حیدرآباد، ۸ اکتوبر: تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی جانچ کے دوران ۳۰ مسلم شہریوں کے نام ہٹانے کے لیے مبینہ طور پر غلط فارم جمع کرانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حیدرآباد کی چکڑپلی پولیس نے بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ ایس بالچندر کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ شکایت مشیرآباد کے انتخابی رجسٹریشن افسر ٹی پروین کمار ریڈی نے دی تھی۔ یہ کارروائی شہریوں کے ووٹ کے حق اور انتخابی فہرست کی درستگی سے متعلق جاری بحث کے درمیان ہوئی ہے۔ مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں ہے، اور ملزم کی ذمہ داری کا فیصلہ تفتیش اور قانونی کارروائی سے ہوگا۔
لائیو ہندوستان اور منی کنٹرول کی رپورٹوں کے مطابق، ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بالچندر ۲۸ ستمبر کو پولنگ مرکز نمبر ۲۱۰ کے افسر کے پاس پہلے سے نام چھپے ہوئے ۳۰ فارم ۷ لے کر پہنچے تھے۔ ان درخواستوں کے ذریعے متعلقہ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی کوشش کی گئی۔ بوتھ افسر اور ان کے نگران نے فارم لینے سے انکار کیا۔ شکایت میں الزام ہے کہ بار بار اصرار کے باوجود درخواستیں قبول نہ ہونے پر فارم وہاں چھوڑ دیے گئے۔ پولیس اب ان درخواستوں کے حالات اور ان میں دی گئی معلومات کی جانچ کرے گی۔
انتخابی عملے کی یکم اکتوبر کی مقامی جانچ میں تمام ۳۰ افراد مشیرآباد کے درج شدہ پتوں پر رہتے ہوئے پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں کانگریس کا ایک بوتھ ایجنٹ بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پر درخواستوں کو نام خارج کرنے کے لیے قابل قبول نہیں سمجھا گیا۔ اس تفصیل سے یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ کسی شہری کے خلاف فارم داخل کیا جانا اور اس کا نام واقعی ووٹر لسٹ سے ہٹ جانا دو الگ مرحلے ہیں۔ اس معاملے میں دستیاب رپورٹیں درخواستوں کے خلاف کارروائی بتاتی ہیں، تمام ۳۰ نام خارج ہونے کی تصدیق نہیں کرتیں۔
پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات ۲۱۷ اور ۳۱۸ کی متعلقہ شق، اور عوامی نمائندگی قانون ۱۹۵۰ کی دفعہ ۳۱ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ خبروں میں ان دفعات کا تعلق سرکاری افسر کو غلط معلومات دینے، دھوکہ دہی اور انتخابی معلومات میں غلط بیانی سے بتایا گیا ہے۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل افسر نے ضلع حکام کو جان بوجھ کر غلط معلومات پر مبنی انتخابی فارم دینے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس ہدایت کا مقصد صحیح دعووں کی جانچ کے ساتھ غلط اعتراضات کو روکنا ہے۔
اس دوران حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے گوشہ محل میں بھی مسلم ووٹروں کے خلاف پہلے سے تیار فارم استعمال ہونے کا الزام لگایا ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق انہوں نے بوتھ نمبر ۲۸، ۳۰ اور ۱۲۷ کا ذکر کیا اور ایک شخص کی طرف سے ۱۲۲ درخواستیں داخل کرنے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت سے معاملہ دیکھنے کی اپیل کی۔ یہ سیاسی الزامات ہیں؛ مشیرآباد کی ایف آئی آر کے ساتھ ان سب کو ایک ہی ثابت شدہ معاملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے ریاستی صدر این رام چندر راؤ نے پارٹی کی جانب سے ووٹروں کے نام ہٹانے کی کوشش کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعتراضات پر فیصلے مقامی جانچ کے بعد ہوتے ہیں، جبکہ کانگریس لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ فارم ۷ موجودہ انتخابی فہرست میں نام کے خلاف اعتراض یا نام خارج کرنے کی درخواست سے متعلق ہے؛ نئے ووٹر کی درخواست فارم ۶ میں دی جاتی ہے۔ اس تنازع کا بنیادی سوال یہی ہے کہ فہرست درست کرنے کا عمل کسی اہل شہری، خصوصاً اقلیتی خاندان، کے حق کو متاثر کیے بغیر کس طرح چلایا جائے۔ آنے والی تفتیش میں درخواستوں کی سچائی، ان کی تیاری اور افسران کے ریکارڈ کی اہمیت رہے گی۔
حوالہ جات
- لائیو ہندوستان، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
- منی کنٹرول، ۶ اکتوبر ۲۰۲۶
- دی نیو انڈین ایکسپریس، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
- پی ٹی آئی، دی پرنٹ، ۶ اکتوبر ۲۰۲۶
تصویر: ووٹنگ سے متعلق فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ موجودہ معاملے کی تصویر نہیں۔






