اردو کے 2 منفرد وباصلاحیت صحافی

0

عارف عزیز (بھوپال)
کسی کی صلاحیتوں کا اعتراف مقصود ہو تو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے ایک انجمن ہے، لیکن یہ قول احمد سعید ملیح آبادی پر پوری طرح صادق آتا ہے،جو بیک وقت مدیر، صحافی، دانشور، سخن فہم، سخن نواز، اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ساٹھ سال تک مسلسل پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہے۔
احمد سعید ملیح آبادی اترپردیش کے مردم خیز خطے ملیح آباد کے ایک پٹھان خاندان میں پیدا ہوئے، یوں تو اِس سرزمین کی کئی قابل ذکر شخصیتوں نے ملک گیر شہرت پائی لیکن ان کے والد مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کو امام الہند مولانا ابوالکلام سے گہری نسبت اورترجمانی کے باعث ایک خاص مقام حاصل ہوا، مولانا ملیح آبادی نے خود بھی جنگ آزادی میں حصہ لیا اور مولانا آزاد کے علاوہ پنڈت جواہر لال نہرو کے جیل میں رفیق رہے، ان کے لیاقت مند بیٹے احمد سعید ملیح آبادی کے بھی نہرو خاندان کی تین پشتوں سے قریبی تعلقات رہے ۔
انہوں نے مہاتماگاندھی کے ساتھ کئی ماہ اُس وقت گزارے جب تقسیم ملک کے نازک ایام میں وہ کلکتہ کے بیلیا گھاٹ ہائوس میں مقیم تھے، صحافت، احمد سعید صاحب کو وراثت میں ملی جسے موصوف نے اپنے والد کی جملہ خصوصیات کے ساتھ نہ صرف اپنایا بلکہ گوناگوں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں ایک اعتبار بھی حاصل کیا ، اُن کااخبار ’’آزاد ہند‘‘ اور اس کا ہفت روزہ ایڈیشن ’’اُجالا‘‘ شمال مشرقی ہندوستان میں عرصہ تک اہم روزنامہ شمار ہوتارہا ہے۔ اس اخبار نے تقسیم ملک کے ناسازگار حالات کے باوجود کلکتہ میں اردو کی شمع کو روشن رکھا، شروع سے زبان و بیان پر گہری توجہ دی اور ترقی پسندانہ سیکولر پالیسی کو اپنائے رکھا۔ حالانکہ یہ اخبار اُس شہر سے نکلتا تھا جہاں کی اکثریت کی زبان اردو نہیں بنگالی ہے،اور لسانی و علاقائی تعصب بھی کافی حاوی ہے، لیکن احمد سعید ملیح آبادی کی ادارت میں ’’آزاد ہند‘‘ نے اپنے گیٹ اپ کو ہی دلکش نہیں بنایا، ایک الگ ریڈرشپ پیدا کی، اس اخبار کی مقبولیت میں اس کی معیاری اردو زبان کے ساتھ ترقی پسندانہ نقطہ نظر کا بھی بڑا دخل ہے، بالخصوص کانگریس اور بائیں بازو کی کمیونسٹ تحریکات کی بیک وقت ہمنوائی کافی نازک کام تھا لیکن خان صاحب نے اسے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا۔ فکر و عمل کے اسی توازن کا نتیجہ ہے کہ انہیں راجیہ سبھا کے الیکشن میں بطو ر آزاد امیدوار سیاست کے دو متضاد دھاروں کانگریس اور کمیونسٹ فرنٹ کے ایک ساتھ ووٹ ملے اور مغربی بنگال سے منتخب ہونے والے امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب قرار پائے،اِس کے بعدایک مرتبہ پھروہ راجیہ سبھاکے ممبربنے۔
احمد سعید ملیح آبادی نے اردو صحافت کے بے لوث خدمت گار کی حیثیت سے قومی اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی بہبود کے لئے بھی انتھک کام کیا جس کے اعتراف میں انہیں درجنوں سرکاری، نیم سرکاری اور صحافتی تنظیموں کاعہدیدار اور رکن بنایا گیا، ان میں آل انڈیا ایڈیٹرس کانفرنس کی نائب صدارت، نیشنل کونسل برائے فروغ انسانی وسائل، مغربی بنگال اردو اکادمی، کلکتہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سینٹ اور کورٹ کی رکنیت نیز ٹی۔وی۔، ریڈیو اور ریلوے ایڈوائزری کمیٹیوں کی ممبرشپ اور ہند و بیرون ہند کی درجنوں کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت قابل ذکر ہے، اردو صحافت کی گرانقدر خدمات کے لیے انہیں ملک کے باوقار ’’غالب ایوراڈ‘‘ اور ’’برلاایوارڈ‘‘ کے علاوہ مغربی بنگال نیز مدھیہ پردیش اردو اکادمیوں کے اعلیٰ ’’صحافتی‘‘ اعزازات سے سرفراز کیا جاچکا ہے، اسی طرح وہ بحیثیت مبصر قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں ملک کے کئی صدور جمہوریہ اور وزرائے اعظم کے ہمراہ شرکت کرچکے ہیں، سماجی اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے اس تابناک ریکارڈ کے بعد راجیہ سبھا میں داخلہ سے وہ پارلیمانی سیاست سے بھی براہِ راست جڑ گئے تھے۔ اردو صحافت کے لئے ان کی کتابیں اور تحریریں ہی نہیں اُن کی موجودگی بھی قیمتی سرمایہ ہے۔(۶۰۰۲ء)
ایک کُہنہ مشق اُردو صحافی – شین مظفر پوری