سابق جج سپرے کی سربراہی میں ایک کمیٹی ہنڈن برگ رپورٹ تنازعہ کی تحقیقات کرے گی

0

نئی دہلی، (یو این آئی) سپریم کورٹ نے اڈانی گروپ پرامریکی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ‘ہنڈن برگ’ کی ایک رپورٹ سے ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹ سے متعلق تنازعہ کی تحقیقات کے لئے جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ جج ابھے منوہر سپرے کی سربراہی میں چھ ارکان پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا اور جے بی پاردی والا کی بنچ نے کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ دو ماہ کے اندر اندر تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے۔
بنچ نے او پی بھٹ، جسٹس (ریٹائرڈ) جے پی دیودھر، کے وی کامت، نندن نیلیکنی، سوم شیکر سندرسن کو کمیٹی کے ارکان کے طور پر مقرر کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ایڈوکیٹ ایم ایل شرما، وشال تیواری، کانگریس لیڈر جیا ٹھاکر اور انامیکا جیسوال کی درخواستوں کی سماعت کے بعد کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں اپنا حکم جاری کیا۔

بنچ نے متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد 17 فروری 2023 کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی صورتحال کا مجموعی جائزہ لے گی۔
بنچ نے کمیٹی سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کو بھی کہا۔ کمیٹی کو یہ بھی جانچنے کے لیے کہا گیا ہے کہ آیا اڈانی گروپ یا دیگر کمپنیوں کے حوالے سے سیکیورٹیز مارکیٹس سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں میں ریگولیٹری ناکامی ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ہنڈن برگ رپورٹ کے بعد سیبی کی جانب سے کی جانے والی اڈانی گروپ کی کمپنیوں کی جانچ جاری رہے گی۔

‘ہنڈن برگ’ نے 25 جنوری کو اپنی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں اڈانی گروپ پر اکاؤنٹنگ فراڈ اور ‘بے شرم اسٹاک ہیرا پھیری’ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیاتھا۔ تاہم اڈانی گروپ نے ‘ہنڈن برگ’ کی اس رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔
درخواست گزاروں میں شامل ایڈوکیٹ شرما اور تیواری نے ہنڈن برگ رپورٹ کے پیچھے سازش کا الزام لگایا ہے، جبکہ ڈاکٹر ٹھاکر نے اڈانی انٹرپرائزز کے خلاف امریکی فرم کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عدالت عظمیٰ کے سامنے دائر اپنی درخواست میں ڈاکٹر ٹھاکر نے ہنڈن برگ ریسرچ رپورٹ کے پیش نظر اڈانی گروپ اور اس کی ایسوسی ایٹ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی مرکزی ایجنسیوں سے کرانے کی ہدایت دینے کی استدعا کی تھی۔
ایڈوکیٹ شرما نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ ہنڈن برگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نیٹ اینڈرسن اور ان کے ہندوستانی اداروں نے مل کر ایک مجرمانہ سازش کی اور 25 جنوری 2023 سے پہلے اور اس کے بعد سیکڑوں ارب ڈالر کے شیئرز بیچے۔ اس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر من گھڑت رپورٹ جاری کی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS