الیکشن کمیشن کی خودمختاری کو چیلنج

0

پروفیسر عتیق احمدفاروقی
چنددنوں قبل اختتام پذیر پارلیمان کے مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت کے ذریعے الیکشن کمیشن کی تشکیل اوردیگر متعلقہ معاملات سے متعلق بل 2023 گہرے تنازعہ کا سبب بناہواہے۔ زیادہ تر بحث اس بات پر چھڑی ہوئی ہے کہ اس بل نے الیکشن کمشنروں کے انتخاب سے متعلق طریقہ عمل کو بدل دیاہے، جو عدالت عظمیٰ نے انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا معاملے میں چند ماہ قبل اپنے فیصلے میں طے کیاتھا۔ اپنے اس حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن کا انتخاب وزیراعظم ، حزب مخالف کا لیڈر اورچیف جسٹس آف انڈیا پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے کیاجائے۔ حالیہ الیکشن کمیشن بل میں چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ ایک کابینہ وزیر( جسے وزیراعظم نامزد کریں گے) کا التزام ہے۔ اس طرح بل کی تنقید اس بات کے ارد گرد گھوم رہی ہے کہ کس طرح عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو حکمراں جماعت نے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کی بدولت بدل دیاہے۔ اس بل کے حامیوں کی دلیل ہے کہ عدالت عظمیٰ نے خود کہاتھا کہ اس کا یہ حکم عارضی ہے اوراسی وقت تک اس پر عمل درآمد ہوگا جب تک اس سے متعلق قانون پارلیمنٹ سے پاس نہیں ہوجاتا، لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سلیکشن کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کو موجود رہناچاہیے یانہیں ؟قابل غور امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو خود مختاربنے رہناچاہیے یانہیں؟ ظاہر سی بات ہے کہ اس نظام میں الیکشن کمیشن عملی طور پر حکمراں جماعت کا ماتحت بن جائے گا، کیونکہ اس کے ارکان کا انتخاب ایسی کمیٹی کرے گی، جس میں حکمراں جماعت کے ممبران (وزیراعظم اورکابینہ کے وزیر)اکثریت میں ہوں گے۔ کیونکہ اگریہ مان بھی لیاجائے کہ حزب مخالف کا لیڈر اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتاہے توبھی وزیراعظم اوردوسرے وزیرکی مرضی سے اُس کمشنر کی تقرری ہوجائے گی۔کیاکابینہ کے وزیر میں اتنی جرأت ہوگی کہ وہ وزیراعظم کی مرضی کے خلاف کسی ممبر کو ووٹ دے؟ ۔
حکمران جماعت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جب خود حزب مخالف کا کردار نبھائے گی توالیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کا انہیں کا بنایا ہوا نظام ان کیلئے پریشان کن ثابت ہوگا۔اس بات کی کیاگارنٹی ہے کہ مستقبل میں بی جے پی سارے انتخابات میں فتحیاب ہوگی؟ اگراس مدعے کا آئین ساز اسمبلی کے ارکان کی نیت اورآئینی التزامات کے تناظرمیں جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ آئین بنانے والوں کی نیت کیاتھی؟ آئین کی دفعہ 324(2)کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار ہندوستان کے صدر کے پاس ہے، جو مستقبل میں پارلیمان کے ذریعے اس سے متعلق بنائے گئے کسی بھی قانون سے بندھا ہواہے۔ انوپ برنوال معاملے میں عدالت نے اس التزام کی تاریخ کاجائزہ لیاتھا اوروہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ آئین سازوں کی نیت ، اس امید میں کہ پارلیمنٹ جلدہی ایک ایسا قانون بنائے گی جو ہندوستان کے الیکشن کمیشن کی خود مختاری کویقینی بنانے کی گارنٹی دے گا، ایک عارضی نظام فراہم کرنی تھی، لیکن آئین سازوں کی توقع پوری نہیںہوپائی کیونکہ پارلیمنٹ نے بعدمیںایسا کوئی قانون نہیں پاس کیا۔ نتیجتاً اس چیز نے صدر یاانتظامیہ کے یہ اختیارات مستقل کردئے۔ تب عدالت عظمیٰ نے محسوس کیا کہ انتظامیہ کو چیف الیکشن کمیشن کی تقرری کا اختیار دینا الیکشن کمیشن کی خود مختاری کے خلاف قدم ہوگااوراس لئے آئین کے خاکہ اور آئین سازوں کی نیت دونوں ہی کے متصادم ہوگا۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پارلیمنٹ نظام میں انتظامیہ کو حکمراں جماعت سے منتخب کیاجاتاہے اوراس طرح وہ انتخابی کھیل کا ایک کھلاڑی ہوتاہے۔ انتظامیہ کو چیف الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے کا اختیار دینا ویساہی ہوگا جیسے ایک کھلاڑی کو ریفری کی تقرری کرنے کا اختیاردے دیاجائے۔
آئینی جمہوریتوں میں انتخابات کے نگراں کاتعلق چند اداروں کے ایک گروپ سے ہوتاہے، جسے چوتھی شاخ کے ادارے کہتے ہیں جیسے الیکشن کمیشن اور اطلاعاتی کمیشن وغیرہ۔ ان کا بنیادی کام موثر طریقے سے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اورنفاذ ہے جو شہری حقوق کے عمل درآمد کیلئے ضروری ہوتاہے(جیسے ووٹ دینے کا اختیار، اطلاع پانے کا اختیار وغیرہ) ۔اس مقصد کے حصول کیلئے یہ چھوتھی شاخ کے ادارے عملی طور پر انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد ہونے چاہیے، کیونکہ مختلف کاموں میں ان کاایک کام ، اگرانتظامیہ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتی ہے، تو اس کوروکناہے۔ انوپ برنوال فیصلے کی روح ان باتوں کی گواہی دیتی ہے۔ عدالت نے ایسا کیوںکہاکہ سہ رکنی کمیٹی ایک عارضی نظام ہے کیونکہ آئین خود اس بات کو واضح کرتاہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے متعلق قانون بنانے کا حتمی اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہی ہوتاہے، لیکن اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی اصرار کیا کہ پارلیمان پابندیوں اورروک ٹوک سے بالکل آزاد ادارہ نہیں ہے۔ ایک قانون جوپارلیمنٹ پاس کرتاہے اسے اس شرط کو پورا کرناچاہیے کہ ہندوستان کا الیکشن کمیشن انتظامیہ سے دوری بنائے رکھے اور اس کی مداخلت سے آزاد رہے۔ اس طرح الیکشن کمیشن سے متعلق حالیہ بل کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس میں چیف جسٹس آف انڈیا کو سلیکشن کمیٹی سے باہر کردیاگیاہے بلکہ نئے نظام میں انتظامیہ کے پاس واضح اکثریت ہوگی اور اس لئے چیف الیکشن کمیشن کی تقرری میں اس کی مرضی فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
اب اگراس تعلق سے دنیا کے دیگر ممالک کے نظام کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتہ چلے گاکہ اپنا ملک اس معاملے میں بالکل تنہا کھڑا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں الیکشن کمیشن کی تقرری کیلئے جو نظام رائج ہیں وہ غیرجانبدار ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ممالک میں پارلیمنٹ کے دوتہائی ممبران کی منظوری کی ضرورت پڑتی ہے۔ دوسری جگہوں پر متعدد اراکین پر مشتمل کمیٹی ہوتی ہے، جس میں وزراء ،مخالف پارٹیوں کے ممبران، سول سوسائٹی کے ممبران وغیرہ ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے سارے ممبران پر عزم ہوتے ہیںکہ الیکشن کمیشن کے انتخاب میں انتظامیہ کو حاوی نہیں ہونے دیناہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بحث کے مدعے میں تبدیلی لائے جائے۔ بحث اس بات پر نہیںہونی چاہیے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کو کمیٹی سے باہر رکھاجائے یا اندر، مذاکرہ اس بات پر مبذول ہوناچاہیے کہ ایک ایسا نظام لایاجائے، جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا مکمل طور پر خود مختاررہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS