
نئی دہلی، ۸ اکتوبر: شمال مشرقی دہلی کے نیو سیماپوری میں رہائشی عمارت گرنے کے بعد امدادی ٹیموں کی تلاش جاری ہے۔ بدھ کی دوپہر ہوئے اس حادثے میں بچوں اور ایک حاملہ خاتون سمیت کئی افراد کی جان گئی، جبکہ آٹھ زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ جمعرات کی صبح بزنس اسٹینڈرڈ اور دی اسٹیٹس مین نے مرنے والوں کی تعداد چار بتائی تھی۔ بعد میں ہندوستان ٹائمز کی ۱۰ بج کر ۴۷ منٹ کی خبر نے پولیس کے حوالے سے تعداد پانچ ہونے کی اطلاع دی۔ تعداد بدل رہی ہے، اس لیے ابتدائی اور بعد کی خبر میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
حادثہ عیدگاہ مچھلی منڈی کے قریب ایک رہائشی علاقے میں ہوا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق عمارت بدھ کی دوپہر گری اور کئی لوگ ملبے کے نیچے پھنس گئے۔ امدادی اہلکاروں نے لوگوں کو نکال کر راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال پہنچایا۔ ابتدائی اطلاعات میں دو بچوں اور چار ماہ کی حاملہ ۲۱ سالہ گلافشا کی موت کی خبر دی گئی۔ زخمیوں میں ایک چھوٹا بچہ بھی شامل بتایا گیا۔ خاندانوں کے لیے یہ اچانک پیش آنے والا سانحہ ہے، جبکہ انتظامیہ کے لیے ابھی پہلی ترجیح تلاش، علاج اور متاثرین تک مدد پہنچانا ہے۔
بزنس اسٹینڈرڈ کی صبح کی رپورٹ کے مطابق ایک اور لاش ملنے کے بعد تعداد چار ہوئی تھی۔ ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو تلاش کرنے کی کارروائی جاری تھی۔ ایسی کارروائی میں اعداد مختلف وقت پر سامنے آتے ہیں؛ اسی لیے خبر میں ان کا وقت دینا اہم ہے۔ ابھی حادثے کی حتمی تعداد، تمام متاثرین کی شناخت اور زخمیوں کی مکمل طبی صورت حال کے بارے میں ایک ہی قطعی نتیجہ پیش کرنا مناسب نہیں۔ متعلقہ اداروں کی آئندہ تصدیق سے یہ تفصیل مزید واضح ہوگی۔
دی اسٹیٹس مین نے عینی شاہدین کے حوالے سے لکھا ہے کہ برابر کی جگہ پر توڑ پھوڑ کے کام سے پہلے جھٹکے یا لرزش محسوس ہوئی ہو سکتی ہے۔ یہ ابتدائی بیان ہے، حادثے کی ثابت شدہ وجہ نہیں۔ عمارت کی حالت، قریب ہونے والا کام اور دوسرے حالات کو تکنیکی جانچ میں دیکھنا ہوگا۔ کسی پڑوسی، مالک یا ٹھیکیدار کو اس مرحلے پر قطعی ذمہ دار قرار دینے کے لیے کافی تصدیق موجود نہیں ہے۔ امدادی کارروائی کے ساتھ اس فرق کو برقرار رکھنا متاثرین اور ممکنہ قانونی کارروائی دونوں کے لیے اہم ہے۔
دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ مختلف اداروں کے اہلکار موقع پر کام کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو مدد دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ رپورٹوں میں پولیس، فائر سروس اور امدادی ٹیموں کی موجودگی بتائی گئی ہے۔ گنجان رہائشی علاقے میں ملبہ ہٹانے کا کام صرف تیزی کا نہیں، حفاظت کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ ساتھ کی عمارتوں اور وہاں رہنے والوں کے لیے خطرے کی جانچ بھی ضروری سوال ہے۔ اس وقت کسی نئے خطرے کی تصدیق پیش نہیں کی جا رہی، بلکہ جاری کارروائی کا عمومی پس منظر واضح کیا جا رہا ہے۔
رپورٹوں نے ستمبر میں دہلی کے ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے ایک دوسرے حادثے کا بھی ذکر کیا ہے، جس میں سات افراد کی موت ہوئی تھی۔ دونوں واقعات الگ ہیں اور ان کی وجہ ایک ماننا درست نہیں ہوگا۔ البتہ بار بار سامنے آنے والے ایسے سانحے رہائشی عمارتوں کی نگرانی، مرمت اور خطرے کی بروقت اطلاع کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹی جگہوں پر کئی منزلہ تعمیر اور ساتھ کے کام کے دوران سلامتی کا سوال شہری زندگی سے براہ راست جڑا ہے۔ ہر حادثے کی ذمہ داری اپنی الگ جانچ سے طے ہونی چاہیے۔
پس منظر کے طور پر متاثرہ خاندانوں کی مدد صرف فوری علاج تک محدود نہیں رہتی۔ گھر چھن جانے کے بعد عارضی رہائش، ضروری سامان، شناختی کاغذات اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے سوال بھی پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ رپورٹوں میں ان سب کے مکمل انتظام کی تصدیق نہیں ملتی، اس لیے انہیں پورا ہو چکا کام نہیں لکھا جا رہا۔ سیماپوری کی تازہ خبر میں ابھی امدادی کارروائی، بدلتی تعداد اور وجہ کی جانچ مرکزی نکات ہیں۔ مزید سرکاری اطلاع آنے پر جانی نقصان اور ذمہ داری سے متعلق تفصیل کو اسی کے مطابق جانچنا ہوگا۔
حوالہ جات
- بزنس اسٹینڈرڈ، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ کی صبح کا اپ ڈیٹ
- انڈین ایکسپریس، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶
- دی اسٹیٹس مین، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶
- ہندوستان ٹائمز، ۸ اکتوبر، ۱۰:۴۷ صبح کا بعد کا اپ ڈیٹ
تصویر: عمارت گرنے سے متعلق پرانی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ سیماپوری کے موجودہ حادثے کی تصویر نہیں۔





