اقوام متحدہ: یوکرین میں خواتین کے خلاف کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

0

اقوام متحدہ ( ایجنسیاں ) : اقوام متحدہ میں ذمے داران نے زور دیا ہے کہ یوکرین میں روس کی جنگ کے دوران میں اْن پر تشدد کارروائیوں کی تحقیق کی جائے جن میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس تنازع میں بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ مطالبہ پیر کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آیا۔ یہ اجلاس امریکا اور البانیا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ خواتین سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث نے اس موقع پر کہا کہ ’اس جنگ کو اب رک جانا چاہیے‘۔ ادھر اقوام متحدہ کی بچوں سے متعلق تنظیم یونیسف میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مانوئل فونٹین کا کہنا ہے کہ “اب اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے ، یوکرین کے بچے مزید انتظار نہیں کر سکتے”۔سیما بحوث کے مطابق یوکرین میں آبرو ریزی اور جنسی تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سننے میں آ رہا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیق ہونی چاہیے تا کہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
مانوئل فونٹین یوکرین کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین میں قحط پڑنے کا خطرہ ہے۔ فونٹین کے مطابق یوکرین میں اس وقت 32 لاکھ بچے اپنے گھروں میں ہیں جن میں سے نصف کے قریب بچوں کو مطلوبہ خوراک نہ ملنے کا خطرہ درپیش ہے۔اجلاس سے قبل اقوام متحدہ میں ناروے کی خاتون سفیر مونا یول نے یوکرین میں جاری جنگ کے ملک میں بچوں کی تعلیم پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں اسکولوں کی بندش سے 57 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ناروے کی سفیر نے روس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “بچے بے قصور ہیں۔ ان کو ہلاک کرنے سے رکاجائے۔ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے سے رکا جائے ،،، جنگ کو روک دیا جائے۔