مشن2024 : ممتا بنرجی کا بڑا اعلان وہ ہر 2ماہ پردہلی آئے گی

0
The Quint

نئی دہلی/کولکاتا (ایجنسیاں) : مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مشن 2024 کے تحت اپنی مہم تیز کردی ہے۔گزشتہ پانچ دنوں سے دہلی دورہ کے دوران انہوں نے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی ، راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر دو مہینے میں دہلی آئیں گی۔ مانا جارہا ہے کہ ممتا کے اس اعلان کے پیچھے ان کا مشن 2024 ہے۔ ممتا بنرجی نے آج کہا کہ میں نے آج شرد پوار سے بات چیت کی۔ میرا دورہ کامیاب رہا۔ ہم سیاسی مقاصد کیلئے ملے ، جمہوریت زندہ رہنی چاہئے ، میرا نعرہ ہے ۔’جمہوریت بچاؤ ملک بچاؤ‘۔ ہم کسانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں ، میں ہر دوسرے مہینے دہلی آئوں گی۔
دوسری جانب سی پی آئی (ایم) کے بعد بائیں محاذ کی اتحادی پارٹی سی پی آئی نے بھی ایسی کسی بھی پارٹی کو حمایت دینے کی بات کہی ہے جو بی جے پی کو شکست دے سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے یہ بات کہی۔ سی پی آئی کا یہ رخ مغربی بنگال لیفٹ فرنٹ کے چیئرمین اور سی پی آئی (ایم) پولت بیورو رکن بمان بوس کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قومی سطح پر بی جے پی سے لڑنے کے لئے پارٹی ترنمول کانگریس سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار ہے۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سوپن بنرجی نے کہا کہ ہماری مرکزی اور ریاست قیادت نے گزشتہ پارٹی اجلاس میں کہا تھا کہ سی پی آئی کسی بھی ایسی پارٹی یا اتحاد کو حمایت دے گی جو بی جے پی کو اصل خطرہ مانتے ہوئے اسے برطرف کرنا چاہتی ہے۔ یہ کوئی ایشو نہیں ہے اگر ہمیں اس کے لئے کانگریس یا ٹی ایم سی جیسی مقامی پارٹی سے کیوں نہ ہاتھ ملانا پڑے۔ بنرجی نے کہا کہ پارٹی کی انتخابی جائزہ میٹنگ کے دوران بھی سی پی آئی اسٹیٹ یونٹ نے کہا کہ قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لئے ٹی ایم سی سے ہاتھ ملانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ روز معروف نغمہ نگار، شاعر اور مصنف جاوید اختر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران معروف اداکارہ شبانہ اعظمی بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے بعد جاوید اختر نے کہا کہ ممتا نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ان کی کوشش اپوزیشن پارٹی کی لیڈر بننے کی ہے۔ ہاں وہ تبدیلی چاہتی ہیں، وہ پہلے بنگال کے لئے لڑیں اور اب وہ ہندوستان کے لئے لڑنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم سوال یہ نہیں ہے کہ کون قیادت کرے گا اور کون نہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آپ کس طرح کا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں، آپ کس طرح کی روایت، ماحول، آزادی اور جمہوریت چاہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے پاس جمہوریت ہے لیکن ہمیں اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جمہوریت ایک مسلسل عمل ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here