تبدیلی کرے گی کانگریس کا بیڑا پار

0
تبدیلی کرے گی کانگریس کا بیڑا پار

کیا ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی اتنی پرانی ہوگئی ہے کہ نئے زمانہ کی سیاست میں غیراہم ہوگئی ہے؟ گزشتہ کچھ برسوں میں ایک طنز کی شکل میں پیدا ہوا یہ سوال کانگریس کے حالیہ انتخابی مظاہرہ کے بعد اب ایک دعوے کی شکل اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں کانگریس نے کوئی نئی ریاست تو نہیں فتح کی، اس کے برعکس ہاتھ کی ایک اہم ریاست بھی گنوا دی۔ سوال صرف اقتدار سے محرومی کا نہیں ہے، بلکہ شکست کے سائز کا ہے۔ ان ریاستوں میں کل 690اسمبلی سیٹیں داؤ پر تھیں اور کانگریس محض55سیٹوں پر سمٹ گئی یعنی کانگریس کی جیت کا فیصد محض 7.8رہا۔ جو اترپردیش ملک کی حکومت کا چہرہ اور وزیراعظم کا سہرا طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، وہاں تو کانگریس کی سب سے بری حالت ہوئی ہے۔ کانگریس وہاں گزشتہ الیکشن کے 6.2فیصد ووٹ شیئر تک کو نہیں بچا پائی اور صرف2.3فیصد ووٹ لے کر دو سیٹوں پر سمٹ گئی۔
پارٹی کے اتنے مایوس کن نتائج پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس مینڈیٹ سے سبق لے گی۔ اب اسی ایک جملہ میں کانگریس کے بہت سارے مسائل پوشیدہ ہیں۔ پہلا مسئلہ تو یہی ہے کہ کانگریس مینڈیٹ سے جو بھی سبق لیتی ہے، وہ نہ اس کی اسٹرٹیجی میں نظر آتا ہے، نہ حکمت عملی میں اور نتائج میں تو بالکل بھی نہیں نظر آرہا ہے۔ دوسری دقت یہ ہے کہ سبق لینے کی بات ایسا شخص کررہا ہے جس کا کانگریس میں قد تو بہت بڑا ہے، لیکن عہدہ کچھ نہیں ہے یعنی اگر وہ شخص مکمل شکست کی ذمہ داری اپنے اوپر لے بھی لے، تو اس کے بدلے میں اس کے پاس کھونے کے لیے ساکھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مسلسل شکست سے خاک ہورہی ساکھ ہی اب گاندھی پریوار اور کانگریس کا سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے خراب مظاہرہ کی ذمہ داری لیتے ہوئے راہل گاندھی نے اس ساکھ کو قائم رکھنے کی ایک کوشش کی تھی، لیکن اب تو حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ ہار کی اخلاقی جواب دہی لے کر کانگریس کے لیڈر اپنا عہدہ تک چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ذمہ داری طے کرنے کے لیے بھی ہائی کمان کو پارٹی صدور سے استعفیٰ مانگنے پڑرہے ہیں۔ پارٹی میں اندرونی خلفشار اور کمیونی کیشن گیپ کی حالت یہ ہے کہ ایک ہاتھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ دوسرا ہاتھ کیا کررہا ہے؟ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دوسری پارٹیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی جگہ کانگریس اپنوں کو دوسری پارٹیوں میں جانے سے نہیں روک پارہی ہے۔ محض 5سال میں 170سے زیادہ ایم ایل اے کا پارٹی چھوڑ کر چلے جانا معمولی بات نہیں ہے۔ بی جے پی کو چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کے پاس اتنے تو کل ایم ایل اے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ کانگریس میں جو لیڈر بچے رہ گئے ہیں وہ بھی واضح طور پر گاندھی پریوار کے حامی یا مخالف خیمے میں تقسیم ہیں۔ جی-23 سے مشہور ہوچکا غیرمطمئن گروپ بیشک پارٹی کو صحیح راہ دکھانے کی وکالت کرتا ہو، لیکن کانگریس کی فلاح کی اگر اس کی کوئی منشا ہے بھی تو زمینی وابستگی کی کمی اور عوامی طور پر بیان بازی کرکے وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے ساتھ ساتھ کانگریس کا قد بھی چھوٹا کرتا جارہا ہے۔ ابھی پانچ ریاستوں میں انتخابی حکمت عملی سے لے کر نتائج تک جی-23کا جو رُخ رہا ہے، اس سے کانگریس میں ایک اور تقسیم کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی، لیکن سونیا گاندھی ایک بار پھر پارٹی کی محافظ بن کر سامنے آئیں اور اجتماعی قیادت کا مطالبہ کررہے غیرمطمئن گروپ کے تیور جس طرح نرم ہوئے، اس سے لگتا ہے کہ کانگریس نے فی الحال ’گھر کا جھگڑا‘ سلجھا لیا ہے۔
یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے جب سونیا گاندھی کانگریس کا سرکشا کوچ بنی ہیں، بلکہ میرا تو ماننا ہے کہ اگر یہ سوچ قائم ہوئی ہے کہ نہرو-گاندھی پریوار کی وجہ سے کانگریس کا وجود باقی ہے، تو اس میں سونیا گاندھی کا تعاون اس پریوار کے کسی بھی ممبر سے کم نہیں ہے۔ 90کی دہائی میں جب پی وی نرسمہاراؤ نے ملک کی کمان سنبھالی تھی، تب بھی تنظیمی سطح پر کانگریس کے حالات ویسے ہی تھے جیسے آج ہیں۔ بس فرق اتنا تھا کہ آج کانگریس کے لیڈر پیراشوٹ پر لٹک کر دوسری پارٹیو ںمیں لینڈ کررہے ہیں، اور تب وہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں پارٹی سے نکل کر اپنے اپنے نام سے کانگریس چلانے کی کوشش میں الگ پارٹی بنارہے تھے۔ سال 2004 سے 2014کے درمیان دس سال تک کانگریس نے اقتدار کا لطف اٹھایا تو سونیا اس کامیابی کا بھی ستارہ بنیں۔ مخالفین نے بھلے ہی سونیا کو اس وقت کی حکومت کا ریموٹ کنٹرول کہہ کر مخاطب کیا ہو، لیکن منریگا، حق اطلاعات، آدھار، کیش لیس بینیفٹ جیسی نئی انوویشنز نے اس بات کو بھی قائم کیا کہ حکومت کے ساتھ انتظامی سمجھ میں بھی سونیا کا ہاتھ تنگ نہیں کہا جاسکتا۔
اس دور میں ہندوتو اور رام مندر کے نام پر پولرائزیشن اور شائننگ انڈیا کے نام پر ملک کی ترقی کی گنگا بہانے والے کیمپین کا مقابلہ کریں تو سیاسی تہذیب کے محاذ پر حالات بیشک آج زیادہ چیلنجنگ نظر آتے ہوں، لیکن سیاسی ایشوز کے لحاظ سے پرانے مال کی نئی پیکنگ ہی نظر آتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سونیا کا جو جادو تب چلا، وہ آج نہیں چل پارہا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے میرے اندازے کے حساب سے سب سے بڑی وجہ احمد پٹیل جیسے پالیسی ساز کی کمی ہے۔ امریکہ سے ایٹمی معاہدہ پر حکومت گرنے کے بحران کو ٹالنا ہو یا دیوی گوڑا سے لے کر نرسمہاراؤ کی قیادت میں حکومتیں بنوانا ہو، سیتارام کیسری کی جگہ کانگریس کو سونیا گاندھی کی کمان کے نیچے لانا ہو یا 2017 میں اکیلے دم پر پوری بی جے پی کی ناک کے نیچے سے گجرات کی راجیہ سبھا سیٹ کو اپنا بنانا ہو، مہاراشٹر میں بی جے پی کو اقتدار سے دور کرنے کے لیے شیوسینا جیسی مخالف پارٹی سے ہاتھ ملانا ہو یا راجستھان میں اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ کا جھگڑا سلجھانا ہو، احمد پٹیل کی سیاسی کامیابیوں کی فہرت ہمیشہ چمکدار رہی۔ سیاست کے ہر کھیل میں وہ کانگریس کے لیے بازیگر ثابت ہوتے رہے۔ اس لیے کانگریس کے کئی لیڈروں کو لگتا ہے کہ اگر آج احمدپٹیل زندہ ہوتے تو نہ پنجاب کا جھگڑا بڑھتا، نہ جی-23کو یوں کانگریس سے منھ موڑنا پڑتا۔
