یونیورسٹی اور کالجوں نے طلبا کے آنے کی تیاری شروع کی

0
https://www.indiatoday.in/

نئی دہلی (ایس این بی) : دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) نے 17فروری سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن دونوں کورسوں کے لیے یکساں کلاسیں شروع کرنے کا اعلان بدھ کو کیا تھا۔ اس کے بعد یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالجوں نے طلبا کے آنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ہاسٹلوں کی صفائی بھی ہونے لگی ہے۔ افسران نے بتایا کہ ہاسٹلوں میں کمرے پانے کے لیے دی گئی درخواستوں پر کارروائی ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ مہاراجہ اگرسین کالج کے ذرائع کے مطابق ہاسٹل کے کمرے 17فروری تک تیار نہیں ہوسکیںگے کیونکہ وہ تقریباً 2سالوں سے بند پڑے ہیں۔ وہیں کالج کے پرنسپل سنجیو کمار تیواری نے بتایا کہ ہاسٹل کے کمرے تیار کرنے کے لیے وہ لوگ جنگی پیمانہ پر کام کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہاسٹل میں 56طلبا کے رہنے کی سہولت ہے۔ ہم نے دیواروں پر پینٹ کرانے سمیت دیگر تیاریاں شروع کردی ہیں۔ کمروں کے الاٹمنٹ کا عمل آن لائن کیا جائے گا۔ کالج انتظامیہ کے لیے اس میں دوسرا اہم کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کمروں میں ضرورت کے مطابق ہوا اور پانی رہے اور اس میں 2طلبا کے رہنے کی جگہ بنے۔
کروڑی مل کالج کی پرنسپل وبھا چوہان نے بتایا کہ ہمیں کمروں کا سائز دیکھنا ہوگا۔ اگر کمرہ چھوٹا ہے تو اس میں ایک طالب علم کو جگہ دی جائے گی۔ ہاسٹل کی لسٹ 17فروری کو نہیں آسکتی ہے۔ اس میں کچھ دن مزید لگ سکتے ہیں۔ ایسا تقریباً ہرسال ہوتا ہے۔ داخلہ عمل مکمل ہونے کے بعد ہاسٹل کی فہرست تیار کی جاتی ہے۔ اس بیچ یونیورسٹی نے دہلی کے باہر سے آنے والے طلبا کو صلاح دی ہے کہ وہ اپنا سفری منصوبہ اس طرح بنائیں کہ کالج جانے سے پہلے وہ 3دنوں کا اپنا الگ سے انتظام کرسکیں۔
دوسری جانب طلبا تنظیموں کے مظاہرہ کے سبب دہلی یونیورسٹی نے 17فروری سے کالجوں میں پڑھائی آف لائن موڈ میں شروع کیے جانے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن باہری ریاستوں کے طلبا نے ایک ہفتہ کے اندر کالج پہنچ کر آف لائن کلاس میں شامل ہونے سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آف کلاسوں کا انعقاد 21مارچ سے کیا جائے۔ ڈی یو کے تقریباً 4ہزار سے زائد طلبا اور سرپرستوں نے ڈی یو کے وائس چانسلر سے ہولی کے بعد 21مارچ سے آف لائن پڑھائی کیے جانے کی مانگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی سے باہر ہونے کے سبب انہیں اتنے کم وقت میں دہلی آکر مہنگے کرایہ کے پیئنگ گیسٹ روم لینے ہوںگے۔ اس سے ان کے سرپرستوں پر اقتصادی بوجھ بڑھے گا لہٰذا انہیں ایک ماہ کا وقت دیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈی یو سے الحاق شدہ کالجوں کے ہاسٹل میں موجودہ سیشن کے داخلے ہی نہیں ہوئے ہیں۔ اس داخلہ عمل کو مکمل کرنے میں تقریباً 2ہفتے کا وقت لگے گا۔
ایسے میں دہلی میں باہر کے طلبا کو کالج سے باہر مہنگے کرایہ کے کمرے لینے پڑیںگے لہٰذا 21مارچ سے پہلے تک کی پڑھائی آن لائن موڈ میں رکھے جانے کی مانگ کی جارہی ہے۔ دہلی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالجوں میں تقریباً 70فیصد طلبا دہلی سے باہر کی ریاستوں سے ہیں۔ کووڈ-19کے سبب گزشتہ 2سال سے کالجوں میں آن لائن پڑھائی چل رہی ہے۔