یونیفارم سول کوڈ: بی جے پی کا ایک ترجیحی ایجنڈا

0

ایم اے کنول جعفری

گجرات کی برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوگوں کا دھیان مہنگائی اور بے روزگاری جیسے ایشوز سے بھٹکانے اور ووٹوں کی تقطیب کے لیے انتخابی تاریخوں کے اعلان سے پہلے ہی یونیفارم سیول کوڈکا داؤ چلا ہے۔یونیفارم سیول کوڈ پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث و مباحثے کا دور شروع ہوگیا ہے۔ اکثریتی طبقے کے لوگ جہاں یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیے جانے کی پرزور حمایت میں ہیں وہیں اقلیتی طبقے سے متعلق علمائے کرام اور جہاں دیدہ افراد ایک قانون کی زبردست مخالفت کر رہے ہیں۔ اسے نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد اکثریتی طبقے کے رائے دہندگان کو اپنے قریب لانے کے علاوہ دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے نوٹوں پرلکشمی اورگنیش کی تصویریں چھاپنے کے مطالبے کی کاٹ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بی جے پی اسے اتراکھنڈ اسمبلی الیکشن میں آزما چکی ہے۔ صوبے کے وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی اور مرکزی وزیر پُروشوتم روپالا کے مطابق وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ پٹیل کی صدارت میں 29 اکتوبر کو ہوئی کابینہ میٹنگ میں صوبے میں یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کیے جانے کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ کمیٹی کے صدر ہائی کورٹ کے سبکدوش جج ہوں گے۔ کمیٹی میں کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار اراکین منتخب کیے جائیں گے۔ کمیٹی کی تشکیل کی ذمہ داری صوبے کے وزیراعلیٰ کو دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی یونیفارم سیول کوڈ کے امکانات کا جائزہ لے گی۔
اس سے قبل اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی بی جے پی سرکاروں نے اپنی اپنی ریاستوں میں یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ گجرات میں 182 سیٹیں ہیں اور اسمبلی کی میعاد اگلے برس 18 فروری کو پوری ہو رہی ہے۔ بی جے پی کو ریاست میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے 92 سیٹیں جیتنا لازمی ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں بی جے پی نے 99 سیٹیں جیتی تھی۔ کانگریس کو 77، بھارتیہ ٹرائبل پارٹی کو دو، این سی پی کو ایک اور آزاد امیدواروں کو تین نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ہماچل پردیش میںبی جے پی حکومت نے بھی ریاست میں یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر نے جائزہ کمیٹی کی تشکیل کرکے اسے یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کے لیے مسودہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ صوبے میں 68 حلقوںکے لیے ایک ہی مرحلے میں 12 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور 8 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ صوبے میں اسمبلی کی میعاد 8 جنوری 2023 کو مکمل ہو رہی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کی 44، کانگریس کی 21 اور دیگر اراکین کی تین سیٹیں ہیں۔ بی جے پی کو اپنی حکومت بچانے کے لیے کم سے کم 35 سیٹوں پر فتح حاصل کرنا لازمی ہے۔ صوبائی سیاست اور حالات پر نزدیک سے نگاہ رکھنے والوںکا خیال ہے کہ صوبے کا گزشتہ ریکارڈ اور موجودہ حالات بی جے پی کے اقتدار میں واپسی کی حمایت نہیںکر رہے ہیں،اس لیے یونیفارم سیول کوڈکا ایشو اٹھایا گیا تاکہ لوگوں کا ذہن مہنگائی اور بے روزگاری جیسے ایشوز سے ہٹاتے ہوئے اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو گرماکر ان کے ووٹوں کو اپنے حق میں یکجا کیا جا سکے۔مرکزی وزیر پُروشوتم روپالا نے واضح کیا کہ ہندو وِواہ اَدھی نیم( ہندو شادی قانون) اور’مسلم پرسنل لا‘ کو یونیفارم سیول کوڈ کے دائرے میںلائیں گے۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا کہ یہ قوانین آئین کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کا بنیادی حقوق ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ یونیفارم سیول کوڈ شوہر یا باپ کی ملکیت پر بیوی یا بیٹی کے دعوے جیسے تنازعات میں پیدا ہونے والے تضادات کو حل کرنے کے بارے میں ہے۔ مرکزی وزیر کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کا اسمبلی الیکشن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے حزب مخالف جماعتوں کے بی جے پی کے ذریعے یونیفارم سیول کوڈکا وعدہ کرنے کو ہندو رائے دہندگان کی تقطیب کی کوشش کے الزام و نکتہ چینی کو مسترد کر دیااور یہ کہا کہ کمیٹی یو سی سی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور پھر رپورٹ پیش کرے گی۔ اسی کی بنیاد پر حکومت اس پر عمل درآمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی۔
بی جے پی کے ایک قانون کے نفاذ کے فیصلے پر سینئر کانگریسی رہنما ارجن موڈھواڈیا کا کہنا ہے کہ اس طرح کا قانون بنانے کا اختیار صوبائی اسمبلی کے پاس نہیں ہے۔ یہ مہنگائی،بے روزگاری اور دیگر مسئلوں سے عاجز لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ڈرامہ بھر ہے۔ الزام لگایا کہ بی جے پی گجرات میں گزشتہ 27 اور مرکز میں 8 سالوں سے اقتدار میں ہے لیکن ڈبل انجن کی حکومتوں کو یہ ایشو یاد نہیں آیا۔ عین الیکشن سے قبل اس طرح کے فیصلے کی کوئی تک نہیں ہے۔ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے یونیفارم سیول کوڈ کے لیے گجرات میں کمیٹی قائم کرنے کے لیے بی جے پی سرکارکی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی ایسا کرنا چاہتی ہے تویونیفارم سیول کوڈ کو پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ نے سوال کیا کہ کیابی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار اس سمت میں قدم اٹھانے کے لیے پارلیمانی الیکشن کا انتظار کر رہی ہے؟
زعفرانی تنظیموں کے ذریعے یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کے مطالبے پر آواز بلند کرنا نئی بات نہیں ہے ۔ الیکشن سے قبل اسے جب تب اٹھایا جاتا رہا ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں میں لگا آر ایس ایس شروع سے ہی یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیے جانے کے حق میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھی یہی موقف ہے۔ بی جے پی نے 2019 کے عام انتخاب کے لیے جاری منشور میں رام مندر کی تعمیر اور جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے علاوہ یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذکا وعدہ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کی جگہ پر مذہبی عقیدے سے جڑی رام مندر کی تعمیر کا کام ہنگامی سطح پر جاری ہے۔ دفعہ 370 اور ریاست کے درجے کو ختم کرکے جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد انہیں علاقے کا درجہ دیتے ہوئے مرکز کے زیرانتظام کیا جا چکا ہے ۔ ہندوووٹوں کے پولرائزیشن کے لیے رام مندر اور ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی اختیارات دینے والی آئینی شق 370 کو ختم کرنے کے نام پر خوب سیاسی فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ اب چونکہ مزید مذہبی و جذباتی ایشوز باقی نہیں رہے، اس لیے ہماچل پردیش اور گجرات کی نیا پار لگانے کے لیے یونیفارم سیول کوڈ کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ ایک جانب جمعیۃ علماء ہند اور مسلم پرسنل لا بورڈ یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی سخت مخالفت کر رہے ہیں وہیں کئی مسلم مذہبی اور سماجی تنظیمیں اس کے نفاذ کے حق میں بول رہی ہیں۔
ایک ملک میں رہنے والوں کے لیے ایک قانون یونیفارم سیول کوڈ کہلاتا ہے ۔یہ تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں پر یکساں نافذ ہوتا ہے۔ اس میں شادی، نکاح، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے تمام معاملات شامل ہیں۔ یونیفارم سیول کوڈ ایک صدی سے زائد عرصے سے سیاسی بیانیہ اور بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے یہ ایک ترجیحی ایجنڈا ہے، اس لیے وہ اسے نافذ کیے جانے پر زور دے رہی ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے بھارت کاآئین تشکیل کرتے وقت کہا تھا کہ یونیفارم سیول کوڈ مطلوبہ ہے لیکن فی الوقت اسے رضاکارانہ رہنا چاہیے اور اس طرح آئین کے مسودے کی دفعہ 35 کو حصہIVمیں ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کے ایک حصے کے طور پر آئین ہند کی دفعہ44کے طور پر شامل کیا گیا،جو اس وقت پورا ہوگا جب قوم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اس کے بعدیونیفارم سیول کوڈکو سماجی قبولیت دی جاسکے گی۔ برطانوی حکومت کے ذریعے 1835میں پیش کی گئی اس رپورٹ کے ساتھ یونیفارم سیول کوڈ کی شروعات ہوئی جس میں جرائم، شواہد اور معاہدوں سے متعلق ہندوستانی قانون کی ضابطہ بندی میں یکسانیت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس میں خاص طور پر سفارش کی گئی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذاتی قوانین کو برقرار رکھا جائے۔ اکتوبر کی شروعات میں مرکزی سرکار نے بھی یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے پر عدالت عظمیٰ میں دیے گئے حلف نامے میں کہا تھا کہ مرکزی سرکار پارلیمنٹ کو یونیفارم سیول کوڈپر کوئی قانون بنانے یا اسے نافذ کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔ قانون کمیشن ایک مشاورت نامہ جاری کر کے مرکزی سرکار سے کہہ چکا ہے کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سیول کوڈ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔کمیشن کا خیال ہے کہ یونیفارم سیول کوڈ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔سبھی نجی قانونی طریقہ کار کو کوڈ شدہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے تعصب اور دقیانوسی تصورات سامنے آ سکیں ۔
اس کے بر عکس ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کے مقصد سے الیکشن سے قبل یونیفارم سیول کوڈ کے ایشو کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج گجرات میں جس طرح کے حالات ہیں، کم و بیش اسی طرح کے حالات اتراکھنڈ میں تھے۔ وہاں پانچ برس کے دورانیہ میں تین وزیر اعلیٰ بدلے گئے تھے۔ حکومت کے خلاف لوگوں میں بڑھتی ناراضگی کے دوران صوبے کی کمان پشکر سنگھ دھامی کو سونپی گئی۔ دھامی نے انتخاب سے پہلے یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ بی جے پی کو اس ایشو کو اچھالنے کا خاطرخواہ فائدہ ملا تھا۔ گجرات میں بی جے پی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں، اس لیے وہاں بھی بی جے پی اسی حربے کا استعمال کرکے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اسے اس ایشو کا کتنا فائدہ پہنچے گا، یہ تو انتخابات کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا لیکن یہ کہنا غلط نہیں کہ اس قسم کے جذباتی ایشوز کے ذریعہ ووٹوں کی تقطیب ہوتی رہی ہے۔ دوسری جانب یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اتراکھنڈ حکومت کمیٹی تشکیل کرنے کے علاوہ کوئی کارنامہ نہیں دکھا سکی۔ یہی حال گجرات اور ہماچل پردیش کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ ملک میں رہنے والے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، بودھوں اور پارسیوں سمیت دیگر تمام اقوام و فرقوں کے الگ الگ مذہبی قوانین ہیں۔ ان ہی سے ان کی اور ان کے مذہب کی شناخت ہوتی ہے۔آسمانی کتاب قرآن مجید میں نکاح، طلاق، وراثت میں بیٹے، بیٹی، شوہر، بیوی و دیگر اہل خانہ کی حصہ داری اور حقوق طے کیے گئے ہیں۔ انہیں تبدیل کرنے سے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے جنہیں کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ دیگر مذاہب میں اس طرح کی قید نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ علمائے دین یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ویسے بھی پورے ملک میں یونیفارم سیول کوڈ نافذ کرنے کے مقصد سے مرکزی سرکار کے پاس کوئی ایسا خاکہ نہیں ہے جسے سامنے لاکر عوام کو مطمئن کیا جا سکے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور ادیب ہیں)
[email protected]