ضیاء الدین کی حراست میں موت کا معاملہ،اب تک کارروائی نہیں

0
https://indianexpress.com/

اعظم گڑھ (ایجنسیاں)حراست میں ہونے والی اموات میں انصاف ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ حراستی موت کے معاملے برسوں تک چلتے رہتے ہیں۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے پاس فی الحال حراستی اموات کے 3 ہزار 984 معاملے زیر التوا ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ہے اعظم گڑھ کے 38 سالہ ضیاء الدین خان کی امبیڈکر نگر میں حراست کے دوران ہونے والی موت کا معاملہ، جہاں پچھلے 10 مہینوں میں ملزم پولیس والوں کی گرفتاری تک نہیں ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے اس معاملے سے منسلک رٹ پٹیشن یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ یہ معاملہ قومی انسانی حقوق کمیشن میں زیر التوا ہے، اس لیے ہائی کورٹ آنا جلد بازی ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن ضلع انتظامیہ کی رپورٹ کا انتظار کررہا ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ پر معاملے کو دبانے کے لیے جوڈیشیل مجسٹریٹ کے بجائے ایس ڈی ایم سے جانچ کرانے اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی رہنما ہدایات کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔ لوک سبھا میں خود سرکار کے پیش کردہ قومی انسانی حقوق کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں حراست میں سب سے زیادہ اموات یوپی میں ہوئی ہیں۔ پچھلے 3سالوں میں پورے ملک میں حراست میں ہونے والی اموات میں سے تقریباً 24 فیصد اموات یوپی میں ہوئی ہیں، لیکن یہ تو صرف اعداد وشمار ہیں، کیونکہ حقیقت میں تو حراستی موت کے کئی معاملے کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