خواجہ عبدالمنتقم: بھارت کے آئین کی نظر میں کس کی کتنی اوقات؟

0

خواجہ عبدالمنتقم

کچھ عرصہ سے لفظ اوقات کو اس کی اوقات دکھانے کا جوسلسلہ جاری ہے اس سے ہمارے معاشرہ میں اس ذو معنی لفظ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اوقات سے مرادہے کسی کی معاشرے میں حیثیت یا رتبہ۔دوسری جانب یہ لفظ وقت کی جمع ہے۔ اگر ان دونوں معانی کی روشنی میں کسی کی اوقات کا اندازہ لگانا ہو تو وہ اوقات موافق و ناموافق کے حوالے سے بھی لگائی جا سکتی ہے۔موافق اوقات میں تو تابندگی و درخشندگی ہی نظر آتی ہے اور ناموافق اوقات میں تو سایہ بھی جدا ہوتا ہے انساں سے۔اگر ہم ماضی میں جائیں تو ہم کسی کی حیثیت کا اندازہ ’پدرم سلطان بود‘ جیسی کہاوت کے حوالے سے لگا سکتے ہیں اور اگر ہمیں اس کا اندازہ حال کی صورت حال کے حوالے سے لگانا ہو تو ہمیں اس کہاوت یا مقولہ کو بدل کر ’پدرم سلطا ن است‘ کی شکل دینی ہوگی۔کسی جمہوری نظام میں ’سلطان است‘ کادرجہ تو صرف اور صرف کسی ملک کے آئین کو ہی حاصل ہوتا ہے۔اس کے سامنے سب کی اوقات کمتر ہے چونکہ عوام، مقننہ، عدلیہ اور عاملہ سب کو اس کی حدود میں رہ کر ہی ہر کام کرنا ہوتا ہے۔
ہمارے آئین کی تمہید(preamble) کا آغاز’ہم بھارت کے عوام‘ الفاظ سے ہوتا ہے۔بھارت کے عوام کے لیے بلاکسی تفریق کے لفظ’ہم‘ استعمال کیاگیا ہے۔ بھارت کا آئین اتنا کمزور نہیںکہ لفظ ’ہم‘اتنی آسانی سے ’میں اور تم‘ میں بدل جائے۔ آئین یا کسی بھی قانون میں عوام کی تعریف مذہب کے حوالے سے نہیں کی گئی ہے اور نہ اس بات کا کہیں حوالہ ہے کہ native کون ہے اور کون نہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ایسے ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور اس کے شہری ہیںجہاں شہریوں(بشمول اقلیتوں)کویوروپی یونین کی طرحindigenousیا non-indegenousنہیںکہاجاتا۔ہمارے آئین کی دفعہ14نہ صرف ہمارے ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق عطا کرتی ہے بلکہ یہ توہمارے ملک میں مقیم غیر ملکیوں تک کو بھی کچھ شرائط کے تابع یہی حقوق عطا کرتی ہے۔
ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ہم سب کا باعث فخر و باعث قدر ورثہ ہے۔ جس دور میںہزارہا سال پرانی یہ تہذیب وجود میں آئی تھی اس وقت تو شاید این ڈی اے جیسی اصطلاح بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔آئین کی دفعہ 51الف کے تحت اور اخلاقی اعتبار سے بھی ہمارا یہ بنیادی فرض ہے کہ ہم آئین پر کاربندر ہیں،ملک کی ملی جلی ثقافت کی قدر کریں اور اُسے برقرار رکھیں ، مذہبی ، لسانی ، علاقائی وطبقاتی تفرقا ت سے قطع نظر بھارت کے عوام الناس کے مابین یک جہتی اور عام بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دیں۔ہاں! بھائی اگر نالائق ہوتواس سے ضرور ڈرنا چاہئے، نالائق تو کسی بھی فرقہ میں ہو سکتا ہے۔کیا ایک فرقہ کے لوگ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے ۔ کیا کسی ہندو پیاؤ یا سبیل پر پانی پلاتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ پیاسے کا مذہب کیا ہے؟کیا گرو دوارے میں غرباء کو کھانا کھلاتے وقت ان کا مذہب پوچھا جاتا ہے ؟پیار محبت،بھائی چارہ ، اعلیٰ ظرفی اور جذبۂ یگانگت کسی فرقۂ مخصوص کی جاگیر نہیں۔ ہر فرقہ میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اور سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا نہیں جا سکتا۔مگر ہمارے سماج میں ایسے چند لوگ موجود ہیں جومذہب، نسل، جائے پیدائش، سکونت، زبان وغیرہ کی بناء پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے اوربدظنی کے جذبات بڑھا نے اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ اب ضرورت ہے ہر اس شخص کی بات سننے کی جو پیار محبت کی بات کرے مگر اپنی ترجیحات کا اظہار اس طرح نہ کرے کہ اس سے کسی کی دل شکنی ہو۔ ہم تو اس ملک کے شہری ہیں جو اپنے دشمنوں سے بھی دوستی کا خواہاں رہا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ہم نے تو آئین میں دفعہ51 شامل کرکے اور اسے مملکت کی حکمت عملی کے ہدایتی اصولوں میں شامل کر کیقوموں کے درمیان منصفانہ اورباعزت تعلقات قائم رکھنے اور بین الاقوامی تنازعات کو ثالثی کے ذریعے طے کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔پھر عوام کے مختلف طبقات میں نسلی امتیاز کی بات کیوں کی جائے؟
اگر ان دونوں فرقوں نے آپسی میل جول،محبت، باہمی یگانگت اور اتحاد کی اہمیت کو بروقت سمجھ لیا ہوتا اور ان میں سے کچھ نے تعصبانہ روش اختیار نہ کی ہوتی اور تنگ نظری سے کام نہ لیا ہوتا تو ملک ہی تقسیم نہ ہوتا اورہمارے ملک سے فرقہ واریت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکی ہوتی یا کم از کم ،کم ضرور ہو گئی ہوتی اور بہت سے ایسے مسائل جنہیں فرقہ وارانہ وسیاسی رنگ دے دیا گیا وجود میں بھی نہیں آتے اور نہ جانے کتنے لوگوں کو نئی زندگی ملی ہوتی اور ملک کی خوش حالی میں کتنا اضافہ ہوا ہوتا۔ بھارت ایک ایسا وسیع اور عریض ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ زبانیں بولنے والے صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ انسان دوستی، رواداری اور آپسی بھائی چارہ اس کی وراثت ہے۔ ویسے تو تمام فرقوں میں ہی مکمل اتحاد کی ضرورت ہے مگر ہم یہاں صرف دوفرقوں کی بات اس لیے کررہے ہیں کہ ہندو یہاں کاسب بڑا اکثریتی فرقہ ہے تو مسلمان سب سے بڑا اقلیتی فرقہ۔
ہرسچا ہندوستانی اس واحد سوچ کاحامل ہے کہ اسے اسی ملک میں جینا ہے اور اسی ملک میں مرنا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر رہیں اور ملک و عوام کی بقا اور خوش حالی میں برابر کے شریک ہوکر ملک کے باعزت شہریوں کی طرح زندگی گزاریں اور ملک کی مٹی کی حیثیت سربفلک کا پورا پورا احترام کریں۔بقول برج نرائن چکبست:
مٹی ہیں گل جو اور کسی بوستاں کے ہیں
کانٹے عزیز گلشن ہندوستاںکے ہیں
اس شعر کا جذبہ یقینی طور پرہر محب وطن ہندوستانی کے جذبۂ حب الو طنی کی عکاسی کرتا ہے مگرپہلے مصرعہ کے بارے میں ہمیں اپنی سوچ میںتھوڑی سی تبدیلی لانی ہوگی۔آج انسانی حقوق کو آفاقی حیثیت حاصل ہوچکی ہے اور اس گلوبل ولیج میں ہر ملک ایک دوسرے کا پڑوسی ہے اور ہر ملک اور ہر چمن میں کھلنے والاپھول ہم سب کا ہے۔اس لیے اب ہم کسی دیگر ملک کے پھول کو محض مٹی کہہ کراس کی اہمیت کم نہیں کرسکتے ۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں گلشن ہند کے کانٹے بھی اتنے ہی عزیز ہیںجتنے اس کے پھول۔اس کے ہر پھول کی خوشبو ہم سب کو فرحت بخشتی ہے اور اس کے ہرکانٹے کی چبھن ہم سب محسوس کرتے ہیں۔دریں صورت سب کی اوقات یکساں ہے۔البتہ کسی بھی غیر ذمہ دار اور ملک و عوام دشمن کی اوقات وہ نہیں ہو سکتی جو کسی ذمہ دار اور حب الوطن شہری کی ہوتی ہے۔ انگریزی مقولہ ہے کہ جب تک اناج سے بھوسا (chaff from the grain)نہیں نکالا جاتاتب تک اناج کی صحیح شکل نظر نہیں آ تی۔ اسی طرح اگر شرارت پسند عوامل کو کھلی چھوٹ دے دی جائے توہم کس طرح ایک مہذب قوم ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں جبکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بد امنی اور جنگ و جدل کی صورت حال کے مد نظر ہم یقینی طور پر یہ دعویٰ کرنے کے حقدار ہیں کہ ہم ایک مہذب قوم ہیں۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]