اب پاکستان میں کیا-کیا ہو سکتا ہے؟

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

پاکستان کی سیاست اب ایک طوفانی دور میں داخل ہورہی ہے۔ عمران خان پر ہوئے جان لیوا حملہ نے شہباز شریف کی حکومت کے خلاف اسی قسم کا غصہ پیدا کردیا ہے، جیسا کہ 2007میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے وقت ہوا تھا۔ میرے خیال میں اس وقت کا غصہ اُس غصے سے بھی زیادہ شدید ہے کیونکہ اُس وقت پاکستان میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت تھی لیکن اس وقت حکومت مسلم لیگ(نواز) کے قائد شہباز شریف کی ہے۔ عمران نے شہباز شریف، ان کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ عہدیدار فیصل نصیر پر اس سازش کا الزام لگایا ہے۔ شہباز شریف کے وزیر داخلہ اور ان کی پارٹی کے کئی لیڈران نے عمران کو بلوچستان کی مرچی جیل میں ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور عمران اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ریلی کے دوران عمران کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ قتل کی اس ناکام کوشش کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں حکومت کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور یہ ناممکن نہیں کہ پاکستان میں تقریباً خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوجائے اور مزید ہلاکتوں کی خبریں آنے لگیں۔ شہباز حکومت کی صرف مذمت ہی نہیں کی جارہی ہے، لوگ کھلے عام پاکستان کی فوج کو بھی کوس رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ یوں بھی عمران کے سوال پر پاکستان کی فوج بھی دوحصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اعلیٰ افسران جنرل قمر باجوہ کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور باقی افسران و جوان عمران کی حمایت میں ہیں۔ اگر فوج عمران اور شہباز کے درمیان ویسا ہی معاہدہ نہ کروا سکی، جیسا کہ 1993 میں صدر غلام اسحاق خان اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے درمیان کمانڈر جنرل وحید ککڑ نے کروایا تھا اور فوری طور پر انتخابات نہ کرائے گئے تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی سیاست سے فوج کا تسلط ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے تعلقات خوشگوار ہونے میں ذرا بھی وقت نہیں لگے گا۔ میں حیران ہوں کہ ہندوستانی حکومت اب تک گونگی کیوں بنی ہوئی ہے؟ اس نے عمران پر ہوئے حملہ کی فوری مذمت کیوں نہیں کی؟ امریکہ، چین، ترکی، سعودی عرب اور دیگر درجنوں ممالک کے سرکردہ رہنماؤں نے گزشتہ شام کو ہی بیانات جاری کر دیے تھے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی فوج اور مخالف لیڈران اب عمران کو وزیراعظم بننے سے روک نہیں سکتے۔ اب جب بھی الیکشن ہوں گے مجھے یقین ہے کہ عمران بے مثال اور زبردست اکثریت سے جیتیں گے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات میں عمران اور ان کی اتحادی پارٹیوں نے حکمراں جماعتوں کا تقریباً صفایا کر دیا تھا اور خود عمران خان سات سیٹوں پر لڑے، ان میں سے چھ نشستوں پر جیت حاصل کی۔ اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور پٹھانوں کے پختونخوا میں عمران کے حامیوں کی حکومتیں قائم ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی بھٹو حکومت ہے لیکن کچھ معلوم نہیں کہ اس جان لیوا حملہ کے بعد بے نظیر کے بیٹے بلاول بھٹو اور شوہر آصف زرداری کا رویہ شہباز شریف کے ساتھ رہنے کا رہے گا یا بدلے گا؟ بے نظیر جب دبئی میں رہتی تھیں اور نواز شریف سعودی عرب میں، تب میں نے شیخ نہیان مبارک کے محل سے فون پر ان کی آپس میں بات کروائی تھی اور اس کے بعد دونوں نے لندن سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا تھا۔ فوج نے دونوں کو پریشان کررکھا تھا۔ جب وہ دونوں سخت حریف مل سکتے تھے تو بلاول اور عمران کیوں نہیں مل سکتے؟ اگر وہ آپس میں مل جائیں تو پاکستان میں شاید بھارت جیسی جمہوریت کی شروعات ہوجائے۔ فوج پیچھے ہٹے اور عوامی نمائندے حقیقی حکمراں بنیں۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]