پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزئش میں اضافہ، کارپوریشن تماشائی

0

نئی دہلی(ایس این بی) دہلی میں اس سا ل ڈینگو کے گزشتہ برسوں میں سب سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں۔دراصل مانسون میں ہونے والے آبی جمائو کی وجہ سے مچھروں کی پیدائش میں اضافہ ہوا ہے۔وہیں کارپوریشن ان معاملات کی روک تھام میں ناکامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ رواں سال میں اب تک 143معاملات سامنے آ چکے ہیں۔حالانکہ ہیلتھ افسران کا کہنا ہے کہ ڈینگو سے اب تک کسی مریض کی موت نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ڈینگو کے معاملات روکنے کے انتظام اور جرمانے کی کڑی کارروائی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ تعمیری مقامات کے خلاف سخت رخ اپنایا گیا ہے۔اسی کے تحت کڑ کرڈوما میں پی این اے سی کنسٹرکشن کمپنی کا ایک لاکھ روپئے کا چالان کیا گیا ہے۔ساتھ ہی کڑ کڑ ڈوما علاقے میں مچھروں کی افزائش پائے جانے پر ایس اے ایم بلڈویل پر پچاس ہزار کا چالان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ابھیلاشا انٹرپرائز کا دس ہزار کا چالان کیا گیا ہے۔افسران نے مزید بتایا کہ مچھروں کو پنپنے سے روکنے کے لئے 116 تالابوں میں مچھلیاں چھوڑی گئی ہیں۔جن وارڈوں میں ڈینگو کے معاملات زیادہ پیش آئے ہیں وہاں لگاتار فوگنگ کرائی جا رہی ہے۔جہاں پانی بھرتا ہے وہاں چھڑکاؤ کرایا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ ڈی بی سی ملازمین گھر ۔گھر جا کر لاروا کی جانچ کر رہے ہیںاور بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ گھوگی بستی کے علاقوں میں ٹرین کے ذریعہ دوا کا چھڑکاؤ کرایا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ جرمانے کی رقم بھی بڑھا دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS