بچوں کے لیے ویکسین

0

ہندوستان سمیت پوری دنیا گزشتہ تقریباً دو برسوں سے کووڈ-19 کی زد میں ہے اور اب تک اس مہلک وبا سے بے شمار افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ دنیا کی تمام حکومتیں اس وبا سے نجات پانے کے لیے اپنے اپنے طور پر کوششیں کرتی رہیں اور طویل جدوجہد کے بعد کورونا سے بچائو کے لیے کووی شیلڈ کی شکل میں سائنسدانوں نے ایک ویکسین تیار کی جس کے بعد ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ویکسی نیشن کا آغاز ہوا۔ ہندوستان میں بھی وسیع پیمانے پر لوگوں کو ٹیکے لگانے کے لیے مہم چلائی گئی۔ پہلے 45 برس سے زائد عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کا آغاز ہوا پھر اس مہم میں 18+ کی آبادی کو بھی شامل کیا گیا۔ اسی طرح کووی شیلڈ کے بعد کوویکسین کو بھی منظوری مل گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک کے کروڑوں افراد کو کورونا کے خلاف ویکسین کی ڈوز دی جاچکی ہے۔ ان میں بیشتر دونوں ڈوز لے چکے ہیں جبکہ کچھ کو ابھی دوسری ڈوز دی جانی ہے۔
اٹھارہ برس سے زائد عمر کے لوگوں کی ویکسی نیشن کا سلسلہ ملک گیر پیمانے پر بدستور جاری ہے لیکن اکتوبر ماہ میں اس کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 18 برس سے زائد عمر کے بیشتر لوگوں کو ویکسین کی ڈوز دی جاچکی ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں بچوں کو لے کر تشویش پائی جاتی ہے اور دوسری لہر(جس میں بے شمار افراد موت کی آغوش میں چلے گئے) کے بعد تیسری لہر آنے کی پیش گوئی بھی کی جاتی رہی ہے اور ابھی بھی ذمہ داروں کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ کورونا کنٹرول میں ہے لیکن ختم نہیں ہوا ہے۔ 18 برس سے کم عمر کے بچوں کے لیے کووی شیلڈ اور کو ویکسین کی ڈوز کی منظوری نہیں ہے، اس لیے سائنسدانوں کو تشویش لاحق تھی کہ اگر تیسری لہر آئی تو اس سے بچے وسیع پیمانے پر متاثر ہو سکتے ہیں اور بچوں کے لیے ویکسین بنانے کا عمل جاری تھا۔ اب ایک خوش آئند خبر آئی ہے کہ دو سے اٹھارہ برس کے بچوں کے لیے کورونا کے خلاف ٹیکہ تیار ہو چکا ہے۔ بھارت بایو ٹیک نے ملک میں تیار ٹیکے کو ویکسین کو دو سے اٹھارہ برس کے بچوں کے لیے ایمرجنسی استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے اور ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) کی منظوری کے بعد ویکسین کو بچوں کے لیے قومی ٹیکہ کاری مہم میں شامل کر لیا جائے گا۔ بچوں کے لیے تیار کی گئی انسداد کورونا ٹیکہ کو-ویکسین کو بھارت بایو ٹیک نے سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کو دیا تھا۔ بچوں کی ویکسین کا مطالعہ کرنے کے بعد ایس ای سی نے اسے منظوری دینے کی سفارش کی ہے جو یقینا ایک خوش آئند خبر ہے۔ وزارت صحت کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق کو-ویکسین کو منظوری ملنے کے بعد بچوں کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم چلائی جاسکتی ہے۔ خبروں کے مطابق ملک میں 7.5 کروڑ ڈوز سے زائد کو-ویکسین کی پیداوار کا امکان ہے اور اس میں نومبر کے بعد تیزی آئے گی۔ بھارت بایو ٹیک نے انسداد کورونا ٹیکہ کے تیسرے مرحلہ کا ٹرائل مکمل کر لیا ہے اور اب اس کے ایمرجنسی استعمال کے لیے ڈرگ کنٹرولر جنرل کی منظوری کا انتظار ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی دو سے اٹھارہ برس کے بچوں کے لیے ملک میں تیار کی گئی انسداد کورونا ویکسین ’کو-ویکسین‘ کو منظوری مل جائے گی اور بچوں کے لیے ملک گیر پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم شروع کر دی جائے گی جس کے بعد تیسری لہر میں وسیع پیمانے پر بچوں کے کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ ٹل جائے گا جو یقینی طور پر ایک خوش آئند خبر ہے۔
اس سے قبل چائلڈ کینڈیلا کی سودیشی ویکسین کو 12 سے 18 برس تک کے بچوں کے لیے منظوری مل چکی ہے لیکن دو سے اٹھارہ برس کے بچوں کے لیے کو-ویکسین کو منظوری دینے کی سفارش خوش آئند خبر ہے اور امید ہے کہ اسے جلد ہی منظوری مل جائے گی۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here