جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں!

0

پروفیسر اخترالواسع

جنگ خود ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیںہو سکتی مگر اس کے باوجود جنگیں ہوتی رہی ہیں، جنگوں سے مسئلوں کے حل کی تلاش کی جاتی رہی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والی جنگ بھی بظاہر اسی تلاش کی وجہ نظر آتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جو متنازع معاملات تھے، وہ مذاکرات کی میز پر حل نہیں ہو سکتے تھے، اس کے لیے جنگ ہی ضروری تھی مگر مذاکرات پر جنگ کو ترجیح دینا باعث حیرت ہی نہیں، المناک بھی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں انسانی جال و مال کا جو ضیاں ہو رہا ہے، وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس ضیاں کو روکا بھی جا سکتا تھا مگر حد تو یہ ہے کہ جنگ کے بعد بھی اسے روکنے کی زیادہ سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں ترکی کا رول ضرور قابل تعریف ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے جنگ کے شعلوں پر مفاد کی روٹی سینکنے کے بجائے امن بحال کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ وہ اگر چاہتے تو اپنے ڈرونز کے کاروبار کو چمکا سکتے تھے مگر اردگان جانتے ہیں کہ جنگ کی آگ پھیلتی ہے تو پھر پھیلتی چلی جاتی ہے، اس کا نظارہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں دنیا دیکھ بھی چکی ہے۔ پہلی عالمی جنگ ایک واقعے سے ہی شروع ہوئی تھی ، چنانچہ جنگ جتنی جلدی ختم ہو جائے، بہتر ہے اور اگر جنگ ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے دائرے کو محدود رکھنا ہی انسانوں کے مفاد میں ہے اور یہی کام کرنے کی کوشش ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کی ہے۔ اسی لیے روس اور یوکرین کے درمیان اجناس کی سپلائی پر مصالحت ہو سکی۔
ایسی صورت میں جبکہ امریکہ اور اس کے یوروپی اتحادیوں کی توجہ روس کا ناطقہ بند کرنے پر رہی ہے، ترک صدر اردگان کا روس اور یوکرین کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کرنا غیر معمولی ہے۔ یہ ان کی کوششوں سے ہوئے روس اور یوکرین کے درمیان معاہدے سے ہی ممکن ہوا ہے کہ یکم اگست، 2022 کو یوکرین کے شہر اودیسہ کی بندرگاہ سے 26,000 ٹن مکئی لے کر ایک جہاز، رزونی، لبنان کے لیے روانہ ہوا۔ اس سے دو باتوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ پہلی یہ کہ یوکرین کے گوداموں میں بند لاکھوں ٹن اناج برباد نہیں ہوں گے اور دوسری بات یہ کہ جنگ کی وجہ سے اناج کی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹ دور کی جا سکے گی۔
دراصل اناج کی سپلائی کے سلسلے میں ترکی کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کو ختم کرانے کی اگر سنجیدہ کوشش ابھی بھی کی جائے تو امید افزا نتائج سامنے آسکتے ہیں لیکن یوکرین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ امریکہ اور یوروپی ممالک اس کی تائید روس کو دبانے کے لیے کر رہے ہیں۔ وہ اس سے ہمدردی کا اظہار ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ روس اور چین کے دبدبے کو کم کرسکیں۔ جو امریکہ، روس کے عزم کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے اسی امریکہ نے چین پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ابھی حال ہی میں امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا اور اب خبر یہ ہے کہ ایک اور امریکی وفد نے تائیوان کا دورہ کیا ہے۔ ظاہرہے، یہچین کو مشتعل کرنے والی کارروائی ہے اور اگر وہ واقعی مشتعل ہو گیا تو پھر اس خطے کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ دنیا کو ایک اور جنگ کے اثرات سے نمٹنے پر مجبور ہونا پڑے گا مگر امن عالم اور بالخصوص اس خطے کے امن کی خاطر روس اور چین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے حالات بدل چکے ہیں، وہ نوآبادیاتی نظام وضع کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انہیں چھوٹے اور کمزور ممالک کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ چین کو بھی اپنی توسیع پسند پالیسی سے باز آنا چاہیے،کیونکہ ایک یوکرین کی جنگ نے ہی دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ جنگ کہیں بھی ہو، اس کے راست یا بالواسطہ اثرات دیگر ممالک بھی پڑتے ہیں، اس لیے چین کی توسیع پسندی اگر خدانخواستہ تائیوان جنگ کی وجہ بن جاتی ہے تو یہ جنگ دنیا کے حق میں بہتر نہیں ہوگی۔ جنگ ویسے بھی کبھی انسانوں کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوئی ہے۔اسی لیے ہمیشہ جنگ سے بچنے کو ہی نیک فال مانا جاتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ کی ہولناکیوں کو سمجھنے کے لیے تاریخ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
گزشتہ دو دہائی میں افغان جنگ اور عراق جنگ سے ہونے والی تباہی دنیا دیکھ چکی ہے اور یوکرین جنگ تو ابھی جاری ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ المناک ہے، کیونکہ دیگر جنگوں کی طرح اس جنگ میں بھی انسانی جانوں کا اتلاف ہو رہا ہے، آباد شہر کھنڈروں میں تبدیل ہو رہے ہیں، بازار ویران اور تباہ ہو گئے ہیں، لہلہاتے کھیت اجڑ گئے ہیں۔ یوکرین جنگ تشویشناک ہے، کیونکہ سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہے اور یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس کے لیڈران ایک سے زیادہ بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ روس کوئی عام ملک نہیں ہے، وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایسی صورت میں اس اندیشے کا پیدا ہونا فطری ہے کہ جنگ کے کسی موڑ پر روس ایٹم بم کا استعمال نہ کر ڈالے اور یہ بات کہیں تیسری عالمی جنگ کے لیے جواز نہ پیدا کر دے، اس لیے جب تک یوکرین جنگ جاری ہے، دنیا کے ہر ذوی ہوش شخص کو یہ خدشہ رہے گا کہ اس جنگ کا دائرہ کہیں وسیع نہ ہوجائے اور عالمی برادری کو پھر سے وہ سب نہ دیکھنا پڑے جو اس سے پہلے دو بار دیکھ چکی ہے۔ پہلی بار 1914 سے 1918تک اور دوسری بار 1939 سے 1945تک۔ کون ایسا انسان ہے جس نے ہیروشیما اور ناگاسالی کی تباہی کو بھلا دیا ہوگا؟ جس نے یہ نہیں بھلایا کہ دو عالمی جنگوں میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو جانیں گنوانی پڑی تھیں، وہ یہ بھی کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی اور جنگ ہو۔ جب تک یوکرین کی جنگ جاری رہے گی، وہ تشویش میں مبتلا رہے گا۔
امریکہ سپرپاور ہے اور اسے اس حیثیت سے دنیا میں امن بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لیے اسے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ روس اور چین کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ چین کو اپنی توسیع پسندی چھوڑ دینی چاہیے، کیونکہ اس سے خود اس کے لیے مسئلے پیدا ہوں گے اور یہ بھی طے ہے کہ کوئی ملک مسئلوں کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا۔ یوکرین کو بھی حالات کی نزاکت کوسمجھنا چاہیے۔ روس سے اسے مصالحت کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ترکی کو مزید رول ادا کرنا چاہیے۔ اسے ایسا اس لیے بھی کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے صدر رجب طیب اردگان اس کے اہل ہیں اور وہ جنگ روکنے کے تئیں مخلص بھی ہیں۔ جنگ ختم کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ ہندوستان بھی کلیدی رول ادا کر سکتا ہے، کیونکہ اس نے کسی بھی فریق کی جانبدارانہ حمایت نہیں کی ہے۔ اور ہندوستان کو ترکی کے ساتھ مل کر قائدانہ رول ادا کرنا چاہیے جس سے دنیا میں امن کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔n
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں)
[email protected]

Previous articleاجتماعی یا جماعتی زندگی کیوں ضرور ی ہے؟
Next articleجنگ بہت پہلے شروع ہوگئی تھی!
Akhtarul Wasey (born September 1, 1951) is the president of Maulana Azad University, Jodhpur, India, and a former professor of Islamic Studies. He taught at Jamia Millia Islamia (Central University) in New Delhi, where he remains professor emeritus in the Department of Islamic Studies. Early life and education: Wasey was born on September 1, 1951, in Aligarh, Uttar Pradesh to Hairat bin Wahid and Shahida Hairat. He is the oldest of six children. Wasey attended Primary School No. 16, the City High School of Aligarh Muslim University, and Aligarh Muslim University where he earned a Bachelor of Arts (Hons.) in Islamic studies in 1971, a Bachelor of Theology in 1975, a Master of Theology in 1976, and an Master of Arts in Islamic studies in 1977. He also completed a short-term course in the Turkish language from Istanbul University in 1983. Career: On August 1, 1980 he joined Jamia Millia Islamia, Delhi as lecturer and worked there till 31 August 2016.Wasey was a lecturer, reader and professor at Jamia Milia Islamia University in New Delhi from 1980-2016, serving as the director of Zakir Husain Institute of Islamic Studies and later becoming head of the Department of Islamic Studies and Dean of the Faculty of Humanities and Languages. He is currently the president of Maulana Azad University in Jodhpur and remains a Professor Emeritus in the Department of Islamic Studies at Jamia Millia Islamia. In March 2014, Wasey was appointed by Indian President Shri Pranab Mukherjee to a three-year term as Commissioner for Linguistic Minorities in India, and became the first Urdu-speaking commissioner since 1957. Wasey is the editor of four Islamic journals: Islam Aur Asr-e-Jadeed; Islam and the Modern Age; Risala Jamia; and Islam Aur Adhunik Yug. Awards and honors: 1985 Award from Urdu Academy, Delhi and UP Urdu Academy on "Sir Syed Ki Taleemi Tehreek" 1996 Maulana Mohammad Ali Jauhar Award 2008 Fulbright Fellowship 2013 Padma Shri award from President Pranab Mukherjee of India 2014 Makhdoom Quli Medal from the President of Turkmenistan 2014 Daktur-e-Adab from Jamia Urdu, Aligarh