ذرائع ابلاغ کی غیر معتبریت

0

محمد حنیف خان

ذرائع ابلاغ جمہوریت کا چوتھا اہم ستون ہے،جو آج پوری دنیا میں قابل اعتبار نہیں رہ گیا ہے،اسی لیے اقطاع عالم میں جمہوریت پر خطرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ ذرائع ابلاغ کا اپنے علاوہ دوسروں کے زیر اثر ہونا ہے،جس کے بہت سے اسباب ہیں۔جب روایتی ذرائع ابلاغ کسی کے زیر اثر آئے توسب سے پہلے خبروں کو ضرورت کے مطابق رنگ دیا جانے لگا اور اس کے ساتھ ایسی چیزیں ملائی جانے لگیں جو ملاوٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔پھر جعلی خبروں کی نشر و اشاعت ہونے لگی۔ لیکن جب سوشل میڈیا کا دور آیا تو نہ صرف اس طرح کی خبروں سے پردہ اٹھا بلکہ وہ خود اسی طرح کی خبروں کا اڈہ بن گیا۔جس کے نقصانات کے مدنظر ہی وزیراعظم نریندر مودی کوجعلی خبروں سے متعلق کہنا پڑا: ’’ایک چھوٹی سی فیک نیوز پورے ملک میں فساد برپا کر دیتی ہے۔‘‘ان کی یہ بات مبنی بر حقیقت ہے۔لیکن اس خبر پر جس طرح سے تبصرے سامنے آئے ہیں، ان سے محسوس ہوتا ہے کہ ’’وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا‘‘ کا معاملہ ہے جو قابل غور ہے۔
فیک نیوز(جعلی خبر)ایک ایسا مرکب ہے جس کے مختلف معنی ہیں۔یہ خبر کبھی گڑھی جاتی ہے جو قارئین/ ناظرین کو سچی لگتی ہے لیکن اس میں کسی طرح کی کوئی سچائی نہیں ہوتی،اسی لیے اس میں صداقت کی تصدیق کے قابل اعتماد ذرائع کا ذکر نہیں ہوتا۔کبھی کبھی جعلی خبر تشہیر اور خاص مقاصد کے تحت شائع اور نشر کی جاتی ہے۔جان بوجھ کر ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ عوام گمراہ ہوں اور خاص مقاصد پورے ہوں۔
سوشل سائٹس اور ذرائع ابلاغ کی ترقی کے اس دور میں جعلی خبریں نہ صرف کچھ زیادہ پھیل گئی ہیں بلکہ بلی بھی تھیلے سے باہر آگئی ہے کیونکہ پہلے فیک نیوز کی بلی تھیلے کے اندر تھی۔اُس دور میں بھی جعلی خبروں کی نشر و اشاعت اسی طرح کے مقاصد کے لیے ہوا کرتی تھی لیکن تب چونکہ ایسے ذرائع عام نہیں تھے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوجائیں، اس لیے اس میں بہتات نہیں تھی لیکن اب اس کے اثرات اور ثمرات فوراً ظاہر بھی ہوجاتے ہیں، اس لیے دولت، شہرت،عہدہ کے خواہشمند لوگوں کے ساتھ ہی نظریاتی فائدہ اٹھانے والے بھی بہت تیزی سے اس راہ پر چل پڑے جس کی وجہ سے اس کی قلعی بھی کھل کر سامنے آ گئی۔جعلی خبروں کا فائدہ بہت محدود ہے لیکن اس کے نقصانات بہت وسیع ہیں۔ذرائع ابلاغ کے اس دور میں خبریں فوراً قارئین اور ناظرین تک پہنچ جاتی ہیں جس کی وجہ سے کئی مقامات پر فسادات بھی پھیل جاتے ہیں۔جعلی خبروں میں چند ایسے موضوعات ہیں جو عام ہیں۔ پہلے سیاسی فائدہ اور دوسرے نظریاتی کشمکش کو ہوا دینا ہے۔ہندوستان میں جعلی خبروں کا فائدہ اور نقصان ان ہی دونوں دائروں میں سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے۔
ہندوستان میں ذرائع ابلاغ کی ترقی کی وجہ سے 75کروڑ سے زیادہ افراد انٹرنیٹ کا ستعمال کرتے ہیں، جس میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم ہیں مثلاً فیس بک،وہاٹس ایپ،انسٹاگرام،ٹوئٹر اور یو ٹیوب وغیرہ۔یہ اوپن سورس ہیں جہاں کوئی بھی اظہار خیال کرسکتا ہے۔اسی آزادی نے ان کو جعلی خبروں کا ہب/فیکٹری بنا دیا ہے۔ نیوز چینل اور اخبار بھی پیچھے نہیں ہیں۔بس ان کے طریقے الگ الگ ہوتے ہیں۔بعض اخباروں میں خبروں کو نظریاتی رنگ دے دیا جاتا ہے تو بعض ’نیوز‘ کے ساتھ ’ویوز‘ کو بھی شامل کر کے خبر اور اپنے ذاتی خیالات کو گڈمڈ کردیتے ہیں یہی حال چینلوں کا ہے،جس کا قارئین و ناظرین مستقل مشاہدہ کر رہے ہیں۔سب سے زیادہ نقصان اسی چور دروازے سے ہوا ہے۔’’گڈ مڈ کا چور دروازہ‘‘ایک ایسا دروازہ ہے جس سے عوام الناس کی ایک خاص طرز پر ذہن سازی کی جاتی ہے،جس کے دیرپا اثرات معاشرے پر پڑتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ اس کا نقصان صرف معاشرے کو ہو رہا ہے خود ذرائع ابلاغ پر اعتماد بھی مجروح ہوا ہے۔آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ روایتی میڈیا سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔یہ صرف ہندوستان میں نہیں ہے بیرون ممالک بھی روایتی میڈیا یعنی اخبار اور نیوز چینلوں کو قابل اعتماد ذرائع کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بیرون ملک کسی بڑے اخبار میں ہندوستان سے متعلق کوئی ایسی خبر چھپتی ہے جس سے حکومت کی شبیہ بہتر ہوتی ہو تو اپوزیشن اس پر الزام عائد کرتا ہے کہ یہ سب اشتہار بازی ہے جبکہ اگر کوئی خبر یا رپورٹ حکومت کی شبیہ خراب کرنے والی شائع ہوجائے تو حکومت ملک مخالف عناصر کی کارستانی بتاتی ہے،جس کا مطلب یہی ہے کہ بیرون ممالک کے روایتی ذرائع ابلاغ بھی قابل اعتماد نہیں ہیں۔ ہندوستان میں نیوز چینل کسی سیاسی اسٹیج کا کردار ادا کر تے نظر آتے ہیں۔جس کے اپنے مقاصد ہیں، اسی لیے ان پر بھی اعتبار کمزور ہوگیا ہے۔
حال ہی میں آن لائن نیوز پورٹل ’’دی وائر ‘‘ کے خلاف جعلی خبر کے ضمن میں ایک مقدمہ قائم کیا گیا۔چونکہ جس خبر کے پس منظر میں یہ مقدمہ قائم کیا گیا تھا اس میں ذرائع پر شکوک و شبہات تھے جس کی وجہ سے نہ صرف نیوز پورٹل کو معافی مانگنی پڑی بلکہ اس کے مالکان کو دفاتر اور گھر کی جانچ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔جس وقت نوٹ بندی ہوئی تھی، اس وقت نیوز چینل ’’آج تک‘‘ نے دو ہزار روپے کے نئے نوٹ سے متعلق ایک اسٹوری کی تھی جس میں کسی طرح کی صداقت نہیں تھی۔ اس اسٹوری میںنوٹ بندی اور نئے نوٹ کو اس طور پر پیش کیا گیا تھا کہ اس میں ‘’چِپ‘لگی ہوئی ہے جس سے بد عنوانی پر قدغن لگے گی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔اس طرح ’’کووڈ19‘‘کے دور میں جب ویکسین لگائی جانے لگی تو اس سے متعلق طرح طرح کی غیر مصدقہ خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ ویکسینیشن کے بعد دو برس کے اندر متعلقہ شخص کی موت ہوجائے گی۔اس کے علاوہ سیاسی فائدے اور نظریاتی تصادم کے لیے جس طرح جعلی خبروں کی نشر و اشاعت ہو رہی ہے، اس سے کوئی بھی ذی شعور قاری نابلد نہیں ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ جعلی خبروں سے متعلق ہندوستان میں کوئی قانون نہیں ہے۔قانون ہے لیکن واضح طور پر عام جعلی خبروں کو روک پانے میں اس سے مدد کم مل رہی ہے۔اسی لیے فروری 2021میں سپریم کورٹ میں وکیل ونیت جندل کی جانب سے ایک عرضی داخل کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ مرکزی حکومت کو حکم دے کہ وہ جعلی خبروں سے متعلق الگ سے ایک قانون بنائے،جس کے تحت سوشل میڈیا پر نفرت والی جعلی خبروں کے پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ میڈیا،چینل اور نیٹ ورک کے خلاف شکایت کے لیے میڈیا ٹریبونل بنایا جائے۔
1860آئی پی سی کی دفعہ505(1)بی ان معاملات سے متعلق ہے جس میں کوئی شخص کوئی بات/ افواہ اس مقصد سے پھیلاتا ہے جس سے عوام کے ایک طبقہ کے درمیان خوف پیدا ہونے کا اندیشہ ہو،یا ایسا ماحول بن سکتا ہو جس سے کوئی شخص ریاست کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوجائے، یا امن عامہ کو اس سے نقصان پہنچتا ہو تو اس دفعہ کے تحت اس شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ تین برس کی سزا اور جرمانہ یا پھر دونوں کا نفاذ ہوتا ہے۔اسی طرح آئی ٹی قوانین کے تحت حکومت اس طرح کی خبروں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے لیکن یہ قوانین واقعی کافی نہیں ہیں،اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نہ صرف سخت قوانین وضع کرے بلکہ اس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا نفاذ غیر جانبداری سے سختی کے ساتھ کرے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تونہ تو جعلی خبروں پر قدغن لگے گی اور نہ ہی ملک کو خاک و خون میں لتھڑنے سے بچایا جا سکتا ہے لیکن یہ پہل حکومت کو ہی کرنی ہوگی کیونکہ گیند اسی کے پالے میں ہے۔
[email protected]