ادیب ، ناشر اور قاری، تینوں کے ہاتھ خالی

0

زین شمسی

کبھی کبھی بہت آسان سا سوال آپ کو اتنی مشکل میں ڈال دیتا ہے کہ آپ اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ جسے آپ سب سے آسان سوال سمجھ رہے تھے، وہ بے حد مشکل سوال ہے اور جس کا جواب جواب ہو کر بھی سوال ہی بنا رہ جاتا ہے۔مثال کے طور پر ایک دن کالج کے اسٹاف روم میں تاریخ اور ادب پر تبادلہ خیال ہورہا تھا اور اس بحث میں اس فقرہ کاٹپک جانا عام سی بات تھی کہ تواریخ میں تاریخ کے علاوہ سب کچھ غلط ہوتا ہے اور ادب میں تاریخ کے علاوہ سب کو کچھ درست ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقولہ ایجاد کرنے والا تاریخ اور ادب کا مساوی طالب علم رہا ہوگا اور اس کی نگاہیں تاریخ اور ادب دونوں پر یکساں رہی ہوں گی، لیکن بحث جب آگے بڑھی تو یہ خیال بھی درآیا کہ ایسا نہیں ہے تواریخ نے تاریخ میں بھی تبدیلیاں کی ہیں اور ادب نے اپنے مواد میں بھی تعصب برتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ادب نے اپنے قارئین کے سامنے سب کچھ درست ہی پروسا ہے۔کہیں کہیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ مصنف یا ادیب و شاعر نے مواد تو درست ہی پروسا مگر اسے سمجھنے والے قارئین اور سمجھانے والے نقادوں نے اس موادکو کہیں ایسی سمت میں مو ڑ دیا کہ جو مصنف کے ہی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ خیر
یکایک معاشیات کے ایک پروفیسر نے وہ سوال پوچھ لیاجس کے بارے میں میں نے شروع میں لکھا تھا کہ کچھ ایسے سہل سوال اپنے جواب میں مشکل ترین ہوتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ مجھے بتائیں کہ اردو کی پانچ بہترین کتابیں کون سی ہیں۔
معاشیات پر تو این سی ای آر ٹی کے تراجم ہی شائع ہوتے ہیں، نویں اور دسویں جماعت کے لیے، میں نے ان کے سوال کو نظرانداز کرنا چاہا۔ نہیں!نہیں!! ادبی کتابیں؟ انہوں نے پھر پوچھا۔ ظاہر ہے کہ میرے لیے کم از کم اس سوال کا جواب آسان نہیںہے، کیونکہ کسی کتاب کو بہترین قرار دینے سے قبل اسے کئی لسانی، سماجی، نفسیاتی، مارکسی، جمالیاتی اور تاثراتی نقطہ نظر سے دیکھنا ہوتا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کی اشاعت اور اس کی قیمت کو بھی نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا ہے اور پھر حد اور زمانہ بھی متعین کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کتاب کی صنف کیا ہونی چاہیے اور سب سے زیادہ یہ بھی کہ وہ قارئین کو کس درجہ تک متاثر کرپائی ہے۔ پھر قارئین کا مزاج اور اس کا حد مطالعہ بھی معنی رکھتا ہے اور ضروری ہے کہ بہترین کتابیں ٹرینڈ سیٹر بھی بنتی ہیں، تو ان کے اس سوال کو میں یہ کہہ کر وہیں چھوڑ آیا کہ مجھے سوچنے کا وقت دیا جائے تاکہ میں درست جواب دے سکوں؟ اس کے بعد مجھے اس سوال نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب یہ ہے کہ یا تو میں خود اپنے حد مطالعہ پر منحصر ہو کر انہیں پانچ کتابوں کا نام بتادوں یا پھر اس سوال کو بھی ادبی قارئین پر چھوڑ کر خاموش ہو جائوں۔
