خلائی تحقیق کے دوران پیش آنے والے حادثات اور انسانی اموات

0

خلابازوں کو امریکہ میں ایسٹروناٹ جب کہ روسی میں کاسموناٹ کہتے ہیں۔12 اپریل1961 کا دن تاریخ ِانسانی میں ہمیشہ شاندار انداز سے یاد کیا جاتا رہے گا جب روس کے پہلے کوسموناٹ یوری گاگارین اپنے خلائی جہاز ووستوک-اوّل کے ذریعے خلاء میں داخل ہوگئے اور سب سے پہلے انسان قرار پائے ان کی زمین پر بخیریت واپسی ہوئی۔ جواب میں اسی سال امریکہ کی جانب سے پہلے امریکی ایلن شیپرڈنے گاگارین کے بعد دنیا کے دوسری خلاباز کے طو رپر اپنے آپ کو منوالیا۔خلاء میں تحقیقات کی کہانی روسیوں کے بہت قربانیوں اور ان گنت کاروں سے بھری پڑی ہے جس کے بنا خلائی تاریخ ادھوری رہ جاتی ہے۔ روسیوں نے خلائی سفر میں پیش قدمی کرکے خلاء میں آگے پہل کی اور اس گھٹن سفر کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ روسیوں کے ابتدائی طویل ترین خلاء میں رہائش کے تجربات کی بدولت آج تک خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر طویل ترین سائنسی تجربات کیے گئے ہیں اور سیکٹروں دنوں قیام کے کئی ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔
مارچ2022 میں اسی خلائی اسٹیشن پر امریکی خلاباز مارک وینڈنے اب تک کا سب سے طویل 355 دن مسلسل خلاء میں رہنے کا ریکارڈ قائم کردیا ہے جو کہ خاتون کرسٹینا کوچ کے 328 دنوں کے بعد سب سے بڑا ہدف ہے۔ خلائی تسخیر میں انڈسٹریز سے جڑے بہت سے لوگوں نے اس انسانی خلائی سفر کوآسان اور ممکنہ کام یابیوں کے لیے مل جل کر کام کیا جس کے سبب خلاء میںآج زیادہ بہتر اور محفوظ سفر ممکن ہوسکا ہے اور ان ہی کی بدولت خلاء میں انسانی پیش رفت اب بہت آگے جاچکی ہے۔ یہاں خلائی تسخیر کے ان گم نام ہیروز کا ذکر کیا جارہا ہے جن میں خلابازوں سے لی کر عملے تک سائنسی، تیکنیکی اہل کار اور کارکنان شامل ہیں جو کہ اس صنعت سے جڑے رہے ہیں۔ 2021 تک خلائی سفر میں 22 خلاباز جن میں اسٹروناٹ اور کاسموناٹ کی تعداد شامل ہے، مشن کے دوران انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیے تھے جب کہ گراؤنڈ پر موجود دوسرے تربیتی خلاء باز اور راکٹ ٹیسٹس کے دوران پھٹنے و دیگر حادثات میں موت کے منہ میں چلے گئے اور دوسرے کارکنان کی تعداد دنیا بھر سے 200 سے زیادہ ہے۔ خلائی سفر کے حوالے سے پہلا حادثہ روس میں پیش آیا تھا جب 23 مارچ 1961کو تربیتی کوسموناٹ ویلنٹن بوندرینکو کے خلائی جہاز کے الٹی ٹیوٹ چیمبر میں آگ بھڑک اٹھی جس سے وہ بری طرح جھلس گئے تھے اور 16 گھنٹے اسپتال میں رہنے کے بعد چل بسے یہ اب تک خلاء سے متعلق کسی انسان کی پہلی موت تھی۔ دوسرا اسی طرح کا حادثہ جنوری 1967 میں امریکہ میں پیش آیا۔ جس وقت چاند کی تسخیر کے لیے مشن اپالو۔اوّل مشن کا آغاز ہوا تھا، اسی مشن سیریز سے دنیا کے پہلے انسان نیل آرمسٹرنگ (1930-2012) کو چاند پر اتارنا ممکن ہوا تھا۔ ایک مشن کی ریہرسل کے وقت جب تین تربیتی خلاباز راکٹ میں سوار تھے تو اچانک آگ بڑھک اٹھی اور موقع پر ہی تینوں خلاباز اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ان امریکی خلابازوں میں راجر بی چیفی، ورجل گرسم کے علاوہ خلاء میں چہل قدمی کرنے والے پہلے امریکی خلاباز ایڈورڈوائٹ بھی شامل تھے جو کہ حادثے کی نذر ہوگئے۔ وہ ایک ماہر خلاباز تھے۔ اسی سال روس میں 24 اپریل کو ایک الم ناک خلائی حادثہ بھی پیش آیا تھا، جب کاسموناٹ ولادی میر کامرروف اپنے خلائی جہازسوئیز (اتحاد) اوّل سے روانہ ہوئے تھے۔ روانگی کے بعد وہ اپنے مشن کی تکمیل کے قریب ہی تھے کہ ان کے جہاز میں بجلی کے 50 فی صدی نظام نے کام چھوڑ دیا۔ ان کا پیرا شوٹ نہ کھل سکا اور آخرکار انکا جہاز کریش ہوگیا۔ خلاء میں کسی روسی خلاباز کا یہ پہلا بڑا نقصان تھا جب اس کی موت واقع ہوئی۔ کامروف کی عظیم قربانی کے صلے میں انہیں ’ہیرو آف دی سوویت یونین‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ روس ہی کا اگلا جانی نقصان 30 جون 1971 ء کو دیکھنے میں آیا جب سوئیز گیارہ جہاز کے کاربن پریشر نظام میں خرابی پیدا ہوجانے کی سبب تین کاسموناٹ کی جانوں کا زیاں ہوا۔ اس خلائی جہاز میں جارجی دوبروولسکی ، ولادی سلویو ولکوو اور وکٹر پیت سیووو سوار تھے جو حادثے کا شکار ہوئے۔ 28 جنوری 1986 ء کا دن خلائی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد کیا جائے گا جو کہ اس وقت تک کا سب سے بڑا انسانی جانوں کا نقصان تھا جب بیک وقت سات خلاباز وں کی زندگیاں مشن کی نذر ہوگئیں۔ یہ خلائی شٹل جسے خلاء میں باربار استعمال کے لیے بنایا گیا تھا، نہایت منحوس ثابت ہوئی۔ شٹل چیلینجرSTS,51-L ابھی لاؤنچنگ پیڈ سے روانہ ہی کی گئی تھی کہ محض 73 سیکنڈ میں تباہی سے دوچار ہوگئی۔ شٹل کے راکٹ بوسٹروں نے آگ پکڑ لی تھی اور اس طرح نئی امیدوں اور تمناؤں سے بھیجا جانے والا مشن بری طرح ناکام ہوا اور امریکہ خلائی پروگرام کو زبردست جھٹکا لگا۔ اس خلائی مشن میں پانچ مرد خلاباز کے ساتھ دو خواتین خلاء باز سفر پر جارہی تھیں جو کہ ہلاکت سے دوچار ہوگئیں۔ مرد خلاباز آسٹروناٹ میں جارجی جاروِز، رونالڈ میکڈنیئر، ایلیسن اونی زوکا اور مائیکل جے اسمتھ شامل تھے جب کہ خواتین میں کرسٹامیکالف اور جوڈی ریسنک تھیں۔ امریکی خاتون خلاء باز 37 سالہ انجینئر جوڈی ریسنک (1949-1986) وہ 30 اگست 1984 میں ڈسکوری کے ذریعے خلاء میں گئی تھیں یہ شٹل ڈسکوری کا بھی پہلا مشن تھا۔ 15 اپریل 1949 کو پیدا ہونے والی بدقسمت جوڈی کے لیے ان کا دوسری مشن ان کی زندگی کا آخری سفر بن گیا۔ جوڈی نے مجموعی طور پر خلاء میں 145 گھنٹے گزارے اور وہ 28 جنوری 1986کو حادثے کا شکار ہوئیں۔ ان کے ساتھ ایک اور خاتون کرسٹامیکالف بھی شامل ہیں جو کہ ’خلا ء میں پہلی ٹیچر‘کے طور پر بھیجی جارہی تھیں انہیں اس مشن میں خلاء سے زمینی پر موجود شاگردوں کو آن لائن سبق دینا تھا کرسٹا کو پہلے خلائی ٹیچرکے طور پر پیش ہونا نصیب نہ ہوسکا جنہیں 11000ہزار پیشہ ور اساتذہ میں سے چنا گیا کرسٹا کی جگہ بیک اپ کے طور پر دوسری خاتون باربیرا مورگن کو تربیتی مراحل سے گزارا گیا تھا لیکن بعد میں اس خلائی پروجیکٹ ’Teacher in Space‘ کو منسوخ کردیا گیا تھا لیکن جب ایک انٹریو میں باربیرا مورگن نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ میں ایک ٹیچر کے طور پر خلاء میں پرواز کروں !‘۔ تو باربرا کے عزائم کو دیکھتے ہوئے ناسا نے 1998 ء میں انہیں دوبارہ تربیت کے لیے بلالیا۔ انہیں جانسن خلائی مرکز میں تربیتی مراحل میں رکھا گیا اور مشن کے ماہر کے طور پر ان کی تربیت کی گئی۔ باربرا مورگن نے 2007 ء کی اینڈریو شٹل پرواز سے اپنے خوابوں کی تعبیر پالی اور ’خلاء میں پہلی استانی‘‘ بن گئیں۔ وہ 13 روزہ مشن پر شٹل سروس STS-118 سے روانہ اور سیٹلائیٹ ریڈیو کی مدد سے اپنے طالب علموں سے منسلک ہوئیں اور ان کے سوالوں کے براہ راست جواب بھی دیے۔ مورگن اس مشن کے پے لوڈ (شٹل کا سامان رکھنے والا حصّہ) کی انچارج بھی تھیں جسے مشینی ہاتھ سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جوڈی اور کرسٹا کو کانگریس کی جانب سے ’اسپیس میڈل آف آنر‘ دیا گیا۔ خلاء میں یہ پہلی مرتبہ خواتین خلاباز عورتوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ 19 سال بعد جب پچھلے حادثے کے زخم کچھ مندمل ہی ہوئے تھے کہ ایک بار پھر شٹل کی تباہی کا اندوہ ناک سانحہ پیش آیا۔ یہ یکم فروری2003 کا افسوس ناک دن تھا۔ خلائی شٹل STS-107 اپنے 16 روزہ کام یاب خلائی مشن سے واپس ہورہی تھی کہ زمینی فضاء میں داخلے کے وقت حادثے کا شکار ہوگئی اور اس بار بھی ساتوں مرد اور خواتین خلاء باز اپنی جانیں قربان کرگئے۔ دوبارہ ہونے والے اس بڑے نقصان کے بعدخلائی شٹل سروس کو 2008 تک معطل رکھا گیا۔ اس شٹل میں مرد خلابازوں میں رک ڈی ہسبینڈ، ولیم سی میکول، مائیکل پی اینڈریسن، ڈیوڈ ایم براؤن اور اسرائیل کے خلاباز الین رومن تھے جب کہ عورتوں میں لورل کلارک اور انڈین نژاد امریکی خلاباز ڈاکٹر کلپنا چاؤلہ شامل تھیں، جو ہلاکت کا شکار ہوئیں۔ کرنال انڈیا میں پیدا ہونے والی کلپنا پہلی ہندوستانی خاتون ہیں جو اپنے پہلے خلائی سفر پر بطور مشن اسپیشلسٹ جاچکی تھیں۔42 سالہ کلپنا کا دوسرا مشن ان کی زندگی اور کیریئر کا آخری مشن بن گیا۔ ایک اور جانی نقصان امریکہ نے اس وقت اٹھایا جب 31 اکتوبر 2014 ء کے دن خلائی مشن اسپیس شپ ٹو۔VSS Interprize میں بگاڑ پید ا ہوا۔ یہ پاور ڈراپ کے ٹیسٹ کے لیے مشن تھا جس میں خلائی ٹیسٹ ناکام ہوا۔ جہاز کریش ہونے کے وقت پائیلٹ جان بچاسکا جب کہ معاون پائیلٹ مائیکل البوری زندگی کی بازی ہارگئے۔
