مدرسہ کے تعلیمی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں، بہتری ہمارا ایجنڈا

0

اقلیت اکثریتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں:دانش انصاری
لکھنئو، (پی ٹی آئی) : اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ کے حال کے ایک فیصلہ کو مدرسوں میں تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیے جانے کے درمیان ریاست کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود دانش انصاری نے کہا ہے کہ ان کی سرکار کا ایجنڈا ان اداروں میں تعلیم کے ڈھانچے کو بدلنا نہیں، بلکہ اسے اور بہتر بنانا ہے۔ دانش انصاری نے مدرسہ تعلیم کے ڈھانچے کو بدلنے اور اس کا بنیادی مقصد ختم کرنے کی کوشش سے متعلق الزامات پر کہا کہ ’سرکار ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانے جا رہی ہے۔ سرکار کا ایجنڈا ہے کہ جو بھی طلبا و طالبات مدرسوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں اور بہتر تعلیم کیسے ملے، اس سمت میں کام کیا جائے۔‘ مدرسہ بورڈ کے ذریعہ اردو، عربی، فارسی اور دینیات کو الگ الگ کے بجائے ایک مضمون کے طور پر پڑھانے سے متعلق فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ’جو اچھی چیزیں ہیں، صرف انہیں ہی نافذ کیا جائے گا۔ مدرسہ بورڈ کو جہاں سے اچھا ان پٹ ملتا ہے، اسے سامنے رکھا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں ابھی صلاح و مشورہ کے دور میں ہیں تو انہیں حتمی نہ مانا جائے۔ جو بھی حتمی فیصلہ لیا جائے گا، وہ عام لوگوں کے مفاد میں ہی ہوگا۔‘ انصاری نے کہا کہ ’ہم مدرسہ کی تعلیم کو اور بہتر بنائیں گے۔ اس میں جو پرانی چیزیں چل رہی ہیں، ان میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور ہم کیا اچھی چیزیں جوڑ سکتے ہیں، اس میں تال میل بٹھا کر ہی ہم آگے بڑھیں گے۔‘ واضح رہے کہ اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل نے 24 مارچ کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں فیصلہ لیا تھا کہ سیکنڈری (منشی/ مولوی) کلاسوں میں عربی اور فارسی ادب کے ساتھ ساتھ دینیات کو شامل کرتے ہوئے صرف ایک مضمون بنایا جائے گا۔ وہیں باقی مضامین ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس اور سوشل سائنس کے سوال نامے الگ الگ ہوں گے۔
مدرسہ اساتذہ کی تنظیم ’ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اترپردیش‘ نے اس فیصلہ کو تعلیمی کوڈ اور مدرسہ بورڈ ایکٹ 2004 کے انتظامات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلہ کے نافذ ہونے سے مدرسہ کی تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ ختم ہو جائے گا، جسے روکا جانا چاہیے۔ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری دیوان صاحب زماں خان نے اقلیتی بہبود محکمہ کے چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر مدرسہ بورڈ کی تجاویز کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود دانش انصاری نے مدرسہ تعلیم کے بارے میں اپنی سرکار کی سوچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم نریندر مودی کا خواب ہے کہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن شریف ہو اور دوسرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ، ہم اسی سوچ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہنمائی میں ہم مسلسل اقلیتوں کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے تعلیم سب سے بنیادی چیز ہے۔ ہم پوری طرح سے مدرسوں کی تعلیم کی بہتری کےلئے سنجیدہ ہیں اور ہم مسلسل ضروری قدم اٹھا رہے ہیں۔‘ اترپردیش میں مجموعی طورپر 16,461 مدرسے ہیں، جن میں سے 560 کو سرکار سے گرانٹس ملتی ہے۔ ان مدرسوں میں 32,827 اساتذہ ہیں۔ وہاں اردو، عربی، فارسی اور مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندی، انگریزی، سائنس، ریاضی اور سوشل سائنس مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔
اقلیتی بہبود محکمہ کے اگلے 100 دنوں کے اہم پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے انصاری نے کہا کہ ’ہم مدرسہ نصاب کا موبائل اپلی کیشن فروغ دے رہے ہیں، تاکہ مدرسہ کے طلبا کی تعلیم میں اور آسانی ہو سکے۔اس اپلی کیشن کی کے توسط سے طلبا گھر پر بھی اچھی طرح سے پڑھائی کر سکیں گے۔‘ انہوں نے بتایاکہ سرکار اس کے ساتھ ساتھ اقلیت اکثریتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو فروغ کرنے کے قدم اٹھا رہی ہے۔ انصاری کے مطابق ان علاقوں میں وزیراعظم عوامی ترقیاتی پروگرام کے توسط سے آئی ٹی آئی بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں اور اسکولوں کی بھی تعمیر کرائی جائے گی تاکہ وہاں رہنے والے لوگوں کو سیدھا فائدہ ہو اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