اہانت رسولؐ پر حکومت خاموش کیوں؟

0

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی نے اپنی ملعون ترجمان نوپور شرما اوردہلی کے میڈیا انچارج نوین جندل کو پارٹی سے معطل کردیا ہے لیکن ان ملعونوں نے رسالت مآبؐ کی شان میں جو گستاخی کی ہے وہ مسلمانوں کے دلوں میں نیزہ بن کرچبھا ہواہے۔ حرمت نبیؐ پر جان قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والے مسلمانوں کو اس نیزے کی انی بار بار کچوکے دے رہی ہے اور یہ مطالبہ کررہی ہے کہ گستاخان رسولؐ کو قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
اپنے سینہ میں غم وغصہ کے سلگتے شعلوں کو دبائے ہندوستان کے مسلمانوں نے آج نمازجمعہ کے بعد پورے ملک میں مظاہرہ کیا۔ دہلی سے کولکاتا، دیوبند سے رانچی اور حیدرآباد تک مسلمانوں نے پرامن جلوس نکال کرملزمین کی گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر پولیس نے پرامن مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور آنسو گیس کے گولے داغے، اترپردیش کے مختلف اضلاع میں نظم و نسق کے نام پر مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ جی کے الٰہ آباد (پریاگ راج) میں تو پولیس والے مظاہرین کے سامنے رائفل لے کر کھڑے ہوگئے اور دھمکی دی کہ پیچھے ہٹ جائو نہیں تو۔۔۔‘۔ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کیلئے طاقت کا ظالمانہ استعمال کیا اور ان پر بے دریغ لاٹھی چارج بھی کیا۔مغربی بنگال میں تو مظاہرہ اور احتجاج سے قبل حکومت کا ایک الگ ہی تماشا اور منفرد نقطہ نظرسامنے آیا۔ وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے واقعہ کے12دنوںبعد ٹوئٹ کرکے ملزمین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ ضرور کیا لیکن مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا کہ انہیں احتجاج کرنا ہے تو وہ ٹکٹ خرید کر دہلی چلے جائیں اور وہاں احتجاج کریں۔ ممتابنرجی نے کہا کہ جن دو لوگوں(نوپور شرما اور نوین جندل) نے اس طرح کے ریمارکس کیے ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ ان کی اصل جگہ تہاڑ جیل ہے لیکن انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ اس کے خلاف بنگال میں روڈ جام او ر احتجاج کیوں کیاجارہاہے۔بنگال میں کسی نے ایسا بیان نہیں دیا۔ یہاں کچھ نہیں ہوا۔اس لیے جسے زیادہ مسئلہ ہے، وہ ٹرین لے کر دہلی جائے اور وہاں احتجاج کرے۔ بنگال پرامن جگہ ہے، یہاں ایسے احتجاج نہیں ہونے چاہئیں۔ غالباً وزیراعلیٰ ممتابنرجی کو ان کے قریبی مسلم رہنماؤں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ مسلمانوں کیلئے رسول اکرمؐ کی ذات پوری دنیا سے بڑھ کر افضل ہے۔ مسلمان دہلی کا ہو یا کلکتہ یا پھر مشرق وسطیٰ میں رہتاہو یا پھر افریقہ کے جنگلوں میں، نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کے خلاف زمان و مکان کا فاصلہ مٹاکر ایک ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ پر ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں بھی شدید غم و غصہ کی لہر پائی جارہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ٹوئٹر پر ’BoycottIndianProducts‘ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ سعودی عرب، قطر، کویت،متحدہ عرب امارات، ایران اور عمان سمیت دیگر مسلم ممالک نے اپنے اپنے یہاں ہندوستانی سفیروں کوطلب کرکے مذمت کی ہے اور بی جے پی ترجمانوں کے بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔عرب ممالک کے عوام اور کاروباری طبقے نبیؐ کی شان میں گستاخی کے خلاف ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔شانِ رسولؐ میں گستاخی پر سعودی عرب، ایران، کویت اور قطر نے ہندوستان کی حکومت سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستان کی سیکولر روایت کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ گستاخان نبیؐ کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتی اور مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھتی لیکن حکومت کی سطح پر اب تک نہ تو بیان آیا ہے اور نہ ہی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی ذاتی حیثیت میں ہی اس واقعہ کی مذمت میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔ گستاخان رسولؐ کو سزا دیاجانا تو دور کی بات ہے، ان ملعونوں کو پروٹوکول دیاجارہا ہے اور تحفظ کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
حکومت کی یہ حرکت ہندوستان کے مسلمانوں کے غم و غصہ کو ہوا دینے کا سبب بن رہی ہے اور عالمی سطح پربھی ہندوستان بدنام ہورہا ہے۔ اپنی جمہوری اور سیکولر پالیسیوں کی وجہ سے کبھی عالمی لیڈر رہنے والے ہندوستان کو آج دنیابھر میں سخت شرمندگی کا سامنا ہے۔ نوپور شرما اور نوین جندل کی معطلی خلیج اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دبائو میں اپنے کاروباری تحفظ کیلئے کی جانے والی ایک وقتی کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ باقاعدہ ایک منصوبہ کے تحت کچھ عرصے سے ایک کے بعد ایک اسلام اور مسلم مخالف مسائل اٹھائے جا رہے ہیں۔ کبھی رام مندر،کبھی قطب مینار اور توکبھی گیان واپی کا مسئلہ اٹھایا جارہاہے۔ شمشان -قبرستان، بیف، حجاب، 80 بمقابلہ 20 جیسے تنازعات بی جے پی نے ایک منظم طریقے سے وقفے وقفے سے پیدا کیے ہیں۔ مساجد کے سامنے ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرنا، مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر شیولنگ تلاش کرنا اور نوپورشرما اور نوین جندل کی دریدہ دہنی بھی اسی کی ایک کڑی ہے اوراسی راستے سے ہوکر ہی نریندر مودی کو دوسری بار اقتدار ملا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے توحکومت کو ان گستاخان رسولؐ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے تاکہ مسلمانوں کے سلگتے زخموں کو کچھ مرہم مل سکے۔
[email protected]