زیرتربیت خلابازوں میں اب تک 9 امریکیوں اور دو روسی خلابازوں کی جانیں جاچکی ہیں۔ پہلا حادثہ 31 اکتوبر 1964 کے دن پیش آیا تھا جب ناسا کا ایئر کرافٹ کریش ہوا۔ اس میں خلاباز تھیوڈور فری مین ہلاک ہوئے۔ 28فروری196کو تربیتی طیارے کو حادثے کے نتیجے میں دو امریکی خلابازوں ایلئیٹ سی اور چارلس بیسٹ دوم کی جانیں گئیں۔ 1967 میں تین مختلف حادثات میں تین امریکی خلاء بازوں کی ہلاکت ہوئی۔ ان میں6 جون کو ایڈورڈ جی گیون جونیئر آٹو موبائل ایکسیڈنٹ میں جان بحق ہوئے جب کہ 5 اکتوبر اور 8 دسمبر کو امریکی خلاباز جہاز کریش ہونے کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوابیٹھے۔ ان میں کلفٹن سی ولیمز اور دوسرے رابرٹ ہنری لارنس شامل تھے جو تربیتی پرواز پر تھے۔11 جولائی1993کو روس کے ایئرفورس ممبر اور کاسموناٹ ٹریننگ گروپ کے سرجری ووزویکو کی ہلاکت ہوئی جب وہ واٹر ریکوری ٹریننگ میں بازیاب نہ ہوسکے اور ڈوب گئے تھے۔
دنیا بھر میں خلائی تحقیقاتی ادارے اور اس سے متعلق انڈسٹریز سے جڑے لوگوں کو انتہائی سنگیت نوعیت کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں کئی لوگوں کی جانوں کا زیاں ہوچکا ہے۔ اس نوعیت کا سب سے بڑا سانحہ 24 اکتوبر 1960 کو رونما ہوا تھا جب روس کے بیکونور خلائی مرکز پر راکٹR-16 کے پھٹنے کے نتیجے میں 78 ہلاکتیں ہوئیں۔ تین سال بعد اسی تاریخ کو بیکونور میں سات جانیں گئیں اور دوسرا بڑا حادثہ بھی روس کے اسی مقام پر 18 مارچ 1980 کو دنیا نے دیکھا اس مرتبہ راکٹ وستوک۔ ٹوایم راکٹ نے تباہی مچادی جب وہ بلاسٹ ہوگیا اور خلائی اڈے پر کام کرنے والے 48 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اسی اڈے پر سب سے زیادہ انسانی جانوں کا زیاں ہوچکا ہے۔ مجموعی طور پر بیکونور خلائی اڈے پر عملے کے 133 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 26 جون 1973 کو روس کے دوسرے خلائی اڈے Plestsk پر راکٹ نے تباہی مچائی تھی اور 9 جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔ 26جنوری 1995 سے 15 فروری 1996 تک چینیوں نے اپنے انسان برادرز خلائی مشن کی پیش رفت کی اور اس سلسلے میں ہونے والے ٹیسٹ کے دوران لانگ مارچ راکٹوں کے پھٹ جانے سے جانی نقصان کا اندازہ بارہ سے زائد لگایا گیا۔ 22 اگست 2003 کو برازیل کے خلائی اڈے ’Alcanatara‘میں بھی راکٹ نے زبردست تباہی مچائی اور وی ایل ایس۔ون راکٹ کے بلاسٹ کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی سال برازیل نے اپنا پہلا انسان خلاء میں بھجوایا تھا جو روسی خلائی جہاز سوئیز کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچا تھا۔56 سالہ ایئرفورس کے پائیلٹ انجینئرمارکوس پونٹس ہیں جو کہ نہ صرف برازیل بلکہ پورے جنوبی امریکہ کے بھی پہلے خلاباز قرار پائے ہیں۔ ان کی فلائیٹ 30 مارچ 2003کو روانہ ہوئی تھی۔ راکٹ سے مرنے والوں میں روس کے145، جرمنی10، چین 12، امریکہ 7 اور اٹلی، جاپان، سوئیڈن کی ایک ایک اموات ہوچکی ہیں جو کْل 176 بنتی ہیں جب کہ خلائی سفر کے دوران اور زمین پر راکٹ پھٹنے کے علاوہ دیگر حادثات میں بھی سائنس دانوں، انجنیئروں، ٹیکنیشنوں کے علاوہ خلائی تحقیق و صنعت سے جڑے عام ورکرز بھی موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ ان میں امریکہ وروس کے 12 ،12 اور انڈیا کے چھے افراد شامل ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں مجوعی ہلاکتوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ایجنسی رائیٹر کے مطابق اب تک تقریباً 600انسانوں کو خلاء میں بھیجا جاچکا ہے۔ ان میں صرف 11 فیصد عورتوں کا حصہ ہے اس کے باوجود خواتین نے صرف خلاء میں مناسب پیش قدمیاں کی ہیں، جس کے لیے پہلے مردوں کو ہی مخصوص سمجھا جاتا تھا بلکہ ان خواتین نے خلاء کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا ہے اور متعدد ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں۔ اس طرح جواں سال خلابازجسیکا میئر اور کرسٹینا کوچ نے خلاء میں تاریخی چہل قدمی کی تھی جب کہ تاریخ میں پہلی چہل قدمی کسی خاتون کی روس کی جانب سے کی گئی تھی، جب خلاباز سوتلانا ساویتسکایا 38سال قبل خلاء میں گئیں اور چہل قدمی کرنے والی خاتون بن گئی تھیں۔ مرد خلابازوں میں روس ہی کے الیکسی لینوف ہیں جو خلاء میں سب سے پہلے چہل قدمی کرنے والے انسان ہیں۔ 2019 میں انڈیا نے خلاء میں اپنے ہی سیارچے کو تباہ کرکے خلائی فوجی طاقت بھی حاصل کرلی ہے اور وہ ’خلائی سپر پاور ملکوں کے کلب ‘ میں شامل ہوچکا ہے، یہ وہ کام ہے جو ایک عشرہ پہلے چینی کرچکے تھے۔ ہم اہل زمین کے باسی خلاء میں جنگی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خلاء کو صرف پرامن مقاصد اور بنی نو انسان کی فلاح و بہود کے لیے ہی استعمال کیا جاسکے گا اور ان خلاباز مرد عورتوں اور ہزاروں سائنس دانوں، تیکینک کاروں اور ورکروں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا، جو انھوں نے اس مقصد کے لیے دی تھیں کہ بہتر انسانی مستقبل کے لئے خلاء کے پرامن مقاصد کو یقینی بنا یا جاسکے۔ ہم خلابازوں ان کے کام سے جْڑے خلائی تسخیر کے تمام گم نام ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں۔