اعظم خان کو 3سال کی سزا، ملی ضمانت، سیشن کورٹ جانے کا فیصلہ

0

رامپور، (ایجنسیاں) :اعظم خان کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا تبصرے کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ رام پور کورٹ نے انہیں قصوروارٹھہراکر 3دفعات 153اے، 505 اے اور 125 کے تحت 3سال کی سزاسنائی اور2 ہزارکا جرمانہ عائد کیا ہے۔ سال 2019 میں لوک سبھا انتخابات کے دوران اعظم خان نے رام پور میں ایک میٹنگ کے دوران پی ایم مودی پر نازیبا تبصرہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں کیس عدالت میں چلا۔ حال ہی میں اس کیس کی سماعت مکمل ہوئی۔ جمعرات کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے انہیں مجرم قرار دے دیا۔ اعظم خان اس سال مئی میں 28 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد باہر آئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل بیمار ہیں۔اعظم خان کو ابھی پہلے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ 90 مقدمات ابھی باقی ہیں۔
اعظم خان نے لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوران ملت کے علاقے میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی صورتحال کے لئے پی ایم مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، ان پراترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اورڈی ایم کے خلاف نازیبا تبصرے کرنے کا الزام تھا۔ انہوں نے اقلیتوں کی حالت پرکچھ ایسابیان دیا تھا، جسے اشتعال انگیزکہاجارہا ہے ۔ اسی معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ بی جے پی کے رہنما آکاش سکسینہ نے نازیبا تبصرے کے معاملے میں اعظم خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ یہ معاملہ رامپور کے ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں چل رہا ہے۔ ایم پی ایم ایل اے کورٹ نے 21 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت مکمل کی تھی اور اس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سب کی نظریں جمعرات کو عدالت کے فیصلے پر تھیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اعظم خان کے خلاف 2 سال سے زیادہ کی سزا ہوگئی تو ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ اعظم خان کو3 مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے۔نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر اعظم خان کو سزاسنائے جانے کے بعدان کے وکیل ونود یادو کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم نے ابھی فیصلہ پڑھا نہیں ہے۔ لیکن ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ضمانت مل گئی ہے۔ اپیل فائل کرنے کےلئے ایک ہفتہ کا وقت ملا ہے۔