جمہوری نظام کے تئیں عرب عوام کا موقف کیا ہے؟

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

اسلام پر ہمیشہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ جمہوری نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اسی لئے مسلم ممالک میں جمہوری نظام حکومت کا فقدان ہے اور اس کی جگہ مطلق العنان حکمراں یا استبدادی نظام نے لے رکھی ہے۔ یہ بحث تب سے جاری ہے جب سے مغربی استعماریت کا دور شروع ہوا اور مغربی دنیا نے تمام اسلامی ریاستوں کو اپنا باجگزار بنا لیا۔ مغربی فکر اور نظام حکومت کو مکمل غلبہ تب نصیب ہوا جب پہلی عالمی جنگ میں ترکی کو شکست مل گئی۔ گویا بیسویں صدی کی دوسری دہائی سے وہ دور شروع ہوا جس کو کم سے کم مسلم دنیا میں مغربی نظام کی بالادستی کا نقطۂ عروج کہا جا سکتا ہے۔ مسلم مفکرین کے درمیان آج بھی یہ مسئلہ زیر بحث ہے کہ کیا جمہوری نظام اور اسلامی نظام حکومت کے درمیان تال میل بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ آج تک کوئی واضح بات اس سلسلہ میں نہیں کہی جا سکی ہے۔ اگر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی تحریروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر بڑی قوت کے ساتھ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق اسلام کے ماننے والوں کو اسلامی ریاست کے قیام کی خاطر مغرب سے خوشہ چینی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اعتبار سے مغربی نظام جمہوریت کو برتنے کے بجائے طویل اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرکے اس سے نظام حکومت کے معاملہ میں بھی مدد لینی چاہئے۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مسلم دنیا نے جمہوری نظام کو قبول نہیں کیا ہے؟ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ پاکستان، ترکی اور خود ایران نے جمہوری نظام سے استفادہ کیا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ جہاں تک خالص عرب دنیا کا تعلق ہے تو وہاں جمہوریت کی جڑیں کبھی مضبوط نہیں ہو سکیں اور اسی لئے جمہوریت کی بحالی کے نام پر مغربی دنیا نے مشرق وسطی کو کئی بار زیر و زبر کیا ہے اور حقوق انساں کے نام پر عرب حکمراں اور عوام دونوں کا بیجا استحصال کیا ہے۔ آخری بار ایسا تب کیا گیا تھا جب عرب بہاریہ کے نام پر عرب ممالک کے باشندوں کو ان کے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بھڑکایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں تونس و لیبیا و مصر سے لے کر یمن اور شام و عراق و بحرین تک عوام کا غصہ پھوٹ پڑا اور کئی حکمرانوں کو صرف اقتدار سے ہی نہیں بلکہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ جس عراق پر جارج ڈبلیو بش نے جمہوریت کے نام پر 2003 میں حملہ کرکے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا دو دہائی کے گزر جانے کے بعد بھی آج تک یہ حال ہے کہ جمہوری نظام کا قائم ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔ تیل جیسے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود اس ملک کے باشندے اپنے سیاسی قائدین کی نااہلی کی بناء پر فقر و فاقہ اور سیاسی و معاشرتی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ جمہوریت کی بحالی کے نعرہ نے آخر عرب دنیا کو کیا دیا؟ اسی سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے بیرومیٹر نیٹ ورک نے بی بی سی عربی نیوز نیٹ ورک کی خاطر ایک سروے کیا اور مقبوضہ فلسطین کے علاوہ نو دیگر عرب ممالک کے تقریباً 23 ہزار لوگوں کا انٹرویو لیا اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی آخر وہاں کی عوام کا جمہوریت کے تئیں کیا موقف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سروے ایسے وقت میں کیا گیا جب عرب بہاریہ تحریک پر ایک دہائی سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ ہی یہی تھا کہ عرب دنیا میں جمہوریت کو بحال کیا جائے اور عوام کو اپنے حکمراں منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ بیرومیٹر عربی ایک ریسرچ نیٹ ورک ہے اور پرنسٹن یونیورسیٹی میں اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس نیٹ ورک نے کئی یونیورسیٹیوں اور سروے میں اختصاص رکھنے والے اداروں کے تعاون سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں یہ سروے 2021 کے اخیر اور 2022 کے آغاز میں انجام دیا تھا۔ بیرومیٹر عربی کے ڈائریکٹر مایکل روبنس کا کہنا ہے کہ 2018/19 میں بھی انہوں نے یہ سروے کیا تھا۔ ان کے مطابق محض دو برسوں کے اندر ہی جمہوریت کے تئیں عرب عوام کی آراء میں بڑی تبدیلیاں نظر آئیں۔ ان کہنا ہے کہ عوام میں یہ رائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ جمہوریت ایک مثالی طرز حکومت نہیں ہے اور تمام مسائل کا حل پیش کرنے سے جمہوریت قاصر ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر عوام کی رائے کیوں کر بنی؟ اس کے سلسلہ میں روبنس کہتے ہیں کہ چونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس پورے خطہ میں بسنے والے لوگ بھکمری کے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے اور سسٹم نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اس لئے جمہوری نظام میں لوگوں کی دلچسپی گھٹ رہی ہے۔ جن ممالک میں یہ سروے کیا گیا ہے وہاں کی اوسطا آدھی سے زیادہ آبادی کا ماننا ہے کہ جمہوری نظام کی وجہ سے ان کی اقتصادی حالت بگڑ گئی ہے۔ سروے والے ہر ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کا یہ بھی ماننا ہے کہ نام سے فرق نہیں پڑتا ہے۔ ان کے لئے جمہوری و استبدادی ناموں کے مقابلہ یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ جو بھی حکومت برسر اقتدار ہے اس نے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ عرب عوام کی اس رائے کی تائید ای آئی یو کے انڈیکس سے بھی ہوتی ہے۔ اس کے مطابق مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک جمہوری نظام کی درجہ بندی میں سب سے نچلی سطح پر قائم ہیں۔ اسرائیل کو بھی ایک معیوب جمہوریت کا درجہ ہی ملا ہے۔ تونس اور مراکش کے نظام حکومت کو ہائبریڈ سسٹم سے تعبیر کیا گیا ہے جب کہ مشرق وسطی کے باقی تمام ممالک کے نظام کو استبدادی قرار دیا گیا ہے۔ بیرومیٹر کے سروے کے مطابق مقبوضہ فلسطین اور سات دیگر عرب ممالک میں نصف سے زیادہ آبادی کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا لیڈر مطلوب ہے جو سیاست کے اصول و قواعد کو بدل کر بڑی تبدیلی پیدا کر سکے۔ صرف مراکش میں نصف سے کم آبادی نے اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین، اردن اور سوڈان میں بھی بڑی تعداد اس رائے سے متفق نظر نہیں آ رہی ہے۔ جب کہ تونس میں دس میں سے آٹھ لوگ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ ایسا قائد آنا چاہئے جو ضرورت پڑنے تمام قواعد کو ہی بدل دے لیکن اقتصادی حالت کو بہتر بنائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 10 میں سے 9 لوگ تونس میں یہ موقف رکھتے ہیں کہ صدر قیس سعید نے جو اقدامات کئے ہیں وہ درست ہیں۔ حالانکہ تونس پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں صدر قیس سعید نے وہاں کی منتخب حکومت کو 25 جولائی 2021 کو معزول کرکے وہاں کے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا تھا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو بے معنی قرار دیا ہے اور عدلیہ تک کے پر کتر دیئے ہیں۔ 2014 کے دستور کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس کی جگہ ایک نیا دستور لکھا گیا ہے جس پر 25 جولائی 2022 کو عوام کی رائے لی گئی اور قیس سعید کی حکومت کے مطابق 94.60 فیصد عوام نے اس کو قبول کرلیا ہے۔ یہ ساری باتیں جمہوریت کی روح کے منافی ہیں لیکن ابھی عرب دنیا میں ہوا اس کے حق میں چلی ہی نہیں ہے اس لئے یہ باعث تعجب بھی نہیں ہے۔ قیس سعید کے اقدامات کو ان کے سیاسی حریفوں نے بغاوت سے تعبیر کیا تھا لیکن قیس سعید نے کہا تھا کہ ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ ملک کا سیاسی نظام پورے طور پر بگڑ گیا ہے اور اصلاح کا محتاج ہے۔ جب کہ بیرومیٹر عربی کی بانی شریک کار اور پرنسٹن یونیورسٹی کے اسکول آف انٹرنیشنل ریلیشنس اینڈ پبلک افئیرس کی ڈین امانی جمال کا کہنا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تونس میں جمہوریت ختم ہو رہی ہے اور استبدادی نظام اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تونس میں جمہوریت سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور ان کی اقتصادی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی گئی۔ یہ معاملہ صرف تونس کا ہی نہیں ہے بلکہ لیبیا، مصر، عراق اور سوڈان ہر جگہ یہی کیفیت جاری ہے۔ عراق اور لیبیا دو ایسے ممالک ہیں جہاں قدرتی ذرائع کی کمی نہیں ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ سے آمدنی کی شرح میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ البتہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف عراق میں پچھلے دس مہینوں سے انتخاب کے باوجود نئی حکومت کی تشکیل نہیں ہوپائی ہے جس کی وجہ سے بجٹ پاس نہیں ہوا ہے اور کچھ بھی عوام کی بنیادی ضرورتوں پر خرچ نہیں ہو رہا ہے وہیں دوسری طرف لیبیا میں دو حکومتیں قائم ہیں اور دونوں ہی کسی طرح بھی آپسی جھگڑے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے عوام کی پریشانیاں روز افزوں ہے۔ مصر اور سوڈان میں عوام نے جمہوریت کا جو خواب دیکھا تھا اس کو ملٹری نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر عرب عوام یہ موقف اختیار کرنے لگے ہیں کہ مغرب کے جمہوری نظام کے بجائے چین کا استبدادی نظام زیادہ مفید ہے جو عوام کی اقتصادی اور سماجی و ثقافتی حالت کو بہتر بنا سکے۔ امریکہ کی قیادت والی مغربی ثقافت کے لئے مشرق وسطی میں اس سے بڑی شکست بھلا اور کیا ہوگی؟
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS