روسی تیل پر پابندی لگانے سے فی بیرل قیمت 300ڈالر تک پہنچ جائے گی:الیگزینڈر نوواک

0
qz.com

پابندیوں میںکی گئی توسیع تو گیس کی سپلائی بند
روس کی یوروپی ممالک کو دھمکی
ماسکو؍بروسیلز(ایجنسیاں) : روس نے امریکہ کی جانب سے تیل درآمدات پر پابندی پر خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں وہ بھی یوروپی ممالک کو گیس کی فراہمی فوری طور پر روک دے گا۔رپورٹ کے مطابق یوکرین پر حملے کی پاداش میں امریکہ نے مغربی اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے تیل کی درآمد روک دیں جس پر روس نے بھی دھمکی دی ہے کہ وہ یوروپی ممالک کو گیس کی سپلائی بند کردے گا۔امریکہ کے اپنے اتحادیوں سے روس سے تیل نہ خریدنے کے مطالبے پر روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک روسی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کرتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 300 سو ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔اگر روس اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے یوروپی ممالک کو ایل این جی کی فراہمی بند کردیتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔ امریکہ نے اسی خدشے کے پیش نظر پہلے ہی قطر سے یوروپ میں ایل این جی کی فراہمی کے لیے معاہدہ کرچکا ہے۔واضح رہے کہ یورپی ممالک کی گیس کی ضرورت کا زیادہ تر حصہ روس سے حاصل ہوتا ہے اور پابندی کی صورت میں یورپ میں گیس کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کا متبادل قطر ہوسکتا ہے تاہم قطر پہلے ہی اپنی پروڈکشن سو فیصد کرچکا ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے کے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے ، جس سے تیل کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو کر 300ڈالر فی بیرل ہو جائیں گی۔ یوکرین پر فوجی کارروائی کے جواب میں روس کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے تیل کی درآمدات پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم جرمنی اور ہالینڈ نے پیر کو اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔قابل ذکر ہے کہ یوروپی یونین اپنی تقریباً 40 فیصد گیس اور 30 فیصد تیل روس سے خریدتی ہے ۔ روس سے سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں متبادل سپلائی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ۔مسٹر نوواک نے کہا کہ یوروپی منڈی میں روسی تیل کا متبادل فوری طور پر تلاش کرنا ناممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دوسرے ذرائع بھی مل جائیں تو وہ بہت مہنگے پڑیں گے ۔روس قدرتی گیس پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا اور خام تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے ۔یوکرین مغربی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ روس پر ایسی پابندیاں عائد کرے ۔
دوسری جانب روسی نائب وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل پر پابندی لگائی گئی تو اس کے عالمی منڈی پر تباہ کن نتائج ہوں گے ۔رپورٹ کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر روسی تیل پر پابندی لگائی گئی تو فی بیرل تیل کی قیمت 300ڈالر تک پہنچ جائے گی۔دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ابھی تک روسی تیل اور گیس کی درآمدات روکنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ روسی تیل پر عالمی پابندی عائد کرنے کا معاملہ زیرغور ہے ۔جرمنی اور ہنگری نے روسی تیل اور گیس پر پابندی لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس کے بغیر یوروپ اپنی توانائی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔روسی تیل پر پابندی کی خبروں پر دنیا بھر کی منڈیوں میں مندی کا رجحان رہا اور خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ برینٹ کی قیمت 123 اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی ہے ۔ آنے والے دنوں میں مزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔ادھریوروپی یونین (ای یو) گیس، تیل اور کوئلے کے لیے روس پر انحصار کم کرنے کے لیے آپشنز تلاش کر رہی ہے ۔یوروپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے یہ بات اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریگی کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے یوروپی یونین اپنی گرین ڈیل کو تیز اور اپنی معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے ایک بلیو پرنٹ تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یوروپی یونین اپنی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر کام کرے گی۔ کووڈ-19 اور روس-یوکرین جنگ کے درمیان صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے نجات دلانے کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ یوروپی یونین کو مستقبل میں اپنی توانائی کی مارکیٹ کے ڈھانچے ، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کی نمائندگی کے لیے ایک بڑے حصے کا تعین کرنا ہو گا۔