دو ائیر پورٹ مشرقی اترپردیش کی ترقی کو دیں گے ڈبل اڑان

0
Image: Deccan Herald

لکھنؤ،(یواین آئی):کبھی پچھڑے علاقے میں شمار ہونے والے پوروانچل میں بمشکل 50کلو میٹر کے فاصلے پر سات سالوں کے اندر دو ائیر پورٹ سے گھریلو اور بین الاقوامی ائیرخدمات کی سوغات مشرقی اترپردیش کے لئے کسی سپنے کے پوار ہونے سے کم نہیں ہے۔
دونوں ائیر پورت ترقی کو نئی اڑان دو دیں گے ہی ساتھ ہی خراب موسم میں ایک دوسرے کا متبادل بھی بنیں گے۔ خراب موسم میں فلائٹ منسوخ ہونے کے مسئلہ سے مسافروں کو بہت حد تک نجات ملے گی۔حالانکہ کہرے میں غیر منقطع فلائٹ کے لئے دونوں ائیر پورٹ کو جدید سہولیات سے لیس کیا گیا ہے لیکن جغرافیائی حالات کی وجہ سے گورکھپور ائیر پورٹ پر اکثر خراب موسم کی مار مسافروں پر فلائٹ منسوخ ہونے کے طور پر پڑتی ہے۔ ایسے حالت میں کشی نگر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قریبی متبادل ملنے سے وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوگی۔
کشی نگر انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے ڈائرکٹر اے کے دویدی کا بھی کہنا ہے کہ دو ائیر پورٹ قریب ہونےسے فلائٹ منسوخ ہونے کی حالت میں ایک ائیر پورٹ کا متبادل ملے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گورکھپور ائیر پورٹ پر کم مرئیت میں بھی غیر منقطع لینڈنگ اور ٹیک آف کی سہولیت کے آلات لگ چکے ہیں۔ کشی نگر ائیر پورٹ پر بھی آنے والے وقت میں ایسا انتظام ہونے کے بعد فلائٹ منسوخی کا مسئلے سے کافی حدتک نجات مل سکے گی۔
غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ہی مغربی بہار،نیپال سمیت آس پاس کے لوگوں کو کشی نگر سے براہ راست ہوائی خدمات کی سہولیت دستیاب کرائے گی۔ بھگوان بدھ کی’مہاپرنوارن مقام ہونے سے کشی نگرمیں انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی ضرورت دہائیوں سے تھی۔کشی نگر بودھک سرکٹ کا اہم پڑاؤ ہونے سے دنیا بھر کے بدھ پیروکار اپنی زندگی میں ایک بار ضرور یہاں آکر تتھاگت کے درشن کے خواہش رکھتے ہیں لیکن براہ راست ہوائی خدمات میسر نہ ہونے سے نہیں آپاتے تھے۔ لہذا دہائیوں سے تتھا گت کی پرنوارن مقام پر ہوائی خدمات کی کمی کا احساس ہوتا تھا جبکہ کسیا میں ہوائی پٹی انگریز حکومت میں فوجی اور کاروباری ضرورتوں کے پیش نظر دوسری جنگ عظیم(1942)کے دوران ہی بنی تھی۔ لیکن آزادی کے دہائیوں بعد بھی کسیا کی ہوائی پٹی کو ائیر پورٹ میں تبدیل کرنے کی کسی حکومت نے دلچسپی نہیں دکھائی۔ اتنا ہی نہیں گورکھپور سے ہوائی خدامت بھی 80کی دہائی میں بند کر دی گئی تھیں۔
بطور رکن پارلیمان یوگی آدتیہ ناتھ کے میراتھن کوششوں سے گوکھپور میں ہوائی خدمات بحال ہوئیں اور انہیں کی کوششوں سے گورکھپور ائیر پورٹ پر نئے جدید ٹرمنل بنے۔ آج کئی شہر ائیر کنک ٹیویٹی سے جوڑے جارہے ہیں۔ممبئی،دہلی، حیدرآباد، بنگلور، احمد آباد سے جڑ چکے ہیں۔ جلد ہی گوا کی فلائٹ شروع ہونے سے مسافروں کی راہ اور آسانہ ہوجائے گی۔ گورکھپور سے ابھی تک دہلی کے لئے سب سے زیادہ چار اڑانیں بھی مسافروں کی تعداد کے آگے کبھی کبھی سیٹیں کم پڑ جاتی ہیں۔
کشی نگر میں انٹرنیشنل ائیر پورٹ بننے سے سیاحتی کاروبار کو بڑھاوا ملنے سے روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہونگے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ یہ مشرقی اترپردیش کے ترقی کا دروازہ کھلے گا اور پانچ کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔نئے نئے کاروبار کے راستے کھلیں گے۔
کشی نگر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کھلنے سے آنے والے وقت میں تھائی لینڈر کی راجدھانی بینکاک اور خلیج ممالک میں روزی روٹی کے لئے گئے مزدوروں کی راہ آسان ہوجائے گی۔ ابھی تک مشرقی اترپردیش کے لوگ کولکاتہ سے بینکاک کی جانب عرب ممالک کی فلائی لکھنؤ یا دہلی سے پکڑتے ہیں۔ کشی نبر سے فلائٹ خدمات شروع ہونے پر ان کا پیسہ اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہونے سے رات میں بھی فلائٹ سہولیت آنے والے کچھ مہینے میں دستیاب ہوگی۔ گورکھپور سے ابھی تک شام تک ہی گھریلو اڑان کی سہولیت میسر ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here