تمام امرائے شریعت کے خوابوں کو شرمندہ تعبیرکرنے کی ہماری کوشش ہوگی : احمد ولی فیصل رحمانی

0
Image: Qindeel

نومنتخب امیر شریعت کا اپنے اعزاز میں منعقد ہ استقبالیہ اجلاس سے خطاب اور اہم اعلان
پٹنہ: (آئی این ایس انڈیا )نو منتخب امیر شریعت مولانا سیداحمد ولی فیصل ؔرحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کے بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کا آٹھواں امیر شریعت منتخب ہونے پر آج مقامی المعہد العالی کانفرنس ہال میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ جلسہ کا انعقاد کیاگیا۔جس میں کثیر تعداد میں اہم اشخاص نے شرکت کی۔جس کی صدارت نائب امیرشریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے کی ۔ استقبالہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےنومنتخب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصلؔ رحمانی نے کہاکہ آپ حضرات نے جس اخلاص وللٰہیت کے جذبے کے ساتھ یہ نشست منعقد کی ہے ،ہم تہہ دل سے اس کی قدر کرتے ہیں ۔ امارت شرعیہ کسی ایک مسلک کا ادارہ نہیں ہے، بلکہ جس نے بھی ’’لا الہٰ الا اللہ محمد رسو ل اللہ ‘‘پڑھا ہے ، وہ امارت شرعیہ کا حصہ ہے۔اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ امارت شرعیہ کی ترقی و استحکام کے لیے فکر مند رہے، اور اتفاق و اتحاد سے ملت کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم آبادی کے تناسب سے ملت کے فلاحی اور رفاہی امور کو انجام دینے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے زکوٰۃ کے علاوہ دیگر خصوصی عطیات سے اس ادارہ کو تقویت پہونچائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ امارت شرعیہ کی تنظیم اور اس کے پیغام کوتمام گھر تک پہونچانے کے لیے تمام ملی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ،مزید برآں ا نہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم تمام افراد اجتماعی کوششوں سے سابق امراء شریعت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں ۔ انہوں نے نشے کی لت، الحادو ارتداد، جہیز و تلک ، اِسراف و فضول خرچی جیسی سماجی خرابیوں کو مٹانے کی ضرورت پر زور دیا اورکہا کہ معاشرتی جھگڑوں کے تصفیہ کے لیے دار القضاء سے رجوع کریں اور اپنے تنازعات کافیصلہ دار القضاء سے کرائیں ۔ انہوں نے وراثت میں لڑکیوں کو شرعی طور پر حصہ دینے اور اپنے اموال کے متعلق اپنی زندگی میں ہی وصیت مرتب کرنے پر بھی توجہ دِلائی ۔انہوں نے دینی و عصری تعلیم کے فروغ اور حفظان صحت کے میدان میں بہتر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا اوراس کے لئے تمام لوگوں سے اس میں خصوصی تعاون کی اپیل بھی کی ۔

استقبالیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ امارت شرعیہ ایک الہامی ادارہ ہے ، تاریخ کے ہر دور میں اس کو ایسے رجال کار اور ایسے اشخاص ملتے رہے ہیں، جنہوں نے وقت اور ضرورت کے پیش نظر ملت کی صحیح سمت میں رہنمائی کی ہے۔آج کا زمانہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ، دورِ حاضر میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے ، اس نئے تقاضے کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی شکل میں ایک جواں سال اور تازہ دم ’میر کارواں‘ عطا کیا ہے ، جو بالٰغ نظر، علم وکمال کا مجموعہ اور زمانہ کا نبض شناس ہے ۔ ان شاء اللہ ان کی قیادت میں امارت شرعیہ ترقی کی نئی منزلوں کو حاصل کرے گی۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم امیر شریعت کے مشن کو عام کریں اور سمع و طاعت کے جذبے کے ساتھ اس کارواں کو آگے بڑھائیں۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ وہ امت کو کلمہ کی بنیاد پر جوڑتی ہے، اور امیر شریعت کی ماتحتی میں متحد و منظم زندگی گزارنے کا عہد و پیمان کرتی ہے ۔

اس جلسے میں رکن پارلیامنٹ احمد اشفاق کریم ، رکن اسمبلی اخترالایمان ، سید تقی فردوسی کے علاوہ اہم علما اور ائمہ مساجد نے خطاب کیااور امید ظاہر کی کہ نومنتخب امیر شریعت کی قیادت میں امارت شریعہ ترقی کے بام عروج پر پہنچے گا۔ اس موقع پر امیر شریعت سابع مفکر ا سلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب بردہ اللہ مضجعہ کی حیات و خدمات پر مبنی ہفتہ وار نقیب کے خصوصی نمبر کا اجرا بھی حضرت امیر شریعت ثامن کے ہاتھوںعمل میں آیا ۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here