کیا ہوگا ملک کے معماروں کا مستقبل

0

 

صبح سکول سے یوم آزادی کا جشن منا کر گھر کی طرف روانہ ہونے کے لیے جیسے ہی اپنی بائیک نکالنے کے لئے پارکنگ میں گیا کیا دیکھتا ہوں کہ ہوا کم ہے ٹائروں میں۔ہوا بھروانے کی غرض سے سڑک کے کنارے موجود پنچر والے کی دکان پر گیا۔وہاں موجود شخص سے اپنا مدعا بیان کیا اس نے اپنے بچے کو ہوا بھر نے کا کہا۔وہ آٹھ سے دس سال کا بچہ اپنے ہاتھ میں ہوا بھرنے والا آلہ لے آیا۔بائیک کے ٹائر کو چیک کر کے بتایا کہ صاحب جی یہ تو پنکچر ہے اس کو تو بنانا پڑے گا میں نے اس سے بنانے کا کہا اس کا باپ ایک سائیڈ بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا اور وہ بچہ بڑی مہارت سے پنچر بنانے لگا رہا۔میں اس بچے کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ یہ عمر سکول جانے کی ہے اور دیکھو کس طرح سے یہ مزدوری کر رہا ہے ۔میں نے اس کے باپ سے کہا کہ بچے کو کیوں اس عمر میں مزدوری پر لگا دیا اس نے کہا صاحب پہلے میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا وہاں ہونے والے حادثے میں میرا ہاتھ خراب ہوگیا اس لئے گھر کا خرچ چلانے کے لئے اسے ہی کام کرنا پڑ رہا ہے میں تو بس تہواروں کے موقع پر کوئی سامان بیچ لیا کرتا ہوں جس سے کچھ آمدنی ہو جاتی ہے ہاتھ تو صاحب جی اب کسی کام کا نہیں رہا۔لیکن آج کل لوگ بھی ہر چھوٹی بڑی چیز اسٹور سے خریدنا شان سمجھنے لگے ہیں۔اس بچے نے پنچر بنا دیا اس نے میری بائیک پر لگا ہوا جھنڈا دیکھا اور بولا صاحب جی یہ کیوں لگایا ہے تو میں نے کہا کہ بیٹا آزادی کا امرت مہوتسو ہے اور ہر گھر ترنگا گھر گھرترنگا کی مہم چل رہی ہے۔ ہمارے ملک کی آزادی کا 75سالہ جشن۔یکایک اس بچے کے چہرے پر مایوسی چھا گئی اور اداس لہجے میں کہنے لگا صاحب جی یہ جشن آزادی تو آپ لوگوں کے لئےہے ہمارے لئے تو کچھ نہیں۔چونکہ آزادی تو بس اک خواب ہے ہم تو آج بھی غریبی مایوسی افلاس بے روزگاری جیسے مسائل سے آزاد ہی نہیں ہوۓ، ہم آج بھی اپنی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں،وہ مسائل جو مجھ جیسے کئ بچوں کو گلی سڑکوں پر پنکچر بنانے ،یا چاۓ خانوں کے گاہکوں کی جھڑکیاں سننے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔کیا یہی آزادی کا جشن ہے صرف ہر گھر جھنڈا لگا لینے سےملک خوشحال نہیں ہوجاتا۔جھنڈا تو ہے میرے پاس کیا حکومت اسے لگانے گھر دےگی۔وہ افسران جو جھنڈے کی چیکنگ کے لئے ہمارے علاقوں میں آرہے ہیں اگر کبھی گندی نالیوں اور کوڑے کے ڈھیر کی صفائی کروانے آجاییں تو ہم کھل کر سانس ہی لے لیں۔

یہ سن کر میری نظر شرم سے جھک گئ۔

سچ ہےکہ اگر ہمیں اس ترنگا کو سچ میں سب سے اوپر دیکھنا ہے تو اس ملک میں رہنے والے غریب عوام کے مسائل حل کرنے ہونگے اچھے دنوں کا وعدہ تھا ان اچھے دنوں کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا ان کی غربت کو دور کرنے کے ذریعے کرنے ہونگے ان تک بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگاورنہ پتہ نہیں کتنی ہی گلیوں کے کنارے، چاۓخانوں میں چھوٹی عمر کے بچے کے اپنا بچپن مزدوری کرتے ہوئے گزار رہے ہوں گے۔ ہمیں ان کی طرف توجہ دینی ہوگی، ان ملک کے مستقبل کے معماروں کو نئ جہت دینی ہوگی۔ تبھی ہم کہہ سکیں گے،

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

از عرشیہ رفیق شیخ آکولہ

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS