یونیفارم سول کوڈ- مذموم عزائم اور امت مسلمہ

0
racolblegal.com

گجرات اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ لیکن اس سے عین پہلے یونیفارم سول کوڈ کے معاملہ کو سرخیوں میں بھی لا دیا گیا ہے۔ اسمبلی انتخابی مہم کا رنگ ڈھنگ کیا ہوگا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ 29ّْْْ؍اکتوبر کو گجرات کی ریاستی کابینہ کی میٹنگ کے دوران کمیٹی کی تشکیل کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ اس کی جانکاری ریاست کے وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی اور مرکزی وزیر پرشوتم روپالا نے دی اورانتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے قبل کمیٹی تشکیل دینے کی بات بھی کہی۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی بات کا زبان پر آنا بھی بتاتا ہے کہ یہ ایک سیاسی شوشہ تھا۔ اس پر ردعمل بھی فورا سامنے آنا تھا سو آیا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اس فیصلہ کی تنقید کی۔ لیکن اس مسئلہ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اسے یہ کہہ کر آگے بڑھا دیا کہ ’ اگر ان کا ارادہ یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنا ہے، تو ملک بھر کے لئے کمیٹی تشکیل کیوں نہیں دیتے‘۔ اس کے علاوہ بھی سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیلٹ فارم سے بھی ردعمل میں یہ بات کہہ دی گئی کہ ’’ وہ(آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) قومی سطح پر بھی دوسری اقلیتوں کے ساتھ مل کر پوری قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کرے گا‘‘۔ کون نہیں جانتا کہ یونیفارم سول کوڈ کا ’شوشہ‘ گجرات اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے مقصد سے چھوڑا گیا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے اس سے پہلے اتراکھنڈ میں اسمبلی انتخابات سے پہلے اسے حربے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
اس پر ہوئے ردعمل کے نتیجہ میں یہ حربہ پورے طور پر اتراکھنڈ میں کامیاب ہوا۔ مفادعامہ، رفاہی، مثبت اور تعمیری کاموں میں ناکام رہنے پر حکومت مخالف عوامی رجحان کسی سے چھپے ہوئے نہیں تھے۔ سب ہی اسے محسوس کر رہے تھے، خود حکمراں طبقہ بھی اس پہلو سے بہت پریشانی میں تھا اور اس سے نکلنے کے لئے وزیراعلیٰ کے چہرا بدلنے سے بھی بات بنتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ریاست کے ساتھ ہی ملک کے سیکولرزم اور جمہوریت پسند سنجیدہ شہری تبدیلی کی امید لگا بیٹھے تھے۔ اچانک یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ سامنے لادیا گیا۔ عوامی پلیٹ فارم پر اس پر ردعمل اور بحث ومباحثہ کا سلسلہ چل پڑا۔ اس شوشہ کو چھوڑنے والے ردعمل کو ہوا دے دے کر اپنے ووٹروں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوگئے کہ ان کے اس شوشہ سے اقلیت پریشانی محسوس کرنے لگی ہے۔ منفی سیاست کی مسلسل کوشش کے نتیجہ میں خود کے آرام سے کہیں زیادہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھنے یا اس کے محض تصور سے ہی ایک مخصوص طبقہ میں ’سکون‘ محسوس کرنے کی جو نفسیات پروان چڑھنے لگی ہے اسے ردعمل سے بھرپور غذا ملی۔ اس کے بعد اسمبلی انتخابات کا جو نتیجہ آیا وہ سب کے سامنے ہے۔
یونیفارم سول کوڈ کے معاملہ میں دیکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ گرچہ حکمراں طبقہ کا حصہ اسے ہوا دینے میں کہیں زیادہ ہے لیکن یہ آج کا نہیں ہے۔ شروع سے ہی تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیوں نے اسے ہوا دینے میں اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کیا ہے۔ سیاسی،عدالتی، سرکاری، نیم سرکاری، انتظامی، سماجی، صحافتی ہر سطح پر مختلف طریقوں سے اس کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ حکومت خواہ کسی کی بھی رہی ہو ارباب اختیار میں اس کے لئے سرگرم لوگ ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں۔ 1963میں اس وقت کی حکومت نے مسلم پرسنل لا میں تبدیلی پر غور و فکر کے مقصد سے ایک کمیشن مقرر کرنا چاہا تھا لیکن اس کی مخالفت ہونے پر پارلیمنٹ میں اسے کہنا پڑا کہ حکومت اس وقت اس میں کوئی ترمیم کرنا مناسب نہیں سمجھتی ہے۔ اس کے دو تین سال بعد پھر کوشش ہوئی، اس کے بعد 1972میں متبنیٰ بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون گوکھلے نے کہا تھا کہ’یہ مسودہ قانون ’یونیفارم سول کوڈ‘ کی طرف ایک مضبوط قدم ہے‘۔ اس سوچ کے نتیجہ میں چھوٹے بڑے نہ جانے کتنے ادارے اور گروپ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں اور بہتوں نے تو بنیادی مقصد ہی اسی کو بنا لیا ہے۔ خود مسلمانوں میں سے ایک طبقہ مفادات کی بنیاد پر ان کا ہم خیال بن گیا ہے جو مختلف ایشوز پر ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوا نظر آجاتا ہے اور یہ برملا یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ’مسلمانوں کا ایک طبقہ ہمارے ساتھ ہے‘۔
یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے کہنے کو خواہ کچھ بھی کہا جائے، حقیقت یہ ہے کہ اس کی تان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ’مسلم‘ پر ٹوٹتی ہے۔ مسلم پرسنل لا تو انگریزی حکومت میں 1937میں تیار کیا گیا تھا لیکن شادی، طلاق، نان و نفقہ اور وراثت جیسے جن عائلی قوانین پر نشانہ سادھا جاتا ہے وہ صرف ملک کی بڑی اقلیت ’مسلم‘ کے نہ ہو کر اسلام کا حصہ ہیں۔ یہ بات مسلمانوں پر تان توڑنے والوں کو شائد نہیں معلوم اور خود مسلمانوں کے ذہنوں سے غالباً نکل جاتی ہے۔ اسلام کسی ایک علاقہ، خطہ، زمانہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی مخصوص نظام حکومت اور نظریہ کے مرہون منت ہے کہ اس کے بغیر وہ اپنی خوبیوں کو کھودے گا یا خطرے میں پڑ جائے گا۔ وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ اسے کسی قسم کا ’تحفظ‘ فراہم کیا جائے۔ اسلام تمام انسانوں کے لئے اور رہتی دنیا تک کے لئے ہے اور پوری دنیا میں ہے۔ اس نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک انسانوں کے بنائے ہوئے نہ جانے کتنے نظام حیات، نظریوں اور طرز زندگی کا سامنا کیا، ان کے باطل ہونے کو آشکارا کیا اور نہ جانے کتنے طوفانوں اور فتنوں کو سرد کیا۔ وہ پوری انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے ہے۔ انسانوں کے لئے مفید ہونے کی بھرپور صلاحیت سے آراستہ اور تمام مسائل اور مشکلات کا حل رکھتا ہے۔ وہ بذات خود تحفظ کا ضامن اور امن وامان کا گہوارہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کو جانیں، پہچانیں اور اس کی مانیں۔ اسے نہ کوئی شکست دے سکتا ہے اور نہ فنا کرسکتا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔‘‘(بخاری:1354)۔
مسلمانوں کے لئے دیکھنے کی اصل کی بات یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے ماحول میں پورے حالات کا جائزہ لیں اور اس وقت ہی نہیں انگریزوں کے دور سے لے کر اب تک کے اپنے برتاؤ اور کردار پر نظر ڈالیں۔ اس دوران انہوں نے جو طرز عمل اور کردار اختیار کیا ہے کیا وہی کردار اسلام کو مطلوب ہے۔ امت سے تقاضہ ہے کہ خیر کی علمبردار ہونے کی وجہ سے برائی کا خواہ کتنی ہی بار اس کو سامنا کرنا پڑے وہ ہر بار اچھے انداز سے صورت حال کو سنبھالے ، نہ کہ ’پوری قوت کے ساتھ اس کی مخالفت‘ کرنے کی بات کرے، جس سے ہمیشہ اسے نقصان ہی ہوا ہے۔ ایک جمہوری نظام میں احتجاج، مظاہرہ، مخالفت، تنقید، ردعمل اور ترکی بہ ترکی جواب کی گنجائش ہوتی ہے اور لوگ اس راہ کو اپنی آواز بلند کرنے اور اپنی بات منوانے کے لئے اختیار کرتے ہیں۔ کیا اسلام بھی یہی راستہ سجھاتا ہے یا وہ سچ بات کہنے کے لئے حکمت، دانشمندی، دلائل سے اور اچھا طریقہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس تدبیر سے شرپسندوں اور فتنہ انگیزوں کو ناکامی ہاتھ آتی ہے اور سنجیدہ و پرامن لوگ بات کی گہرائی تک پہنچتے ہیں اور سچ کو سمجھتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ضروری ہے کہ اسلام نے بات کب، کہاں اور کیسے رکھی جائے اور کیوں رکھی جائے اس کا جو طریقہ بتایا ہے اسے جانا جائے۔ ملک کے دستور نے اپنی بات کو مناسب پلیٹ فارم پر موثر طریقہ سے رکھنے کے جو راستے بتائے ہیں ان سے استفادہ کیا جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ملک کے شہریوں تک اپنی بات پہنچائی جائے۔ فتنہ انگیزوں کے ارادوں کو ناکام بنانے کا واحد طریقہ یہی ہے۔
([email protected])