہ امریکہ تک کو کئی اشارے دینے پڑے تھے۔ حالات کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے صدر اسحاق ہرگوز تک کو مداخلت کرنی پڑی۔ اسرائیل کے صدر کا عہدہ ایک غیرجانبدار اور غیرسیاسی عہدہ ہے۔ جوکہ عام طورپر روزمرہ کی سیاسی امورمیں مداخلت سے اجتناب کرتا ہے۔ اسحاق ہرگوز کو حالات کو قابومیں لانے کے لئے وزیراعظم نیتن یاہو سے بات چیت کرنی پڑی اور انہوں نے سابق کارگزاروزیراعظم یاییر لیپڈ اور ایک سیاسی جماعت نیشنل یونین پارٹی کے چیئرمین بینجی گینٹس تک سے فون پر بات چیت کی۔
دنیا بھر کی میڈیا میں فلسطینیوں کے خلاف سفاکانہ اور بے رحمانہ کارروائی کرنے کے لئے بدنام ملک اسرائیل میں یہ صورت حال بالکل نئی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پورے ملک کا نظام اس طریقے سے معطل ہوجائے اوروہ بھی ایسے ایشو پر جس کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ ملک کے عوام سیاسی پارٹیاں اور ٹریڈ یونینیں اور یہاں تک کہ سفارتی عملہ تک کام کاج چھوڑ بیٹھا۔اسرائیل جوکہ مکمل طورپر فوج کی طاقت پر قائم اوردائم ہے اور اسرائیل کی فوج دنیا کی اعلیٰ تربیت اور پیشہ ورانہ خطوط پر قائم ہے کہ حکام نے اپنی فرائض کی ادائیگی سے انکار کردیا۔ حد تویہ ہوگئی کہ ملک کی فوج نے سخت ہنگامی حالات والے اور ضروری خدمات تک سے کنارہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق بنجامن نیتن یاہو کو کئی کرپشن سے متعلق الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے وکیل جوعدالت میں ان کی پیروی کرتے ہیں انہوں تک نے اپنی فرائض کی ادائیگی سے انکارکردیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب معاملات نیتن یاہو کی موجودہ پوزیشن کوظاہر کرنے والے ہیں۔ عدالت کو نیا نظام دینے کی خواہش رکھنے والے نیتن یاہو کو یہ اندازہ تھا کہ وہ ججوںکی تقرری میں اپنا فیصلہ منوانے میں کامیاب رہیںگے۔ پچھلے دنوں انہوں نے سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے ججوں کے بارے میں کہا تھا کہ کچھ لوگ جوکہ غیرمنتخب ہیں یعنی غیرمنتخب جج ان کے قوانین کے نفاذ میں آڑے آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بیان اپنے آپ میں حیران کرنے والا ہے۔ خاص طورپر ایسے ملک میں جہاں پر منتخب سرکاروں اور جمہوری نظام کے بارے میں دنیا بھر میں کافی شہرت ہے اور جیسا کہ اوپر کی سطروںمیں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جو اتنخابات ہوئے ہیں اورملک کو جس سیاسی عدم استحکام کا شکار ہونا پڑا اس کے باوجود یہ نومولود ملک آج بھی ایک مستحکم نظام پر کھڑا ہوا ہے۔ وزیر دفاع کو نیتن یایو کے ذریعہ برخاست کیا جانا اس بات کی دلیل تھا کہ اس بحران کی نوعیت کیا تھا اور بنجامن نیتن یاہو جیسا سخت گیر وزیراعظم اور ان کے وزیر دفاع میں اختلاف اس شدت اور سنگین نوعیت کے تھے۔ شاید نیتن یاہو کو حالات کا اندازہ نہیں ہوا۔ اسرائیل کا پورا سماج اور سرکار کے اہم عہدیدار اور افسران تجارت پیشہ لوگ ماہرین اقتصادیات، سیکورٹی ماہرین، سابق فوجی افسران کا یہ کہنا تھا کہ یہ اصلاحالات ملک کو مطلق العنان نظام کی طرف دھکیلنے والی ہے۔ فوجی ہوائی جہازوںکو چلانے والے پائلٹ محفوظ ملٹری افسران اور عملہ کام پر نہیں گیا۔ اس سے وہ ملک جوکہ چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے اس کی سیکورٹی کو درپیش خطرے کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس مظاہروں سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسرائیل کا سماج کس طرح کا ہے۔ اسرائیل کے شہریوں کی ان مظاہروں میں شمولیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسرائیل کے عوام مجموعی طورپر سیکولر ہیں۔ اسرائیل کا مڈل کلاس شہری جمہوریت پسند ہے اور کسی بھی ایسی حرکت یا اقدام سے حکومتوںکو روکنے کی اہلیت، صلاحیت اور ضمیر رکھتا ہے۔ وزیر دفاع یوگیلنڈ کی برخاستگی نے ملک کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا جہاں سے واپس جانا ممکن نہیں تھا اور عوامی دبائو کی وجہ سے ہی نیتن یاہو کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ دنیا بھر کی میڈیا میں تل ابیب میں پارلیمنٹ کے باہر سپریم کورٹ کی عمارتوں میں مظاہرین کا ٹھانٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ اس ہڑتال نے محکمہ صحت، درس وتدریس سے وابستہ عملہ، بینکنگ سیکٹر کے ملازمین، سفارتی عملہ، یعنی کل ملاکر 80لاکھ لوگوں نے اپنا کام کاج چھوڑ کر بنجامن نیتن یاہو کو ان کی اوقات دلادی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بنجامن نیتن یاہو ان حالات میں کیا حکمت عملی اپناتے ہیں اور کیا واقعی انہوںنے اپنے ایجنڈے کو ملتوی کیا ہے یا حالات کے پیش نظر اس کے نفاذ کوموخر کیا ہے۔
٭٭٭

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS