کیوں بڑھ رہی ہیں ہندوستان میں تیل کی قیمتیں

0
Image: India Tv News

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔پندرہ دنوں میں اب تک ایک لیٹر پر 9.3روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔تیل کی قیمتوں میں ابھی اوراضافہ ہوگا، کیونکہ تیل کی تقسیم اور تجارت سے وابستہ کمپنیا ںعالمی مارکیٹ میں کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ اپنی قیمتیں بڑھاتی ہیں۔ماہرین کی رائے ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اگر ایک بیرل پر ایک امریکی ڈالر کا اضافہ ہوتاہے توہمارے ملک میں ایک لیٹر پٹرول پر 0.50سے 0.80پیسے بڑھتے ہیں۔خیال رہے کہ 4نومبرسے کچے تیل کی قیمت فی بیرل 28.4روپے سے بڑھ کر 108.9 ہوگئی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آگے چل کرپٹرول کی قیمتوں میںمجموعی اضافہ بڑھ کر ساڑھے پانچ روپے سے لے کر پانچ روپے80پیسے تک ہوسکتاہے۔ ہندوستان میں پٹرولیم منصوعات میں اضافہ کو پانچ ریاستوں کے انتخابات کے پیش نظر موقوف کردیاگیا تھا۔ یعنی 137دن تک پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہی نہیں تھا۔آئی سی آر اے کے وائس پریسیڈنٹ پرشانت کاکہناہے کہ جب کچے تیل پر فی بیرل ایک ڈالر اضافہ ہوتاہے توایک لیٹر پٹرول یا ڈیژل پر 60روپے اضافہ کرتاہے۔ اگرچہ عالمی بازار میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی مار عام آدمی پر نہ پڑے اس کے لئے حکومت ہند پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی محصولات کو کم کرچکی ہے۔ عام آدمی کوراحت دینے کے لئے پچھلے سال پٹرول اور ڈیژل کی ایکسائز ڈیوٹی میں تخفیف کی گئی تھی۔یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ عالمی وبا سے قبل جو ایکسائز ڈیوٹی ڈیژل اور پٹرول پر تھی وہ موجود ڈیوٹی کے مقابلے میں پٹرول پر 8روپے اور ڈیژل پر 6روے فی لیٹر کم تھی۔دہلی میں پٹرولیم مصنوعات پر مجموعی ریاستی اور مرکزی ٹیکس کی شرح پٹرول پر 43فیصد ہے اور ڈیژل پر 37فیصد ہے۔