یوکرین:مودی پہل کیوں نہ کریں؟

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے روس کو اپنی انسانی حقوق کی کونسل سے نکال دیا ہے۔ اس کے193ارکان میں سے 93نے روس کو نکالنے کے حق میں اور24نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ 58ارکان غیر جانبدار رہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ روس سے قبل صرف لیبیا کو اس کونسل سے نکالا گیا تھا لیکن لیبیا روس کی طرح سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں تھا۔ روس کی بے دخلی اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے۔ یوں تو امریکہ اور چین نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ریکارڈ قائم کیے ہیں لیکن یوکرین میں جس طرح کی نسل کشی جاری ہے،ویسا دوسری جنگ عظیم کے بعد کہیں نہیں دیکھا گیا۔ دنیا کے کئی ممالک خصوصاً امریکہ سے وابستہ لوگ امید کر رہے تھے کہ کم از کم اس بار بھارت غیرجانبدار نہیں رہے گا۔ وہ روس کے خلاف ووٹ دے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے گزشتہ دنوں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ دیکھیں انسانی حقوق کونسل میں بھارت کا ووٹ کہاں پڑتا ہے۔ اسے روس کی مخالفت کرنی ہی چاہیے۔ اگر اب وہ غیر جانبدار رہتا ہے تو اس کا اثر ہند-امریکہ تعلقات پر ضرور پڑے گا۔ بھارت نے ایک درجن دیگر پولز کی طرح اس ووٹنگ میں بھی غیرجانبداری برقرار رکھی، لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یوکرین کی نسل کشی پر اس نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ بین الاقوامی اسٹیج اور ہندوستانی پارلیمنٹ میں بھی حکومت ہند کئی بار کہہ چکی ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ بالکل نہیں چاہتی۔وہ تشدد اور دباؤ کے بجائے بات چیت سے تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کروانا چاہتی ہے۔ دراصل بوچا میں ہونے والے قتل عام کی اس نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان ایسا مطالبہ کرنے والا پہلا ملک ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستانی نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے یوکرین میں جاری خونریزی پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور یوروپی ممالک یوکرین پر صرف زبانی جمع خرچ کررہے ہیں۔ وہ اس کی کھلے عام حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے روس کا غصہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر یہ مغربی ممالک یوکرین کو پانی پر نہیں چڑھاتے تو روسی حملہ کی یہ نوبت ہی کیوں آتی؟ روس کے خلاف ان قراردادوں اور ووٹنگ کا پوتن پر کیا اثر پڑرہا ہے، کچھ نہیں! یوکرین کے ولادیمیر زیلینسکی نے درست ہی کہا ہے کہ اقوام متحدہ اگر کچھ نہیں کر سکتی تو اسے تحلیل کیوں نہیں کردیا جانا چاہیے؟ انہوں نے ناٹو اور امریکہ کی بے عملی پر بھی زبردست روشنی ڈالی ہے۔ اس وقت ہندوستان کا رویہ انتہائی فعال اور معقول ہے، لیکن یہ بہت محدود ہے۔اس کے افسران اگرچہ جو کچھ بول رہے ہیں، ٹھیک بول رہے ہیں لیکن ان سے یہ امید کرنا مناسب نہیں ہے کہ وہ پوتن اور زیلینسکی کے درمیان ثالثی کرسکتے ہیں یا ان کے بیانات کا ان دونوں لیڈران پر کوئی اثر پڑسکتا ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے پہل کا ایک دم صحیح موقع ہے۔ بائیڈن اور پوتن دونوں کے ساتھ ہندوستان کے برابر کے تعلقات ہیں۔ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی پہل کریں تو یقینی طور پر بائیڈن، پوتن اور زیلینسکی ان کی بات سنیں گے، کیونکہ اس معاملے میں ہندوستان کا اپنا کوئی مفاد نہیں ہے۔
(مصنف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS