ہم نے نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا

0
ہم نے نیند کو تمہارے لئے راحت بنایا

عرشیہ شکیل
دور افق پرسورج کی لالی پھیلی ہوئی تھی، وہ آہستہ آہستہ سمندر کی طرف بڑھ رہا تھا،جیسے دن بھر کی تمازت سہنے کے بعد سمندر کے ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا چاہتا ہو،ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پانی بھی بے تابی سے اسے اپنے اندر جذب کرنے کا منتظر ہو، دیکھتے ہی دیکھتے سورج کی بے تاب کرنیں سمندر میں جاکر پوری طرح سرد ہوگئی تھی، ایسے جیسےسورج نیند کی آغوش میں جا چکا ہو، سمندر سے کچھ کوس دوری پر ’وہ‘ ایک بلڈنگ کی بالکونی پر ڈوبتے سورج کے حسین نظارے سے لطف اندوز ہو رہی تھی، اچانک ٹھنڈی تازہ ہواؤں میں اسے ایک بازگشت سنائی دینے لگی تھی، “ہم نےدن کو معاش کمانے کا ذریعہ اور رات کو آرام کرنے کے لئے بنایا۔”
وہ نماز عشاء ادا کرنے کے بعد بستر پرتھکے ہارے جسم کے ساتھ لیٹی تھی، اس کی نگاہوں میں دن بھر کی مصروفیت کانقشہ گھوم رہا تھا،اس کے خیالوں میں روز مرہ کے کاموں کی ایک طویل فہرست تھی، جو وہ ہر رات اپنے تھکے ہوئے ذہن کو وہ ازبر کرواتی تھی۔۔۔۔
ناشتہ،ٹفن،بچوں کے اسکول کی تیاری،صفائی،کپڑے،دوپہر کا کھانا،ٹیوشن کی تیاری ،رات کاکھانا،۔۔اف۔۔ انہیں سوچوں اور خیالوں میں اس کا ذہن ڈوب کر ابھر رہاتھا، وہ میٹھی نیند کی آغوش میں جا چکی تھی ۔صبحِ صادق فجر کی اذان پرہی اس کی آنکھ کھلی تھی، کل کی تھکان کے سارے اثرات غائب ہو گئے تھے، اس کی صبح نئی امنگ اورنئے جذبے کے ساتھ ایک بار پھر طلوع ہوئی تھی،وہ ساری تھکن کو ایک بار پھر بھول گئی تھی،اس کا دل ایک بار پھر پکار اٹھا تھا۔۔۔
” بے شک میرا رب علیم و حکیم ہے۔”