جیل میں بند شخص ووٹ کیوں نہیں دے سکتا؟ مرکزاور الیکشن کمیشن سے جواب طلب

0
www.dnaindia.com

نئی دہلی(ایجنسیاں) :سپریم کورٹ نے عوامی نمائندگی ایکٹ کی ایک شق کے جواز کو چیلنج کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضیپر مرکزی حکومت
اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس ادے امیش للت، جسٹس ایس. رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے وزارت
داخلہ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیاہے۔ کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ زہیب حسین درخواست پر دلائل دے رہے تھے۔
پی آئی ایل نیشنل لا یونیورسٹی کے طالب علم آدتیہ پرسنا بھٹاچاریہ نے دائر کی ہے۔ یہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 62(5) کے آئینی جواز
کو چیلنج کیاہے، جو جیل میں بند شخص کو انتخابات میں ووٹ دینے سے روکتا ہے۔ بنچ نے پی آئی ایل پرآگے کیسماعت کے لیے 29 دسمبر کی
تاریخ مقرر کی ہے۔
عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 62(5) کے مطابق جو شخص عدالتی حکم سے قید یا پولیس کی حراست میں ہے اسے ووٹ دینے کا
حق نہیں ہے۔ ایسے افراد صرف اسی صورت میں ووٹ ڈال سکتے ہیں جب انہیں حکم امتناعی کے تحت حراست میں لیا گیا ہو۔ صرف زیر حراست
شخص کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے۔ 2019 میں، پروین کمار چودھری بنام الیکشن کمیشن میں دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھاکہ
ووٹ ڈالنے کا حق قانونی حق ہے اور ایک قیدی انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکتا۔ عدالت نے کہاتھا کہ ووٹ کا حق جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے،
لیکن اس حق سے بعض بنیادوں پر انکار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہہ کر عدالت نے دفعہ 62(5) کو درست قرار دیاتھا۔