بی جے پی کے گڑھ میں کہاں کھڑی ہے کانگریس…؟

0
Image:thequint.com

عارف شجر(حیدرآباد)

گجرات اسمبلی الیکشن اور دہلی کاایم سی ڈی الیکشن کے انتخاب کی تاریخوں کا اعلان ہوچکا ہے لیکن سیاسی میدان میں کانگریس اتنی سست مہری کیوں دیکھا رہی ہے اس بات کو لے کرزیادہ تر سیاسی قائدین اور رائے دہندگان فکر مند نظر آ رہے ہیں، اگر ہم گجرات کی بات کریں تو انتخابی مہم میں کانگریس تیسرے نمبر پر دکھائی دے رہی ہے جس کا بار بار ذکر سیاسی ماہرین نے بھی کیا ہے، جبکہ سابقہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے بی جے پی کو براہ راست ٹکر دیا تھا آخر اس بار کیا ہوا کہ کانگریس نے گجرات کو لے کر زیادہ سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ہے کہا یہ جا رہا ہے کہ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے لئے کھلا میدان دے دیا ہے کانگریس کا زیادہ تر فوکس ہماچل پردیش کے انتخاب میں ہے مانا یہ جا رہاہے کہ کانگریس کا ہماچل پردیش میں کامیاب ہونے کی قوی امید ہے لیکن سب کی نگاہیں گجرات اسمبلی انتخابات کو لے کر ٹکی ہوئی ہیں، کیوں کہ یہ خطہ پی ایم مودی کے لئے وقار کا ہے بی جے پی ہر حال میں اس ریاست میں اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑنا چاہے گی اور اسکے لئے بی جے پی نے گجرات اسمبلی الیکشن کی تاریخوں کے اعلان سے قبل ہی سرگرمی دیکھانی شروع کر دی تھی یہی نہیں عام آدمی پارٹی نے بھی پورے دم خم کے ساتھ میدان میں نظر آ رہی ہے لیکن جو قومی پارٹی نظر نہیں آرہی ہے وہ ہے کانگریس، کانگریس نے ابھی تک کوئی بڑا نتخابی عوامی جلسہ نہیں کیا ہے جس سے اس بات کا علم ہو جائے کہ وہ انتخابی میدان میں برقرار ہے۔ سیاسی ماہرین بھی تعجب میں ہیں کہ گجرات جیسی ریاست کو کانگریس کیوں نظر انداز کر رہی ہے، کچھ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی کا پورا فوکس ریاست نہیں بلکہ مرکز پر ہے یعنی 2024 کے عام انتخابات میں وہ جیت کا بگل پھونکنے والی ہے اس لئے راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے بڑے قائدین گجرات اسمبلی میں زیادہ فوکس نہیں دے رہے ہیں۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ کانگریس دہلی میں ایم سی ڈی کے الیکشن میں بھی کوئی سرگرمی نہیں دکھا رہی ہے۔دارالحکومت دہلی میں 15 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس کو لے کر چرچہ کا بازار گرم ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے لیڈر کانگریس کو ڈبونے میں لگے ہوئے ہیں۔ دراصل، ایک طرف کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی ملک کی ہر ریاست میں بھارت جوڑو یاترا نکال رہے ہیں تاکہ وہ پارٹی کو مضبوط کر سکیں، وہیں دوسری طرف انتخابات کی وجہ سے جلسے شروع ہو چکے ہیں، لیکن کانگریس کے بڑے لیڈر غائب ہیں۔انتخابات کے اعلان کے بعد سے دہلی کانگریس میں دو بار ایگزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی تھی، لیکن دونوں بار کانگریس کے سابق رہنما اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ اس کو اتفاق ہی سمجھیںورنہ کانگریس لیڈر واقعی نہیں چاہتے کہ کارپوریشن انتخابات میں پارٹی جیتے۔ کیونکہ دہلی کانگریس کی قیادت شاید نہیں چاہتی کہ موجودہ ریاستی صدر کی قیادت میں کانگریس مضبوطی سے الیکشن لڑے اور جیتے۔
شیلا دکشت کے صدر کے عہدہ سے مستعفی ہونے کے بعد دہلی کانگریس کی کمان انیل کمار چودھری کو سونپی گئی تھی2020 میں جب یہ کمان سونپی گئی تب سے لے کر آج تک انیل چودھری ہی کانگریس کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں لیکن چودھری سے اجئے ماکن، اروند سنگھ لولی، سبھاش چوپڑا، راجیش لیلوٹھیا، سندیپ دکشت ناخوش چل رہے ہیں اور یہ قائدین آہستہ آہستہ کنارہ کشی بھی اختیار کر رہے ہیں عالم یہ ہے کہ نہ تو کورونا کے وقت میں اور نہ کسی مظاہرے میں کانگریس کی لیڈر شپ زیادہ تر نظر آ تی ہے واحد انیل چودھری کانگریس کا جھنڈا اٹھا کر لڑائی لڑ رہے ہیں، کہا یہ جا رہا ہے کہ انیل چودھری نے بھی کبھی بڑے اور قد آور لیڈروں سے نہ تو بات کی اور نہ ہی انہیں جو اہمیت دینی چاہئے تھی وہ دیا جس سے دہلی کانگریس کی قیادت پوری طرح لڑکھڑا گئی ہے سوال یہ ہے کہ دہلی میں کارپوریشن کاا نتخاب آئندہ چند دنوں میں ہونے والے ہیں ، حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی پوری مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اس کے علاوہ 15سال تک ایم سی ڈی کی کرسی پر قابض بی جے پی ہر قیمت پر انتخابات میں عام آدمی پارٹی کوشکست دینے میں لگی ہوئی ہے لیکن یہ دونوںہی پارٹی کانگریس کو کسی پائیدان پر کھڑ انہیں مانتے کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں جانتی ہیں کہ دہلی کانگریس کی لیڈرشپ پارٹی کے صدر کے ساتھ نہیں کھڑی ہے اگر پارٹی کے لیڈر ہی ساتھ نہیں کھڑے ہیں تو کانگریس دہلی کارپوریشن کے انتخاب میں کہاں کھڑ ی ہے ٰ اس کا اندازا بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ یہ کہاجا سکتا ہے کہ دہلی ایم سی ڈی ا نتخاب میں صرف بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے بیچ براہ رست ٹکر ہے ویسے پنجاب کے اسمبلی الیکشن کے بعد سے ہی عام آدمی پارٹی نے دہلی کارپوریشن کو مدعا بنانا شروع کر دیا تھا عام آدمی پارٹی بی جے پی اور مرکزی حکومت پر الیکشن کرانے کی منشا کو لے کر سوال کھڑے کرتی رہی ہے ان میں سب سے بڑا مدعا کچرا اور کچرے کے پہاڑ کا ہے دہلی کے سی ایم سے لے کر ممبران اسمبلی اور سیاسی قائدین نے میونسپل انتخاب کے لئے کچرے کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہیں دہلی میں لگاتار بی جے پی نے عام آدمی پارٹی پر بدعنوانی کے الزامات لگا کر گھیرنے کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کی شبیہ کو نقصان ہو سکتا ہے ، یمنا ندی کی صفائی، بسوں کی کمی، آلودہ پانی کا مسئلہ اور زہریلی ہوا کے مدعا پر کئے عام آدمی پارٹی حکومت کے وعدوں کو بی جے پی نشانہ بنا رہی ہے جس سے عام آدمی پارٹی کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ سیاسی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ گجرات اور ہماچل پردیش میں عام آدمی پارٹی کے قائدین کی تشہیر میں بھی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں اور انکی حکمت عملی کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔
بہر حال! کانگریس گجرات میں اہم اپوزیشن ہے، لیکن گاندھی خاندان کی اس بار انتخابات میں موجودگی نہیں ہے۔ کانگریس ریاست میں مقامی لیڈروں کے زور پر سرگرم ہے۔ پارٹی شہروں کی بجائے دیہی نشستوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ پچھلی بار کانگریس نے دیہی علاقوں میں بی جے پی کو شکست دی تھی۔ کانگریس کی ریاست گیر پریورتن سنکلپ سبھا کو چھوڑ کر، اب تک کوئی بڑا دھوم دھام نہیں ہوا ہے۔ کانگریس کے اس بدلے ہوئے موقف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی توجہ بھی مبذول کرائی تھی۔ یہ درست ہے کہ کانگریس قبائلی، دلت اکثریت اور دیہی علاقوں کی میٹنگوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ریاست میں اسمبلی کی 182 سیٹیں ہیں۔ ان میں سے 55 سیٹیں صرف چار بڑے شہروں میں ہیں۔ ان میں احمد آباد، سورت، راجکوٹ اور وڈودرا شامل ہیں، جب کہ 127 سیٹیں نیم شہری ہیں۔ اگر تقسیم کریں تو بھی 100 سے زیادہ سیٹیں دیہی ہیں۔ کانگریس ان سیٹوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔2022 کے انتخابات میں کانگریس کے سامنے دوہرا چیلنج ہے۔ ایک طرف سے اسے اپنا ووٹ بینک بچانا ہے اور دوسری طرف اپنا ووٹ بینک بڑھانا ہے۔ پارٹی اس چیلنج سے کیسے نمٹے گی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بی جے پی کو آخری بار 99 پر روکنے والے اشوک گہلوت چیف مبصر کے کردار میں ہیں، جب کہ ڈاکٹر رگھو شرما جنہیں ان کا شاگرد کہا جاتا ہے، گجرات کے انچارج ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں انہوں نے بوتھ سطح پر کانگریس کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی ہیں۔۔ بھارت جوڑو یاترا سے پہلے احمد آباد میں بوتھ انچارج کی ایک بڑی کانفرنس بھی ہوئی تھی۔ کانگریس کو عام آدمی پارٹی سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس بات کو ہر کوئی مان رہا ہے لیکن ماضی میں حالات بدل چکے ہیں۔ عام آدمی پارٹی، جو کانگریس کے ووٹوں کو توڑتی نظر آتی تھی، اب بی جے پی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کی وجہ اس کی اپنی نوعیت اور پروپیگنڈے کا انداز ہے۔ اگر شہری علاقوں میں بی جے پی کے ووٹ پھسلتے ہیں تو کانگریس مضبوط ہو سکتی ہے۔گجرات وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست ہونے کی وجہ سے بی جے پی کی کارکردگی کی پوری طرح سے پردہ فاش کرنے کی سرگرمی تیز کر دی گئی ہے۔ ریاست کے موجودہ حالات کے مطابق عام آدمی پارٹی نے سرخیوں میں جگہ بنائی ہے، لیکن اسے کتنے ووٹ ملیں گے اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو گا اور نتائج میں واضح ہو جائے گا۔