ترواننت پورم، ۸ اکتوبر: انڈین یونین مسلم لیگ نے کیرالہ میں اپنی تنظیم کی نئی ترتیب کے دوران ہندو رہنما سی شیام سندر کو ریاستی نائب صدر مقرر کیا ہے۔ بدھ کو سامنے آنے والی اس تقرری کی خبر جمعرات کو ریاست کی سیاسی بحث کا حصہ بنی۔ مسلم لیگ کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کی اتحادی ہے، اور یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب پارٹی اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو منتخب نمائندوں کے سرکاری اور پارلیمانی کام سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تقرری کو مذہبی حدود سے آگے تنظیمی شمولیت کے ایک قدم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق ۶۱ سالہ شیام سندر ۲۰۱۰ سے مسلم لیگ سے وابستہ ہیں۔ اس سے پہلے وہ سی پی آئی ایم کی نوجوان تنظیم ڈی وائی ایف آئی میں ریاستی سطح پر کام کر چکے ہیں۔ نئی ذمہ داری ملنے پر انہوں نے خوشی ظاہر کی اور پارٹی میں مقامی کارکن کے طور پر اپنے سفر کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اب انہیں ریاستی قیادت میں جگہ ملی ہے۔ یوں یہ تقرری کسی ایسے شخص کی نہیں ہے جو اچانک پارٹی میں آیا ہو، بلکہ ایک پرانے کارکن کی ترقی ہے۔
پس منظر میں ایک پرانے کارکن کی ترقی تنظیم کے اندر ذمہ داری کی تقسیم کا سوال بھی سامنے لاتی ہے۔ مذہبی شناخت پر گفتگو اپنی جگہ، لیکن کسی نائب صدر کے روزمرہ کام میں کارکنوں سے رابطہ، مقامی مسائل سننا اور پارٹی کے فیصلے لوگوں تک پہنچانا شامل ہوتا ہے۔ اس تقرری کا عملی اثر انہی کاموں میں نظر آئے گا۔ ایک عہدے سے پوری ریاست میں انتخابی حمایت بڑھنے کا نتیجہ ابھی نہیں نکالا جا سکتا۔
آن منورما کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ایک شخص، ایک عہدہ کی اپنی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ اس کے تحت وزرا، ارکان اسمبلی اور دوسری پارلیمانی ذمہ داریاں رکھنے والے رہنماؤں کو اہم تنظیمی عہدوں سے الگ کیا جا رہا ہے۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی نے خالی ہونے والی ذمہ داریوں کے لیے نئی تقرریوں کی منظوری دی، جن کا اعلان پارٹی صدر پنکڑ سید صادق علی شہاب تھنگل نے کیا۔ یہ تبدیلی صرف ایک نائب صدر کے انتخاب تک محدود نہیں ہے؛ تنظیم کے دوسرے عہدوں پر بھی نئی ٹیم بنائی جا رہی ہے۔
نائب صدور میں پی عبدالحمید اور اے عبدالرحمان کے ساتھ شیام سندر کو شامل کیا گیا ہے۔ پی عبیداللہ، کمال مکیئل اور رفیق منی مالا ریاستی سکریٹری مقرر ہوئے ہیں۔ ضلع تنظیموں میں بھی ذمہ داریاں بدلی جا رہی ہیں، جن میں کاسرگوڈ اور کوژیکوڈ کی نئی ٹیمیں شامل ہیں۔ آن منورما نے بتایا ہے کہ تبدیلی کا تعلق اسمبلی انتخابات کے بعد بعض رہنماؤں کے پارلیمانی کام سنبھالنے سے ہے۔ تنظیمی پالیسی کا عملی امتحان یہ ہوگا کہ نئی ٹیم کو کام کرنے کی کتنی گنجائش ملتی ہے اور مقامی کارکنوں کے ساتھ رابطہ کیسے مضبوط ہوتا ہے۔
اس فیصلے کا سیاسی پس منظر بھی قابل توجہ ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق مسلم لیگ کو ایک طرف بائیں بازو کی طرف سے فرقہ وارانہ سیاست کے الزامات اور دوسری طرف مسلم مذہبی حلقوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ متعلقہ حلقوں کی آرا ہیں، پارٹی کے بارے میں کوئی عدالتی فیصلہ نہیں۔ ایسے ماحول میں ایک ہندو کارکن کو اعلیٰ عہدہ دینا پارٹی کی شمولیتی شناخت کے لیے اہم پیغام ہو سکتا ہے۔ اس پیغام کی مضبوطی مستقبل کی پالیسیوں اور روزمرہ تنظیمی کام میں نظر آئے گی۔
پس منظر کے طور پر اس تقرری کی اہمیت یہ ہے کہ اقلیتی مسائل اٹھانے والی جماعت میں دوسرے مذہب کے شہری کے لیے بھی قیادت کی جگہ ہو سکتی ہے۔ مسلم شہریوں کی تعلیم، روزگار اور برابر حقوق کے سوال وسیع سماجی تعاون سے جڑے ہیں۔ اس لیے پارٹی کے نام یا کسی رہنما کے مذہب کو ہی اس کی پوری سیاست سمجھ لینا کافی نہیں۔ نئی ٹیم کے فیصلے، عوامی رابطہ اور خدمات زیادہ واضح پیمانہ ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ خبر شیام سندر کی تقرری اور مسلم لیگ کی تنظیمی تبدیلی ہے؛ اس کے انتخابی اثرات کے لیے وقت اور مزید شواہد درکار ہیں۔
حوالہ جات
- انڈین ایکسپریس، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶
- آن منورما، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
تصویر: خطاب کے اسٹیج کی علامتی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ تقرری کی تقریب کی تصویر نہیں۔






