پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس

0

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے جو 23دسمبر تک چلے گا ۔حسب سابق اس بار بھی دونوں ایوانوں میں سیاسی درجہ حرارت چڑھا ہوا رہے گا ، حالانکہ اسے کم رکھنے کیلئے کل جماعتی میٹنگ ہوئی جو حالیہ عرصے میں رسم بن کر رہے گی کیونکہ ایسی میٹنگ کا کچھ بھی اثر اجلاس پر ظاہر ہوتا نظر نہیں آتا ۔ہرباراجلاس ہنگامہ خیز ہوتا ہے ۔ شور وغل ، ہنگامہ ، ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ اورکارروائی کا ملتوی ہونا یہ ساری باتیں اب پارلیمنٹ کی کارروائی کا حصہ بن چکی ہیں ۔جس طرح مانسون اجلاس میں پیگاسس جاسوسی اور کسانوں کے معاملہ پر کافی ہنگامہ ہوا تھا ، اس بار بھی کچھ ویسے ہی حالات ہیں۔ کسانوں اورپیگاسس معاملہ پر سرکار پھنس گئی ہے ۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے سرکار کے دعوی کو خارج کرتے ہوئے اس کی جانچ کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دیدی ہے اوردوسری طرف جن زرعی قوانین کوسرکار تاریخی بتارہی تھی اوران کے فوائد گناتے نہیں تھکتی تھی ،ان کو خودمنسوخ کرررہی ہے۔سرکارکی جہاں یہ کوشش ہوگی کہ وہ اجلاس کے ذریعہ 4ماہ بعد ہونے والے 5ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کیلئے اپنے حق میں ماحول سازگار کرسکے، وہیں اپوزیشن خواتین ریزرویشن، پیگاسس ، زرعی قوانین ،ایم ایس پی ، مہنگائی اوربے روزگاری جیسے ایشوز پر سرکار کو گھیرے گی اورعوام میں اس کی شبیہ خراب کرے گی۔ظاہر سی بات ہے کہ جہاں حکومت اوراپوزیشن کے مفادات کا ٹکرائو ہوگا ، ہنگامہ ہوگا اورایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کی نوبت آئے گی ۔سرکار کیلئے اپوزیشن کے حملوں کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا ۔
سرکار اور اپوزیشن دونوں ہر ایشو پر کھل کر بحث کرنے کی بات کہہ رہی ہے لیکن موجودہ حالات اور اب تک کے تجربے کی بنیاد پر یہی لگتا ہے کہ ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔اگر ہوجائے تو اجلاس کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلے اورکام بھی زیادہ ہو۔بہرحال زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی نے 19نومبر کو کیا ،کابینہ میں تنسیخ کے بل کو منطوری مل گئی اوراجلاس کے پہلے دن بل پیش کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ اعدادوشمار کی بنیاد پر اگرچہ بل کو منظور کرانا مشکل نہیں ہے لیکن اس پر پارلیمنٹ میں جو بحث ہوگی، اس میں سرکار کیلئے جواب دینا مشکل ہوگا ۔پھر مسئلہ صرف زرعی قوانین کا نہیں ہے ۔اب تو ان قوانین کے بطن سے دوسرے مسائل پیداہوگئے ہیں جیسے ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی ،تحریک کے دوران ہلاک کسانوں کے کنبوں کو معاوضہ، ان پر درج مقدمات کی واپسی ، لکھیم پور کھیری معاملہ اورمرکزی وزیر مملکت اجے مشرٹونی کی برطرفی کی مانگ وغیرہ۔ ابھی سرکار نے پرالی جلانے پر مجرمانہ مقدمہ درج نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ،لیکن ایک بار سرکار بیک فٹ پر کیا آئی، کسانوں کے حوصلے بڑھ گئے ، اب وہ ایم ایس پی کی قانونی گارنٹی ،سستی بجلی اورآلودگی مخالف قانون میں تبدیلی بھی چاہتے ہیں ۔انہوں نے اپنے مطالبات کیلئے وزیراعظم کو مکتوب بھی بھیجا جس کے جواب کا انتظاروہ 4دسمبر تک کریں گے۔اس طرح سرمائی اجلاس بہت حد تک کسانوں کی تحریک کا مستقبل طے کرے گا۔سرکار کیلئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ اترپردیش اورپنجاب میں کسانوں کی بہت بڑی آبادی ہے ، ایسے میں ان کی ناراضگی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے ۔اسی لئے زرعی قوانین کی واپسی کی نوبت آئی ہے لیکن اب کسانوں کے معاملہ میں سرکار الجھ گئی ہے ۔
مانسون اجلاس کیلئے جس طرح بی جے پی نے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو وہپ جاری کیا ہے ، اپوزیشن پارٹیوں نے بھی جاری کردیاہے ۔اس لئے اس کا پورا امکان ہے کہ زرعی قوانین منسوخ بھی ہوجائیں تو ایم ایس پی کا قانون بنانے کا مطالبہ سرکار کیلئے درد سر بن جائے گا ،کسان تو شروع سے اوراپوزیشن پارٹیوں نے کل جماعتی میٹنگ اس کی پرزور مانگ کرکے اپنے تیور ظاہر کردیئے ۔ سرکار کیلئے اطمینان کی بات صرف یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں نفری قوت اس کے پاس زیادہ ہے اوراپوزیشن میں کچھ نہ کچھ انتشار ضرور ہے ۔حالانکہ کانگریس اجلاس شروع ہونے سے پہلے متحد کرنے اورسرکار کو گھیرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ میٹنگ کرے گی، وہ کتنی کارگر ثابت ہوگی ، کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ سرکار کے خلاف ماحول نظر آرہاہے، جس سے مانسون اجلاس کی طرح سرمائی اجلاس بھی کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے۔ جس کیلئے سرکار بھی تیارہے اوراپوزیشن پارٹیاں بھی پوری تیاری کے ساتھ آئیں گی ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS