امریکہ کیلئے ہندوستان اہم کیوں ہے؟

0

دو ملکوں کے اچھے تعلقات کے لیے کئی باتیں اہم ہوتی ہیں مگر تعلقات مستحکم بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز ہے مفاد۔ ایک دوسرے سے اگر مفاد وابستہ ہو تو تعلقات خودبخود مستحکم سے مستحکم تر ہوتے چلے جاتے ہیں اوراگر ایسا نہ ہو تو تعلقات میں تلخی آنے لگتی ہے، دوست حریف بن جاتا ہے جیسے امریکہ کے لیے چین حریف بن چکا ہے جبکہ یہی چین ہے جسے اس نے کبھی سوویت یونین کے خلاف مستحکم بنانے کی کوشش کی تھی مگر اب امریکہ ہندوستان سے اپنے قریبی تعلقات کا اظہار کر رہاہے، یہ اظہار اس نے 11 فروری کو جاری ’ہند-بحرالکاہل‘ رپورٹ میں بھی کیا ہے۔ یہ رپورٹ اہمیت کی حامل اس لیے بھی ہے، کیونکہ جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد ہند-بحرالکاہل پر امریکہ کی یہ پہلی رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ سے اس خطے میں امریکہ کی ظاہری پالیسی کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق، اس وقت ہندوستان کو ’سنگین جغرافیائی چنوتیوں‘ کا سامنا ہے، یہ چنوتی خاص کر چین اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر اس کے موقف کی وجہ سے ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ ہندوستان جنوبی ایشیا اور بحر ہند میں امریکہ کا اسی نظریے کا پارٹنرہے جو نظریہ امریکہ کا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان ’جنوب مشرقی ایشیا سے سرگرم طریقے سے وابستہ ہے۔ وہ کواڈ اور دیگر علاقائی پلیٹ فارموں کے لیے محرک طاقت اور ترقی کے لیے ایک انجن کی طرح ہے۔‘ یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے کہ گزشتہ دو دہائی سے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں، اس لیے ہندوستان کے تئیں اس کی طرف سے مثبت باتوں کا اظہار ناقابل فہم نہیں ہے، البتہ حیرت اس وقت ہوئی تھی جب امریکہ نے افغان جنگ ختم کرنے کے لیے ہوئے مذاکرات سے ایک طرح سے ہندوستان کو الگ رکھا جبکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اس خطے کے ملکوں میں سب سے زیادہ رقم ہندوستان نے ہی عطیہ دی تھی اور افغانستان کے لیے عطیہ دینے والوں میں عالمی سطح پر اس کا نمبر پانچواں تھا۔ افغان جنگ کے ختم ہونے کے بعد افغانستان میں ہندوستان کا رول برقرار رکھنے میں روس نے اہم کردار نبھایا۔ اسی طرح امریکہ نے ’اوکس‘ کی تشکیل آسٹریلیا اور برطانیہ کو لے کر کرلی اور اسے ہندوستان کا خیال نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ اس خطے میں ہندوستان کو اور زیادہ مستحکم بنانے کے لیے وہائٹ ہاؤس عملی اقدامات بھی کرے گا؟
چین کے بڑھتے ہوئے دائرۂ اثر کا اعتراف امریکی لیڈروں نے بارہا کیا ہے اور امریکہ کی ’ہند-بحرالکاہل‘ رپورٹ میں بھی یہ بات کہی گئی ہے تو ظاہر ہے، ایک اچھے دوست اور پارٹنر کی حیثیت سے امریکہ کو ہندوستان کو اور زیادہ مستحکم بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اوراگر ایسی کوشش اس کی طرف سے نہیں ہوتی ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ ہندوستان کا ساتھ ضرور چاہتا ہے مگر باہمی مفاد کے لیے نہیں، صرف اپنے مفاد کے لیے، کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ یوکرین تنازع کی سنگینی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے اشارے ہیں کہ یوکرین جنگ اگر چھڑتی ہے تو چین روس کا ساتھ دے گا، ایسی صورت میں ہندوستان اگر روس کا ساتھ نہیں بھی دیتا ہے اور اگر نیوٹرل ہی رہتا ہے تو بھی روس سے نمٹنا امریکہ کے لیے آسان نہیں ہوگا جبکہ امریکہ کو غالباً یہ خدشہ ہے کہ یوکرین جنگ کے ہونے پر تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور شرقی بحیرۂ چین کے علاقوں پر چینی حملوں کا اندیشہ بڑھ جائے گا اور ان مسئلوں سے ہندوستان اگر خود کو دور رکھتا ہے تو اس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا، وہ اس خطے میں دائرۂ اثر باقی نہیں رکھ پائے گا۔
امریکہ کے ساتھ کی اہمیت ہندوستان کے لیے ہے مگر روس کو نظرانداز کر کے یا اس کے خلاف جاکر نہیں۔ گلوان تنازع سے ہندوستان اپنے دم پر نمٹا ہے، آگے بھی اسے اپنی ہی طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ چین موقع سے فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، اس کی توسیع پسندی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اس لیے یوکرین تنازع کے مدنظر ہر قدم محتاط رہ کر اٹھانا ہوگا تاکہ کیوبن کرائسس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے جیسے اس پر 1962 میں حملہ کیا تھا، ایسا نہ ہو کہ یوکرین جنگ کے چھڑنے پر وہ ایسی ہی کوئی مذموم حرکت کرے اور جارحیت کے دائرے کو گلوان سے آگے تک بڑھا دے، اس لیے ہندوستان کو خود کو زیادہ مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے لیے امریکہ کا ساتھ بھی ضروری ہے۔
[email protected]