ہندوستان میں ہر10میں سے 7اسکول پرائیویٹ

0

نئی دہلی، (ایجنسیاں) : گزشتہ 30 سالوں میں، جنوبی ایشیا میں تعلیم باقی دنیا کے مقابلے میں تیزی سے پھیلی ہے۔ وہیں8 سالوں میں ہندوستان میں کھولے گئے 10 نئے اسکولوں میں سے 7 پرائیویٹ اسکول ہیں۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں10 میں سے 7 اسکول پرائیویٹ ہیں۔ 73 فیصد لوگ ناقص تعلیم کی وجہ سے اپنے بچوں کاداخلہ سرکاری اسکولوں میں نہیں کراتے ہیں۔یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2022 کے مطابق عوامی تعلیم کی ناکافی فراہمی اور معیار کے ساتھ ساتھ والدین کی بڑھتی ہوئی امیدوں نے ہندوستان میں نجی تعلیم کے فروغ کو بڑھاوا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صرف 46 فیصد بالغوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسکولی تعلیم فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستان میں نجی تعلیمی شرحوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے، ثانوی اسکولوں کے 61 فیصد طلباکا کہنا ہے کہ وہ اسکول کے خراب معیار کی وجہ سے ٹیوشن لیتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں تقریباً ایک تہائی اور نیپال میں ایک چوتھائی طلباپرائیویٹ اسکولوں ہیں، جنہیں کوئی سرکاری امداد نہیں ملتی۔ ہندوستان میں 90 فیصد سے زیادہ اساتذہ کی تعلیم کے ادارے صرف فیس سے فنڈ حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ میںکہا گیا کہ 2020 میں تقریباً 29,600 غیر امدادیافتہ اسکول تھے، جن میں 3.8 ملین طلباپڑھ رہے تھے۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اساتذہ کے اپنے خودکے طلباکو ٹیوشن فراہم کرنے کے خلاف ضوابط نافذ ہیں، فی الحال نجی تدریسی کاروبار قائم کرنے کےلئے کسی لائسنس یا رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں 73فیصد والدین نے نجی اسکولوں کا انتخاب کیا۔ 12 فیصد والدین نے انگلش میڈیم تعلیم کی وکالت کی اور 10 فیصد نے نجی اسکولوں کا انتخاب کیا۔
کیونکہ سرکاری اسکول دستیاب نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 سے قائم ہونے والے 97000 اسکولوں میں سے 67000 پرائیویٹ اور غیر امدادیافتہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ایک اندازے کے مطابق 4,139 غیر تسلیم شدہ مدارس 5لاکھ سے زیادہ طلباکو تعلیم دیتے ہیں۔