ہوا صاف کرنے کا سفید ہاتھی: اسماگ ٹاور

0

پنکج چترویدی

آنند وہار دہلی کے سب سے آلودہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ کبھی کبھار یہاں ایک ٹینکر گھومتا ہے جو فوارے جیسا پانی چھڑکتا ہے۔ اب تو یہاں بھی اسماگ ٹاور لگ گیا ہے لیکن یہاں گھٹتے دم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ آئے بھی کیسے؟ یہاں صبح ساڑھے سات بجے سے ہی 6 لین والے روڈ پر اترپردیش روڈویز کی بسوں، دہلی کی کلسٹر بسوں، تین پہیہ اور ٹیکسیوں کا بے ترتیب انبار اور جام ہوتا ہے۔ رکشہ بندھن کے دن یہاں چالیس منٹ سے زیادہ کا اسٹاپیج ٹائم تھا۔ کسان تحریک کی وجہ سے میرٹھ ایکسپریس وے ہنڈن پار کی رہائش گاہوں کے لیے بند ہے، لہٰذا کوئی 35 لاکھ آبادی کا دہلی کی طرف جانے کا راستہ یہی ہے۔ صبح سے ہی جام، بسوں کا دھواں اور شور و غوغا۔ یہاں کوئی 20 کروڑ لاگت کے دہلی کے دوسرے اسماگ ٹاور کا کام چل رہا ہے۔
یہ ماحولیات سے نبردآزما ہونے کی ہماری پالیسی کا مضحکہ خیز چہرہ ہے کہ جب ضرورت آلودگی کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کی ہے تو بڑھی ہوئی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مشینوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ 23 اگست، 2021 کو کناٹ پلیس میں پہلا اسماگ ٹاور لگ گیا جس پر 23 کروڑ روپے کا خرچ آیا ہے۔ اسے چلانے اور اس کی دیکھ بھال پر جو خرچ ہوگا وہ الگ۔ فضائی آلودگی سے نبردآزما ہونے کا محض دکھاوا کرنا یا آدھی ادھوری کوشش کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس کا اشارہ حال ہی میں شکاگو یونیورسٹی کے اینرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی وہ رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی ایک چوتھائی آبادی آلودگی کی دنیا کی سب سے خراب سطح جھیل رہی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اگر ہوا کو صاف کرنے کی کامیاب کوشش نہیں کی گئی تو دہلی والوں کی عمر 9.7 سال تک کم ہو جائے گی۔ وہیں اترپردیش میں خراب آلودگی سے 9.5 برس تو بہار میں 8.8 سال عمر کم ہو سکتی ہے جبکہ ہریانہ اور جھارکھنڈ کے لوگوں کی عمریں بالترتیب 8.4 سال اور 7.3 سال تک کم ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، آلودگی کی یہی سطح برقرار رہی تو آندھراپردیش میں 3.3 سال، آسام میں 3.8 سال، چنڈی گڑھ میں 5.4 سال، چھتیس گڑھ میں 5.4 سال، جھارکھنڈ میں 7.3 سال، گجرات میں 4.4 سال، مدھیہ پردیش میں 5.92 سال، میگھالیہ میں 3.65 سال، تریپورہ میں 4.17 سال اور مغربی بنگال میں 6.73 سال عمر کم ہو سکتی ہے۔ انسان کی عمر کا کم ہونا، اس کی صحت ٹھیک نہ ہونا اور علاج پر خرچ ہونا سیدھے سیدھے ملک کی ترقی کی رفتار اور معاشی نظام کے لیے رکاوٹ ہے۔
ہندوستان نے ہی نہیں ساری دنیا نے کووِڈ کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن کے دوران سمجھ لیا کہ ہوا کو صاف رکھنا ہے تو فضائی آلودگی کے اخراج کے ذرائع کی سطح پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ آنندوہار کی مثال یہ ہے کہ اگر گھر کی بالٹی بہہ رہی ہو تو نل بند کرنے کی جگہ پونچھا لگایا جائے۔ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ چین کا سب سے اونچا اسماگ ٹاور ہو یا لندن کی نائٹروجن جذب کرنے والی مینار، ایک ہی سال میں پتہ چل گیا کہ یہ تجربے اتنے کامیاب نہیں ہیں جتنا ان کا شور ہوتا ہے۔ 2020 میں ایم ڈی پی آئی کے لیے کی گئی ایک ریسرچ ’کین وی ویکیوم اَور ایئر پولیوشن پرابلم یوزنگ اسماگ ٹاور‘ میں سرتھ گٹّی کنڈا اور پوجا جواہر نے میتھ، کیمسٹری اور فزیکس کے اصولوں سے الگ الگ بتایا ہے کہ چونکہ فضائی آلودگی کی نہ تو کوئی حد ہوتی ہے اور نہ ہی سمت، لہٰذا دہلی قومی راجدھانی خطے (غازی آباد، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، فریدآباد، گروگرام اور روہتک) کے 7 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں کچھ اسماگ ٹاور بے اثر ہی رہیں گے۔

چین میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سب سے زیادہ مقبول ذریعہ سب وے یا میٹرو ہے اور اس کی کسی بھی لائن پر کتنا بھی لمبا سفر کرنے کے لیے صرف دو یوآن ادا کرنے ہوتے ہیں۔ طلبا کو کارڈ دکھانے پر آدھی چھوٹ ملتی ہے۔ ٹکٹ کھڑکی بھی آٹومیٹک ہے، اپنی کرنسی ڈالو اور دو یوآن کا ٹکٹ لے لو۔ کاش! آلودگی کو کنٹرول کرنے والا ٹاور لگانے سے پہلے ہم اپنے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو درست کرنے کے بارے میں سوچتے۔

اس بات کو اصولی طور پر قبول کرنا ہوگا کہ راجدھانی کے حالات اتنے خراب ہیں کہ یہاں فضائی آلودگی سے نمٹنے والی تکنیک سے زیادہ روک تھام کی تکنیک کی ضرورت ہے۔ زہریلی ہوا کو صاف کرنے کے پلانٹ لگانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہوا کو آلودہ کرنے والی وجوہات پر کنٹرول ہو۔ ملک کی راجدھانی کے گیس چیمبر بننے میں 43 فیصد ذمہ داری دھول مٹی اور ہوا میں اڑتے درمیانے سائز کے دھول کے ذرّات کی ہے۔ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل (سی ایس آئی آر) اور سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے حال ہی میں دہلی کی سڑکوں پر کیا گیا سروے بتاتا ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر مسلسل جام اور گاڑیوں کے رینگنے سے گاڑیاں ڈیڑھ گنا زیادہ ایندھن پی رہی ہیں اور اتنا ہی زیادہ زہریلا دھواں ہوا میں شامل ہو رہا ہے۔ لاکھوں گاڑیوں کے چلنے سے ٹائروں کے گھسنے، بیٹری کے چلنے اور آٹو پارٹس کی گھسائی سے سب سے زیادہ زہریلے باریک ترین (پی ایم2.5 سے کم سائز) کے ذرّات ماحولیات کی نچلی سطح میں، جہاں انسان سانس لیتا ہے، اپنا گھنا بسیرا بنارہے ہیں۔
15 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے جب کہا تھا کہ چین کی طرح بڑے ایئر پیوریفائر لگائے جائیں، سرکاری سسٹم فوراً متفق ہوکر سرگرم ہو گیا۔ ڈچ دان روسے گارڈ کے ذریعے 2015 میں بنائے گئے اور 2016 میں پیچنگ کے ایک صنعتی علاقے میں نصب کیے گئے دنیا کے سب سے اونچے (کوئی 100 میٹر) ٹاور کی بڑی چرچا ہے۔ یہ شمسی توانائی سے چلتا ہے اور اپنے آس پاس کے 100 کلومیٹر دائرے کے پی ایم-10 اور پی ایم-2.5 کو نگل لیتا ہے۔ حالانکہ دو سال بعد ہی یہ ٹاور تشہیر کا ذریعہ تو رہ گئے لیکن ہوا کو صاف کرنے کے لیے وہاں کے انتظامیہ نے چار سال کا ایک جنگی پیمانے کا منصوبہ بنایا تھا، جس میں ٹریفک مینجمنٹ، کاربن کے اخراج کو کم کرنا، ہریالی میں اضافہ وغیرہ کے سخت اقدامات تھے۔ بدقسمتی ہے کہ ہم کناٹ پلیس کو بغیر گاڑیوں کا علاقہ بنانے کے لیے تیار نہیں اور ایک ٹاور کی بدولت وہاں صاف ہوا میں سانس لینے کا ’مونگیری لال کا سپنا‘ دکھا رہے ہیں۔ وسطی دہلی کی بھیڑ سارے دن گاڑیوں کو رینگنے پر مجبور کرتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ لاکھوں کی بھیڑ کی جگہ پرگتی میدان کی تعمیر نو اسی جگہ کی جا رہی ہے، اس میں بھیڑ کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا کر۔ وہیں پیچنگ کے وسطی شہر میں واقع بین الاقوامی نمائش کی جگہ جب جام کی وجہ بننے لگی تو 2012 میں وہاں ایئرپورٹ کے پاس بڑا نمائش میدان بنایا گیا، ہمارے پرگتی میدان کی طرح۔ پہلے وہاں چوڑی سڑکیں بنیں، شاپنگ مال اور بین الاقوامی سطح کے ہوٹل بنے، سب وے (میٹرو) کی لائن نمبر 15 شروع کی گئی، اس کے بعد سبھی بین الاقوامی نمائشیں وہاں لگنے لگیں جبکہ ہمارے یہاں گریٹر نوئیڈا میں ایکسپوبنے کئی سال ہوگئے لیکن وہاں نمائش جانے کو راضی نہیں ہیں۔ دہلی میں ہم سبھی کچھ بیچ شہر میں ہی بناتے جا رہے ہیں- نیا پرگتی میدان بھی، وار میموریل بھی اور نیا پارلیمنٹ ہاؤس بھی۔
دہلی میں کچھ کلومیٹر کا بی آر ٹی کوریڈور دو سال میں ہی توڑ دیا گیا جبکہ پیکنگ میں 800 روٹوں پر بسیں چلتی ہیں۔ کچھ بسیں تو دو کیبن کو جوڑ کر بنائی گئی ہیں یعنی ہماری لوفلور بس سے دوگنی بڑی لیکن کمال ہے کہ کہیں موڑ پر ڈرائیور اٹک جائے۔ ان بسوں میں کرایہ بہت کم ہوتا ہے اور آٹومیٹک ٹکٹ کی سہولت اور اسمارٹ کارڈ سسٹم ہے۔ ان بسوں میں تین دروازے ہوتے ہیں- چڑھنے کے لیے صرف بیچ والا اور اترنے کے لیے آگے اور پیچھے دو دروازے۔ پرانے پیکنگ میں جہاں سڑکوں کو چوڑا کرنا ممکن نہیں تھا، بسیں میٹرو کی طرح بجلی کے تار پر چلتی ہیں۔ اس کے لیے الگ سے کوئی لین تیار نہیں کی گئی ہے۔ ایک تو بس کی رفتار طے کر دی گئی ہے، پھر سر پر لگے بجلی کے ہینگر سے چل رہی ہے، اس لیے ادھر ادھر بھاگ نہیں سکتی۔ اگر بی آر ٹی، میٹرو، مونو ریل پر اتنی رقم خرچ کرنے کے بجائے بسوں کو بجلی سے چلانے کے بارے میں سوچا گیا ہوتا تو ہمارے شہر زیادہ آسانی سے چلتے نظر آتے۔ چین میں پبلک ٹرانسپورٹ کا سب سے زیادہ مقبول ذریعہ سب وے یا میٹرو ہے اور اس کی کسی بھی لائن پر کتنا بھی لمبا سفر کرنے کے لیے صرف دو یوآن ادا کرنے ہوتے ہیں۔ طلبا کو کارڈ دکھانے پر آدھی چھوٹ ملتی ہے۔ ٹکٹ کھڑکی بھی آٹومیٹک ہے، اپنی کرنسی ڈالو اور دو یوآن کا ٹکٹ لے لو۔ کاش! آلودگی کو کنٹرول کرنے والا ٹاور لگانے سے پہلے ہم اپنے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو درست کرنے کے بارے میں سوچتے۔
آج ضرورت دہلی میں فضائی آلودگی پھیلانے والی وجوہات پر سختی سے کنٹرول کرنے کی ہے، نہ کہ ہوا کے زہرآلود ہو جانے کے بعد اسے صاف کرنے کی۔ جب تک شہر کی بھیڑ کم کرنے اور گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے پر کام نہیں ہوگا، اسماگ ٹاور ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here