کریمیا میں روس کے فوجی اڈّے پردھماکوں میں9 روسی طیارے تباہ

0

کیف(ایجنسیاں) :یوکرین کی فضائیہ نے بدھ کو کہا کہ کرائمیا کے ایک فضائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں کے مہلک سلسلے میں روس کے 9 جنگی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ یہ دھماکے یوکرین کے حملے کا نتیجہ تھے جو جنگ میں شدت آنے کے عکاس ہو سکتے ہیں۔روس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ منگل کے دھماکوں میں کسی طیارے کو نقصان پہنچا ہو یا کہ کوئی حملہ ہوا ہے۔یوکرین کے حکام ان دھماکوں کی ذمہ داری کے دعوے کے قریب نظر آئے لیکن گریز روا رکھتے ہوئے انہوں نے روس کی اس وضاحت کا مذاق اڑایا ہے کہ کسی تمباکو نوش کی لاپرواہی سے ساکی ایئر بیس پرگولہ بارود کو آگ لگی اوردھماکے ہوئے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وضاحت کا کوئی مطلب نہیں ہے، ان کا خیال ہے کہ امکانی طور پر یوکرین نے اڈے پر حملہ کرنے کے لیے اینٹی شپ میزائل استعمال کیے ہیں۔ اگر حقیقت میں یوکرین کی افواج ان دھماکوں کی ذمہ دار ہے، تو یہ جزیرہ نما کریمیا میں کسی روسی فوجی مقام پر پہلا بڑا حملہ ہوگا۔ روسی جنگی طیارے ساکی ائربیس کو علاقوں پر حملے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کریمیا دونوں فریقوں کے لیے اہم اسٹریٹیجک اورعلامتی اہمیت رکھتا ہے۔ کریملن کا یہ مطالبہ کہ یوکرین کریمیا کو روس کا حصہ تسلیم کرے، لڑائی کے خاتمے کے لیے اس کی اہم شرائط میں سے ایک ہے، جب کہ یوکرین نے روسیوں کو جزیرہ نما اور دیگر تمام مقبوضہ علاقوں سے نکالنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔دھماکوں کے چند گھنٹے بعد، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دوبارہ ایسا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے رات کے خطاب میں کہا کہ ’یوکرین کے خلاف اورپورے آزاد یورپ کے خلاف یہ روسی جنگ کرائمیا سے شروع ہوئی تھی اوراسے کرائمیا کی آزادی پرہی ختم ہونا چاہیے۔‘ان دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور14 زخمی ہوئے۔ ویڈیو میں کچھ عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔کرائمیا کے علاقائی رہنما سرگئی اکسیونوف نے کہا کہ اپارٹمنٹ کی درجنوں عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے بعد تقریباً 250 رہائشیوں کو عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری طرف روسی حکام نے بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں کی شدّت کو کم دکھانے کی کوشش کی اوریہ کہا کہ جزیرہ نما پرتمام ہوٹل اورتفریحی ساحلی علاقے متاثرنہیں ہوئے، یہ علاقہ روسیوں کے لیے ایک مقبول سیاحتی مقام ہے۔
یوکرین کے ایک صدارتی مشیر اولیکسی آریسٹووچ نے خفیہ طور پر کہا کہ یہ دھماکے یا تو یوکرین کے تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں کی وجہ سے ہوئے یا کرائمیا میں سرگرم یوکرینی چھاپہ مار گوریلوں کی کسی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتیہیں۔
بحیرہ اسود کے جزیرہ نما پر واقع اڈہ جنوبی یوکرین سے جا ملتا ہے، یہ قریب ترین یوکرینی مقام سے کم از کم 200 کلومیٹر (تقریباً 125 میل) کے فاصلے پر ہے – جو امریکہ کی طرف سے HIMARS لانچروں میں استعمال کے لیے فراہم کردہ میزائلوں کی رینج سے باہر ہے۔
HIMARS تین سو کلومیٹر (تقریباً 185 میل) تک کی رینج کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ بھی فائر کر سکتا ہے، اوریوکرین نے بارہا ایسے ہتھیاروں کی درخواست کی ہے۔ امریکیوں کواندیشہ ہے کہ انہیں فراہم کرنے سے روس مشتعل ہو سکتا ہے اورتنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ان دھماکوں سے ایسی قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ شائد یوکرین کو یہ لانچردستیاب ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے کہا ہے کہ وہ آزادانہ طورپراس بات کا تعین نہیں کرسکتا کہ دھماکوں کی وجہ کیا ہے لیکن اس نے کہا کہ ایر بیس کی دوجگہوں پربیک وقت ہونے والے دھماکوں سے حادثاتی طور پر کسی آگ کے لگنے کو خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے لیکن سبو تاڑ اورمیزائل کے کسی حملے کو نہیں۔
یکن اس نے مزید کہا: ’’کریملن کے پاس یوکرین پراس حملے کا الزام لگانے کا بہت کم امکان ہے، کیونکہ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام غیرموثرہے۔‘‘
یوکرین سے متعلق دوسری بڑی خبر یہ ہے کہ روسی افواج نے منگل کی رات سے بدھ تک یوکرین کے مختلف علاقوں پر گولہ باری کی، جس میں نیپروپیٹروسک کا مرکزی علاقہ بھی شامل ہے، علاقے کے گورنر ویلنٹین ریزنیچینکو کے مطابق ان حملوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
بدھ کے روز، سات صنعتی جمہوریتوں کے گروپ کے وزرائے خارجہ نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپرپلانٹ کا مکمل کنٹرول یوکرین کے حوالے کر دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جوہری حادثے کے خطرے کے بارے میں “انتہائی فکر مند” ہیں، کیوں کہ اس کے دور رس نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