ویسے میں نے انٹرنیٹ پر اسی سوال کو ڈالا تو مجھے کئی اردو ویب سائٹس پر اس کا جواب ملا، لیکن اسی نوٹ کے ساتھ جو میں نے درج کیے ہیں۔ ایک ویب سائٹ نے ’راجہ گدھ‘ کو بہترین کتاب میں شامل کیا ہے، اس میں منٹو کے 100افسانے اور اداس نسلیں بھی موجود ہیں، مشتاق یوسفی کا ’آب گم‘ بھی شریک ہے، وہیں ایک دوسری ویب سائٹ میں ’آب گم ‘کو چھوڑ کر پہلی والی فہرست غائب ہے۔ تیسری ویب سائٹ میں بھی الگ الگ کتابوں کا تذکرہ ہے، مگر ’آب گم ‘کا ذکر تقریباًسبھی نے کیا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ کم از کم نکالا جاسکتا ہے کہ مشتاق یوسفی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں نے ترجیح دی ہے اور اس بنیاد پر پانچ کتابوں میں سے ایک کتاب کا انتخاب تو ہوسکتاہے۔ باقی چار کتابیں اور کون سی ہوسکتی ہیں، اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں، لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ بھی الجھن میں پھنس جائیں گے اور اس سوال کو نظرانداز کر جائیں گے۔
دراصل کتابوں کے اچھے اور برے ہونے کا فیصلہ قارئین اور نقاد سے قبل پبلی کیشن ڈپارٹمنٹ کو کرنا چاہیے۔ مجھے دوسری زبانوں کا تو بہت زیادہ آئیڈیا نہیں ہے، مگر جہاں تک اردو کی کتابوں کا سوال ہے تو پبلی کیشن کا شعبہ کتابوں کے معاملہ میں وہی کام کرتا ہے جو سنیما گھر کیا کرتے ہیں۔ یعنی سنیما گھروں کو اس سے مطلب نہیں ہوتا ہے کہ فلم کس نے بنائی، کون اس فلم کا کردار ہے، کس نے اس کی اسٹوری لکھی اور موسیقی کس نے تیار کی، وہ بس اپنے تھیٹر میں اس فلم کو ریلیز کر دیتاہے اور ٹکٹ وصول کر لیتا ہے۔ بعد میں ناظرین فلم دیکھنے کے بعد فیصلہ لیتے ہیں کہ پیسہ وصول ہوا یا پیسہ برباد ہو گیا۔یہ سنیما گھروں کی قسمت پر ہے کہ کوئی فلم خوب چلی اور کوئی دو دن میں پانی نہیں مانگ سکی۔اسی طرح اردو پبلشرز بھی اسے قسمت کا کھیل سمجھتے ہیں کہ کوئی کتاب خوب فروخت ہوئی اور کوئی اسٹال پر رکھی رکھی بوسیدہ ہوگئی۔ہونا یہ چاہیے کہ اشاعتی شعبہ مضبوط ہو۔ اس کے پاس ماہرین کی ٹیم ہو،اشاعت کے لیے آنے والی کتابوں کا معیار طے کرنے کے لیے ایک ’ویٹنگ محکمہ‘ ہو، جو اس بات پر اتفاق کرے کہ کون سی کتاب شائع کی جائے اور کسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔باضابطہ اس شعبہ کو اس کا محنتانہ ملے، لیکن ایسی روایت کبھی بنی ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان اس رائٹر کا ہوا جو جینوئن ہیں، مگر گدھے کی دوڑ میں شامل ہونا ان کی بھی مجبوری ہے۔حیرت یہ ہے کہ لکھے بھی وہ، پیسہ بھی لگائے وہ ، تقسیم بھی کرے وہ اور اس پر تبصرہ بھی کرائے وہ، تو اس پوری کارروائی میںادیبوں کی عزت کیسے بچی رہ پائے گی؟ تب وہ اپنی شناخت بنانے کے لیے نقادوں پر منحصر ہوجاتے ہیں اور پھر گروہ بندی کا کھیل شروع ہوجاتا ہے۔
مال کی کمی نہیں ہے، خوب کتابیں چھپ رہی ہیں، مگر صارفین یا تو نظرانداز کر رہے ہیں یا پھر گھٹیا کتابیں پڑھتے پڑھتے تھک گئے ہیں، اسی لیے صفدر امام قادری کوقارئین کی تلاش میں سرگرداں ہونا پڑتا ہے، ڈاکٹر شمس اقبال کو رائلٹی کے لیے آواز اٹھانی پڑتی ہے، شموئل احمد جیسے رائٹر کو بھی سرکاری پبلی کیشن ڈپارٹمنٹ کے مرہون منت رہنا پڑتا ہے۔سید احمد قادری کو اردو حلقہ کا محدود ہوناٹینشن دیتا ہے ، جب مارکیٹ میں مال کی فراوانی ہوتی ہے تواس کی قدر و قیمت کا گھٹ جانا فطری عمل ہے۔ اسی لیے اردو کے خزینہ میں لاکھوں کتابیں ہونے کے باوجود آپ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اس میں بہترین کتابیں کون سی ہیں؟
اور یوں بھی جب زمانہ ٹیکنالوجی کا ہے۔ معلومات آدھی ادھوری ہیں تو اس وقت کتاب کا پڑھنا اور کتابوں کو پڑھانا ٹیڑھی کھیر ہے۔نوجوان نسل نے اپنی گنجلک راہ بنا لی ہے۔ اردو کے گھر میں اردو کا نام لیناتوہم پرستی کہی جانے لگی ہے۔بہرحال
بوٹ دائوسن نے بنایا میںنے ایک مضمون لکھا
ملک میں مضمون نہ پھیلا اور جوتا چل گیا
بہت پہلے اکبر الٰہ آبادی کہہ گئے تھے اب تو ان کے یہاں جوتا سے زیادہ بلڈوزر چل گیا ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
[email protected]