کیا بہار کا سیاسی بدلاؤ جمہوریت کو نئی سمت عطا کرے گا؟

0

عبدالماجد نظامی

معروف سماجی تجزیہ نگار اور مفکر آشیش نندی نے ایک بار اپنے انٹرویو میں ہندوستانی سیاست دانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستانی سیاست دانوں کے پاس کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہے۔ یہاں کے سیاست دانوں کا بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ کسی طرح اقتدار پر قابض ہوجائیں خواہ اس کے لیے عوام کے سامنے پیش کردہ اپنے سیاسی نظریہ سے ہی سمجھوتہ کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ الفاظ میرے ہیں لیکن جس فکر کی تشریح آشیش نندی کر رہے تھے، اس کا مفہوم مجموعی طور پر یہی نکلتا ہے۔ اگر اس تمہید کو دھیان میں رکھ کر ہم ہندوستانی سیاست کا جائزہ لیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ آشیش نندی کی بات حقیقت سے بہت قریب ہے۔ ہمارے ملک عزیز میں اقتدار کی ہوڑ ایسی لگی کہ سیاسی پارٹیاں سچ مچ اپنا نظریہ ہی بھول گئیں اور ہر قیمت پر کرسیٔ اقتدار پر متمکن ہونا اپنا منتہائے عمل بنا لیا۔ اس میں شاید ہی کسی سیاسی پارٹی نے اپنا امتیاز برقرار رکھا ہو۔ اصول اور نظریہ کی دُہائی دینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کا حال تو یہ ہے کہ وہ کبھی لیفٹ تو کبھی رائٹ اور سینٹر کا حصہ رہی جیسا کہ جنتا پارٹی سرکار میں دیکھنے کو ملا تو کبھی سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو اپنا حلیف بناکر حکومت سازی کا کردار نبھایا، خاص کر محبوبہ مفتی کے ساتھ سرکار بناکر تو تمام سیاسی پنڈتوں کو حیرت میں ڈال دیاتھا۔ تفصیل کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہندوستانی سیاست پر سرسری نظر رکھنے والا شخص بھی اس حقیقت سے واقف ہے۔ تو آخر ایسا کیا عجیب واقعہ بہار کی سیاست میں پیش آگیا جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی واویلا مچا رہی ہے اور اس بات کی رٹ لگائے پھر رہی ہے کہ نتیش کمار نے اسے دھوکہ دیا ہے اور عوام نے جو اعتماد بی جے پی اور جے ڈی(یو) کے مشترک ایجنڈہ پر دکھایا تھا اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ سات آٹھ برسوں کے اندر عوام کے ذریعہ منتخب لیڈران کو جس طریقہ سے خرید کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے الگ الگ ریاستوں میں حکومت بنائی ہے، اس سے ہندوستانی جمہوریت کی اساس متزلزل ہوئی ہے اور اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ آیا اس ملک میں جمہوری نظام باقی بھی رہ پائے گا یا نہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں کہ ہندوستانی اقتصاد و تجارت کا مرکز سمجھی جانے والی ریاست مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے وہاں کی بالکل ٹھیک ٹھاک چل رہی سرکار کو شیو سینا کے ہی ایک لیڈر شندے کا استعمال کرکے نہ صرف گرا دیا بلکہ ایک غیر ضروری سیاسی بحران پیدا کر دیا۔ اس سے قبل مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں بھی یہی کھیل کھیلا جا چکا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کس پارٹی نے ایسا کیا۔ سوال اس سے زیادہ بڑا یہ ہے کہ کیا ہندوستانی جمہوریت کو ایسی جوڑ توڑ کی سیاست سے شدید نقصان نہیں پہنچتا ہے؟ کیا دستوری ادارے ایسی تگڑم بازی سے روز بروز کمزور نہیں ہو رہے ہیں؟ اب ذرا نتیش کمار کی سیاسی زندگی پر غور کیجیے۔ کبھی ایمرجنسی کے خلاف لمبی لڑائی لڑنے والے جے پرکاش نارائن کی تحریک کا حصہ یہ نتیش کمار ہوا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ لالو پرساد یادو، رام ولاس پاسوان اور شرد یادو بھی ہوا کرتے تھے۔ لالو پرساد نے تو بظاہر سیکولرزم کا ساتھ ہمیشہ دیا اور کبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اقتدار کی خاطر ہاتھ نہیں ملایا جس کی بڑی قیمت لالو پرساد نے خود چکائی۔ لیکن یہی بات رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں نے اقتدار میں بنے رہنے کا ایسا فارمولہ وضع کر لیا تھا کہ کبھی پاور کی کرسی ان سے دور نہیں رہی۔ آج نتیش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو درمیانِ سفر میں الوداع کہہ کر آر جے ڈی کا ہاتھ تھام لیا ہے تو انہیں سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 2017 میں نتیش کمار نے آر جے ڈی کا ساتھ چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ شراکت کرکے بہار میں حکومت سازی کا کام انجام دیا تھا؟ اگر 2017 میں نتیش کمار کا وہ اقدام قابل مذمت تھا تو یقینا آج بھی اس قدم کو درست نہیں قرار دینا چاہیے۔ لیکن آج کی بگڑی ہوئی سیاست میں ایسی اعلیٰ جمہوری قدروں کا لحاظ کون کرتا ہے؟ ہندوستانی جمہوریت کا یہی وہ پہلو ہے جس کے تئیں ہر حساس شہری اپنی فکر مندی کا اظہار کرتا ہے۔ جمہوری قدروں کے مسلسل زوال کی ایسی کیفیت ہمارے ملک میں پیدا ہوگئی ہے کہ بہار کے سیاسی منظرنامہ سے ایک امید کی کرن اس طبقہ کو نظر آنے لگی ہے جو کسی بھی قیمت پر ملک کے دستور اور یہاں کے جمہوری اقدار کے تحفظ کی خاطر کوشاں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نتیش کمار نے جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو الوداع کہہ کر اپوزیشن پارٹیوں کے خیمہ میں واپسی کا اعلان کیا ہے تب سے ایک موہوم سی تمنا جمہوریت پسند عوام کے دل میں جاگ اٹھی ہے کہ شاید نریندر مودی کی سیاست کو روکنے کا سلسلہ2024سے شروع ہو پائے گا۔ یہ تمنا کبھی حقیقت کا روپ اختیار کر بھی پائے گی یا نہیں ،اس کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہہ پانا قبل از وقت ہی ہوگا۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نتیش کمار نے اپنا خیمہ بار بار تبدیل کیا ہے جس کی وجہ سے یہ طے نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ کس نظریہ کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ لیکن اگر وہ جے پی تحریک کی وراثت کو زندہ کر پانے کی اخلاقی جرأت دکھا پاتے ہیں اور آج کی ایمرجنسی جیسی بلکہ اس سے بھی بدتر صورت حال کے خلاف کمربستہ ہوکر اپوزیشن پارٹیوں کے قافلہ کو کامیابی کے ساتھ آگے لے جانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں تو تاریخ انہیں جلی حروف میں یاد رکھے گی اور ہندوستانی جمہوریت کی روح کے محافظ کے طور پر ان عظیم شخصیات کی فہرست میں انہیں جگہ دے گی جنہوں نے مشکل حالات میں ملک کی سیاست کا رخ سیکولر دستور کی جانب موڑ دیا۔ لیکن یہ سب کچھ تب ہوپائے گا جب نتیش کمار اور ان کی پارٹی دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر واضح لائحۂ عمل تیار کر پانے میں کامیاب ہوں گے اور عوام میں یہ اعتماد بحال کر پائیں گے کہ ان کا حالیہ فیصلہ ہندوستان کی جمہوری قدروں کی حفاظت کی غرض سے لیا گیا ہے۔ اگر ایسا کرنے میں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ مانا جائے گا کہ بہار کی سر زمین آج بھی جے پرکاش نارائن کی وراثت کو باقی رکھے ہوئی ہے اور ملک کی سیاست کا رخ طے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پروپیگنڈہ کو مات دینے میں نتیش کمار کی سیاسی بازی گری کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS