وشو گرو کا سفر شروع

0

اپیندر رائے

اپیندر رائے
چیف ایگزیکیٹوآفیسر
اینڈ ایڈیٹران چیف
سہارانیوز نیٹ ورک

آزاد بھارت آج تاریخ کے ایک اہم موڑ کے قریب ہے۔ چند دنوں بعد ہم اپنی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائیں گے۔ 15 اگست، 1947 کو سیکڑوں برسوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی یادوں کو زندہ کرنے والا یہ موقع یوں تو ہرسال آتاہے، لیکن ساڑھے سات دہائی بعد آرہا یہ ’اُتسو‘ ملک کے ہر باشندے کے لیے خاص ہے۔ آزادی کے ان 75 برسوں میں ملک کی وِکاس یاترا نے انسانیت کے سبھی پیمانوں پر چنوتیوں کے بیچ قابل ذکر حصولیابیاں حاصل کی ہیں۔ انگریزوں کے چنگل سے نکل کر اور اس وقت کی عالمی برادری کے بیچ کمزور اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں لاچار جیسے عدم اعتماد اور طنز کے شکار ملک نے گزرتے وقت کے ساتھ ثقافتی، سماجی، سیاسی، اقتصادی، فوجی، کھیل، تکنیک جیسے سبھی میدانوں میں ریکارڈ بنائے ہیں۔آج کا بھارت ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو کمزور کرنے والی اندرونی سازشوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے، اور اسی صلاحیت کے ساتھ چین-پاکستان جیسے دشمنوں سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتا ہے۔ بھارت نے ایسے مستحکم ملک کی پہچان بنالی ہے جس کے بغیر عالمی اقتصادیات کا کوئی بھی ماڈل پورا نہیں ہو پاتا۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ آج کی سچائی ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی بڑامسئلہ آجائے تو حل کے لیے نگاہیں بھارت کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ کورونا کے دور میں تو بھارت پر یہ اعتماد اور پختہ ہوا ہے۔
سب کچھ نہیں ہوا اچانک
یہ سب کچھ اچانک نہیںہوا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت وقت کے ساتھ میچور ملک میں ڈھلی ہے۔ ملک کے عوام کی منتخب حکومتوں نے نظریاتی اختلاف کو پیچھے رکھتے ہوئے ملک کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ جمہوریت کی یہی خوبی ملک کی مضبوطی اور متواترترقی کوطے بھی کرتی ہے۔ شروعات کریں ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرو سے تو انہیں یوں ہی ’جدیدبھارت کا معمار‘ نہیں کہا جاتا۔ پنڈت نہرو نے 17 سال کی اپنی مدت کار میں ملک کی ترقی کو نئی سمت دینے کے ساتھ ہی عالمی برادری کو امن کا سبق بھی پڑھایا۔ جب ملک آزاد ہواتھا تودوسری عالمی جنگ کے بعد اقتصادی طور پر خستہ حال اور جغرافیائی طور پر منقسم تھا۔ ایسے میں ملک کی تعمیر نو کوئی آسان کام نہیں تھی لیکن 5 سالہ منصوبوں کی بنیاد رکھتے ہوئے پنڈت نہرو نے ایک طرف بھاکھڑانانگل باندھ، ریہندباندھ، بھلائی، بکارو اسپات کارخانہ جیسے ترقی کے مندر بنائے، وہیں آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایمس جیسے تعلیم کے مندر قائم کرکے سب سے پہلے ملک کو ترقی کی ڈگر پر لے کر آئے۔ بعد کے وزرائے اعظم میں لال بہادر شاستری کی مدت کار میں ملک نے سبز انقلاب اور سفید انقلاب کے ذریعے اشیائے خوردنی اور ڈیری پروڈکٹس میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھایا تو خاتون آہن کے روپ میں مشہور ملک کی اب تک کی واحد خاتون وزیراعظم اندراگاندھی نے پاکستان کے دوٹکڑے کرکے آزاد بنگلہ دیش قائم کر کے دنیا میں بھارت کی گورو گاتھا میں نئے صفحے کا اضافہ کیا۔ وہیں بینکوں کو قومیاکر عام آدمی کو سیدھے بینکنگ سسٹم سے جوڑنے جیسے دور رس فیصلوں سے ملک کی تعمیر میں اہم تعاون دیا۔ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے دور میں ملک کمپیوٹر انقلاب کے دم پر آگے بڑھا توپی وی نرسمہاراؤ کے وقت ہوئی اقتصادی اصلاحات نے ملک کی سمت ہی بدل دی۔ پھر وزیراعظم کی کرسی پر پہنچے اٹل بہاری واجپئی کی مدت کار میں صنعتوں کے پرائیویٹائزیشن، سب کے لیے تعلیم جیسے سماجی منصوبے، سورنم چتربھج اور گرام سڑک یوجنا کے ساتھ ہی پوکھرن ایٹمی ٹسٹ نے بھارت کی صلاحیتوں کو نئی سمت دی۔ نرسمہا راؤ کے وقت میں ملک کے وزیرخزانہ رہے منموہن سنگھ نے وزیراعظم بن کر ملک کو دنیا کی دوسری سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادیات بنانے کے ساتھ ہی منریگا، دیہی صحت اسکیم اور آرٹی آئی ایکٹ جیسے پہل کے ذریعے عام آدمی کو بھی طاقت دینے کا کام کیا۔ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جن وزرائے اعظم کا یہاں ذکر نہیں ہو پایا ہے، انہوں نے بھی موقع اور مدت کار کی متعینہ حد کی چنوتیوں کے بیچ ملک کی وکاس یاترا میں بھرپور تعاون دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
مودی نیا ورک کلچر لائے
گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک کے موجودہ وزیراعظم نریندرمودی نے پرانی حصولیابیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ترقی کی ایک نئی روایت، نئے ورک کلچر کو جنم دیا ہے۔ آتم نربھر بھارت اور ووکل فار لوکل کے نعروں کو زمین پر اتار کر انہوں نے ملک کے روایتی کامگاروں سے نئے زمانے کے تعلیم یافتہ نوجوانوںکے سنہرے مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔ ملک میں آج سب کا ساتھ اور سب کا پریاس سے ترقی کا اعتماد مضبوط ہو رہا ہے۔ اجالا، اجولا، شوچالیہ، پردھان منتری آواس، آیوشمان، جن دھن جیسے منصوبے عوامی بہبود کو مضبوطی دے رہے ہیں، تو اوڑی اور بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعے دنیا ہندوستانی فوج کی شجاعت دیکھ رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370کا خاتمہ اور شہرت قانون میں تبدیلی جہاں روایتی محاذ پر ملک کو ایک کر رہے ہیں، وہیں سماجی محاذ پر تین طلاق سے نجات مسلم خواتین کو مستحکم بنا رہا ہے۔ اسی طرح نوٹ بندی، جی ایس ٹی، سرکاری بینکوں کے انضمام میں ملک کی اقتصادی صحت کو بہترکرنے کی فکرہے۔
کورونا کے دوران جب دنیا میں کہرام مچ رہاتھا تب بھارت نے ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ تین تین محاذوں پر دنیا کو اپنی حیثیت کا احساس کروایا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب اشیائے خوردنی کے بحران کی وجہ سے دنیا کی شرطیں ماننے کے عوض ہماری عزت نفس داؤ پر لگی تھی لیکن اسی ملک نے کورونا کے دور میں اپنے 80کروڑ لوگوں کو مفت راشن دے کر دنیا کو بدلے ہوئے بھارت کی تصویردکھادی۔ اتنا ہی نہیں دنیا بھر کے ملکوں کو ہم نے ویکسین سپلائی کرکے موت کی وبا کے خلاف سرکشا کوچ دیا۔ اس سب کے بیچ جب دنیا کی اقتصادیات ابھی بھی بہتر نہیں ہو پائی ہے تو بھارت کے لیے سبھی اندازے سب سے تیز بڑھنے والی اقتصادیات کے اشارے دے رہے ہیں۔ دنیا میں بھارت کا یہی بڑھا ہوا رتبہ کچھ دن پہلے آپریشن گنگا کے ذریعے یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی وطن واپسی میں دکھائی دیا تھا۔ فوجی میدان میں آج بھارت ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دنیا کاچوتھا سپرپاور ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں ہم پہلے سے ہی آگے تھے، اب ہماری میزائل تکنیک اور ہمارا اندرونی پروگرام دنیا بھر میں ترقی کے جھنڈے گاڑرہاہے۔
حصولیابیوں کی مقناطیسی طاقت
بھارت کے پاس آج حصولیابیوں کی ایسی مقناطیسی طاقت ہے کہ سپر پاور کا تمغہ اب ہم سے زیادہ دنوں تک دورنہیں رہ پائے گا۔ عالمی اقتدار کے مرکز میں تبدیلی کا چلن بھی اس کا اشارہ کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ پاور سینٹر مغرب کی طرف شفٹ ہوتا رہا ہے۔ تقریباً 2,500 سال پہلے بھارت نے دنیا کی قیادت کی تھی۔ پھر اقتدار کا مرکز فارس، میسوپوٹامیہ، ترکی، روم سے ہوتے ہوئے اسپین اور پرتگال پہنچا۔ پھر سولہویں سے اٹھارہویں صدی میں برطانیہ اورفرانس نے دنیا بھر میں اپنی نوآبادیات کے ذریعے دبدبہ بنایا۔ اس کے بعددنیا کی چابی کافی وقت تک امریکہ کے ہاتھوں میں رہی جو اب ہندبحرالکاہل علاقے میں چین کے ہاتھوںمیں جاتی دکھ رہی ہے۔ اس علاقے میں اگلا نمبربھارت کا ہی ہے۔
ہماری حصولیابیاں نہیں
کسی سے انیس
ویسے بھی ایک ملک کی شکل میں ہماری حصولیابیاں کسی بھی دوسرے کامیاب ملک کے مقابلے انیس نہیں ہیں۔ اس محاذ پر پہلے ہی ہم بہت کچھ حاصل کرچکے ہیں۔ حالانکہ ابھی بھی بہت کچھ ثابت کیا جانا باقی ہے۔ اقتصادیات پٹری پر لوٹ رہی ہے لیکن 2025 تک 5 ٹریلین ڈالر کا خواب ابھی حقیقت سے دور لگ رہاہے۔ یہی بات کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وعدے پر کہی جاسکتی ہے۔ ایکسپورٹ پر امپورٹ کے بھاری ہونے سے میک ان انڈیا کا مقصد ادھورا ہے۔ ملک میں ابھی بھی 80 کروڑ غریب ہیں۔ عام آدمی کی آمدنی آج بھی مہنگائی کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہے۔ بے روزگاری بے لگام ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ مایوس نوجوانوں نے نوکری تلاش کرنا تک چھوڑ دیا ہے۔ معیاری تعلیم اور صحت دہائیوں سے ہمارے لیے چنوتی بنے ہوئے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ نئے بھارت نے اس تصور کو غلط ثابت کیا ہے کہ سماجی تنوع اور غریبی کے جمہوریت کا اقتصادی ترقی سے میل نہیں ہو سکتا۔ آزادی کے بعد بھارت ’ماضی کے کئی اَکالوں‘ کو پیچھے چھوڑچکا ہے۔ 1990 کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات سے ملک میں نئی تبدیلی آج چوطرفہ ترقی کی راہ آسان کر رہی ہے۔ اب باری دنیا کو راہ دکھانے کی اور سچے معنوں میں وشو گرو بننے کی ہے۔ یہاں سے اگرصحیح فیصلے لیتے ہیں تو خوشحالی اور امن کی ڈگر پر ہم ہی دنیا کے اگلے رہنما بھی ہوسکتے ہیں۔n