رمضان المبارک میں خواتین کی مصروفیات

0

رمضان کی عظمت و اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ اس ماہ مقدس کی شان ہی نرالی ہے۔ عظمتوں والے اس مہینہ میں عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، وہیں اللہ پاک کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کو پائیں اور اس کا حق ادا کرنے کی کوششیں کریں۔ اس ماہ مقدس کی شان کے پیش نظر ہر مسلمان مرد، عورت اور بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اپنے رب کو راضی کرلے۔ خواتین چاہتی ہیں کہ اچھے سے عبادت بھی ہوجائے اور گھریلو کام بھی بخوبی انجام دیے جائیں، اس کے لیے خواتین کو شیڈول بنالینا چاہیے۔ اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ خواتین فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوت قرآن پاک سے فارغ ہوکر جو سوتی ہیں تو ظہر کی نماز سے کچھ دیر قبل ہی بیدار ہوتی ہیں۔ فریش ہونے اور ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر کی صاف صفائی کرتے کرتے عصر کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد کھانے پکانے و افطار کے انتظام تک انہیں اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ دسترخوان پر بیٹھ کر سب کے ساتھ دعا میں شامل ہوجائیں۔ روزہ کھولنے کے بعد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد افطار کے برتن وغیرہ دھونے، چائے پینے، کھانا کھانے، کچن کی صاف صفائی اور عشا و تراویج کی نماز کی ادائیگی کے بعد تھکن ان پر بری طرح حاوی ہوجاتی ہے جس کے بعد کیسی عبادت ہوتی ہے، کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ خواتین اگر رمضان المبارک میں اپنا ایک شیڈول بنالیں تو وہ گھریلو کام کاج کی بخوبی انجام دہی کے ساتھ ہی عبادت بھی خشوع و خضوع سے کرسکیں گی۔ فجر کی نماز و قرآن پاک کی تلاوت کے بعد سونے سے بہتر ہے کہ گھر کی صاف صفائی و کپڑوں کی دھلائی وغیرہ کا کام نمٹادیا جائے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد سبزیوں، فروٹس و گوشت وغیرہ کو دھوکر رکھ دیں۔ پھر نہانے کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کیجیے اور ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر سوجائیے۔ ہلکی نیند لینے کے بعد عصر سے پہلے جب آپ بیدار ہوں گی تو اپنے آپ کو فریش محسوس کریں گی۔ آرام و سکون سے عصر کی نماز ادا کیجیے۔ کھانے و افطار کا انتظام کیجیے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ خواتین افطار میں بھی معقول انتظام کرتی ہیں اور کھانا بھی روزمرہ کے لحاظ سے بناتی ہیں ایسے میں کافی کھانا بچ جاتا ہے جو خراب ہوجاتا ہے۔ افطار میں یا تو ہلکا پھلکا انتظام کیجیے یا پھر کھانے کے انتظام میں احتیاط برتئے، کیوں کہ روزہ رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اپنی بھوک اور پیٹ سے زیادہ کھائے گا۔ عشا کی نماز وتراویج کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنے اوپر ظلم نہ کریں کیوں کہ کچھ خواتین بلاوجہ سحری تک جاگتی رہتی ہیں، تھکان کی وجہ سے نہ وہ عبادت کرپاتی ہیں اور نہ ہی نیند لے پاتی ہیں۔ اکثر گھروں میں تو بچے بھی جاگتے نظر آتے ہیں جو کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔ جس طرح ہم کسی تقریب میں جانے یا کسی سے ملنے ملانے یا کسی کی عیادت کرنے یا شاپنگ پر جانے کے لیے اپنے پورے دن کے شیڈول کو ایک دن کے لیے ری شیڈول کرتے ہیں اسی طرح رمضان المبارک میں پورے ایک ماہ میں اپنے شیڈول کو اس طرح ری شیڈول کیجیے کہ آپ کے آرام میں کسی طرح کا خلل نہ ہو، گھر کے کام کاج دیگر دنوں کے مقابلہ مزید اچھے سے انجام دیے جائیں، وہیں عبادت بھی خشوع و خضوع کے ساتھ کی جائے۔ ایک اہم بات اس ماہ مقدس میں اپنے آس پاس محلے، پڑوس و رشتہ داروں میں ایسے لوگوں کا خاص خیال رکھئے جو اپنی سفیدپوشی کا بھرم بنائے ہوئے ہیں اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق ان کی اس طرح مدد کیجیے کہ ان کی عزت نفس پر آنچ نہ آئے اور آپ کو ڈھیر سارا ثواب بھی مل جائے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS