کسانوں سے جڑی وائرل تصویر کاسچ، کہاں کی تصویر اور کہاں کا معاملہ؟

0
Image: Alt news

نئی دہلی (ایجنسی)28 اگست کو ہریانہ کے کرنال ضلع میں کسان احتجاج پر لاٹھی چارج گیا گیا۔ اس دوران ایک کسان کی موت بھی ہوگئی تھی۔ اس لاٹھی چارج کی تصویر شیر کرتے ہوئے ہریانہ انتظامیہ کی تنقید کی جارہی ہے۔ان سب کے درمیان سوشل میڈیا پر ایک تصویر کافی شیئر کی جارہی ہے۔ اس تصویر میں ایک شخص کے سر پر گہری چوٹ لگی ہے۔ اس کے سرپر ٹانکنے لگے ہوئے دکھ رہے ہیں۔کانگر یس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہ تصویر اسی دعوے کے ساتھ ٹیوٹ کی تھی کہ ایک کسان کی ہے۔ فی الحال یہ ٹیوٹ ڈلیٹ کردیا گیا ہے۔ لیکن ٹیوٹ کا آرکائیو ورژن دیکھ سکتے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے بھی اسی دعوی کے ساتھ یہ تصویر شیر کی تھی۔ ان کے علاوہ کانگریس اقلیتی کمیشن کے قومی چیئر مین اور مشہور شاعر عمران پڑتاپ گڑھی نے اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے فوٹو شیئر کیا تھا۔ ان کے علاوہ متعدد لوگوں نے یہ تصویر شییر کیا تھا۔
فیکٹ چیک:
زی نیوز کے کرائم اینڈ انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے ایڈیٹرجیتندر شرما نے وائرل تصویر کے ساتھ تین اور تصاویر ٹویٹ کیں۔ انھوں نے ٹویٹ میں بتایا کہ یہ تصویر کرنال میں کسانوں پر کیے گئے لاٹھی چارج سے نہیں جڑی ہے۔ ان کے مطابق یہ تصاویر گئو رکشک ٹنکو کی تھی جسے 24/25اگست کی رات چوٹ لگی۔ اس کے علاوہ ہمیں 26 اگست کی ایک فیس بک پوسٹ میں بھی وائرل تصویر ملی۔ پوسٹ کے مطابق گرو گرام میں گائے کے اسمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے کچھ گئورکھشک گھائل ہوگئے تھے۔ یہ تصویریں اسی حادثے کی بتائی گئیں۔ غور کریں کہ کرنال میں کسانوں پر لاٹھی چارج 28 اگست کو ہوئی تھی،جب کہ یہ تصویر اس حادثے سے پہلی ہی شیئر کی جاچکی ہے۔ مطلوبہ تلاش کے دوران گروگرام نیوز کی 25 اگست کی ویڈیو رپورٹ ملی۔ کیپشن کے مطابق “گائے اسمگلروں کی دہشت گزشتہ رات گروگرام کے اُلاواس گاؤں کے قریب دیکھی گئی جہاں انہوں نے پیچھا کرنے والے رکشک کی چلتی گاڑی پر ایک گائے پھینک دی۔ گائے اسمگلر بھاگ گئے۔

مزید یہ کہ اس پورے معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے آلٹ نیوز نے گاؤ رکشا ہندو دل اور بی جے پی سے وابستہ قومی صدر وید نگر سے بات کی۔ وائرل تصویر دیکھ کر اس نے بتایا کہ یہ تصویر گائے کے ایک محافظ کی ہے جو کہ گروگرام میں گائے کے اسمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے زخمی ہوا تھا۔ اس نے بتایا “اس لڑکے کا نام ٹنکو ہے۔ وہ گو رکشا دل گروگرام کے جنرل سکریٹری ہیں۔

پورے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے وید نے کہا 25 اگست کی رات گائے کے محافظوں کو خبر ملی کہ کچھ لوگ گائے کو چھین رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے گاؤ رکشکوں نے معاملے پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ جب اس نے گائے اسمگلروں کی گاڑی کا پیچھا کرنا شروع کیا تو گائے اسمگلروں نے اس پر حملہ کردیا۔ اس دوران گائے کے محافظوں کے سامنے ایک گائے پھینکی گئی جس کی وجہ سے ان کی گاڑی الٹ گئی۔ اس واقعہ میں گائے کے چوکیداروں میں سے 3 افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ ہم نے اس معاملے میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔ اور پولیس نے گائے اسمگلروں کو ایک ہفتے کے اندر پکڑنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس وقت گائے کے 3 محافظ (رکشک)زیر علاج ہیں۔ آج تک نے اس تصویر کے بارے میں فیکٹ چیک رپورٹ بھی شائع کی ہے۔ مجموعی طور پر گروگرام میں گائے اسمگلروں کا پیچھا کرتے ہوئے زخمی ہونے والے ایک’گورکشک‘کی تصویر کو کرنال میں کسان مظاہرین پر لاٹھی چارج کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جارہا تھا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here