دیکھا جائے تو صدر کے طور پر موازنہ میں سونیا گاندھی کی کامیابیوں اور راہل گاندھی کی ناکامیوں میں بڑا فرق یہ بھی ہے کہ راہل گاندھی ابھی تک کوئی ایسا ’احمد بھائی‘ نہیں تلاش کرپائے ہیں، جو ان کی آنکھ اور کان کا کام کرپائے۔ حالاں کہ راہل نے اس کی کوشش بہت کی، اپنے ’وفاداروں‘ کی یووا بریگیڈ بھی بنائی- جس کے لیے ممبران کے نام سبھی کو معلوم ہیں-لیکن اس بریگیڈ کی سیاسی عزائم کی چاہت راہل گاندھی کے لیے سیاسی کامیابی کی سیڑھی تیار کرنے کی ذمہ داری پر بھاری پڑگئی۔
ویسے بھی کانگریس آج جس دور میں ہے، اس کے پاس سیاست میں کامیابی کی تلاش کررہے پرعزم نوجوانوں کودینے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ حالاں کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ کانگریس کے لیے سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ کئی لوگوں کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پانچ ریاستوں میں ہار کے باوجود آج بھی پورے ملک میں کانگریس کے پاس 700 ایم ایل اے اور 20فیصد ووٹ شیئر ہیں۔ اس کے مقابلہ میں اب ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن چکی بی جے پی کے کل ایم ایل اے کی تعداد 1300کے آس پاس ہے۔ یعنی زمین پر کانگریس اتنی کمزور ہے نہیں، جتنی دہلی یا ریاستوں کی راجدھانیوں میں نظر آتی ہے۔ کافی حد تک مسئلہ قیادت میں نظر آتا ہے۔ گاندھی پریوار جیسے تیسے ہی سہی، کانگریس کو ایک رکھنے میں تو کامیاب ہے، لیکن انتخابی سیاست میں کانگریس کو اپوزیشن کی دُھری نہیں بناپارہا ہے۔ مودی حکومت کے راشٹرواد اور ترقی کی متحدہ حکمت عملی کے مقابلہ وہ کوئی قابل اعتماد ایجنڈا پیش نہیں کرپارہا ہے۔ وزیراعظم مودی کے سامنے پائیدار متبادل پیش کرنے میں پارٹی کے اندر بھٹکاؤ ہے۔ خاص طور پر اگر راہل گاندھی کو لے کر پارٹی میں ہی ایک رائے نہیں ہے، تو پھر وہ دوسری پارٹیوں کو ساتھ لے کر وزیراعظم کو ٹکر کس ’اعتبار‘ کی بنیاد پر دیں گے؟ پھر اس محاذ پر ممتابنرجی، اروندکجریوال جیسے ریاستی سربراہ بھی اپنی دعویداری جتا رہے ہیں۔ سینئر اور نوجوان لیڈران کے درمیان توازن کے تعلق سے بھی یہی صورت حال ہے۔ ایسے میں ایک باصلاحیت اور دوراندیش قیادت کانگریس کی سب سے پہلی ضرورت ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ صحت کی وجوہات کی بنا پر سونیا گاندھی زیادہ وقت تک اس ذمہ داری کو اٹھا نہیں سکتیں اور گاندھی پریوار سے باہر کی قیادت کانگریس کو ہی راس نہیں آئی ہے۔ تو کیا کوئی نئی تبدیلی کانگریس کا مزاج بن پائے گی؟
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)