ترکی کے انتخابات:پردے کے پیچھے کون؟

0

پوری دنیا کی نگاہیں ترکی کے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات پرہیں۔مغربی ممالک عالمی برادری طیب اردگان کے دوراقتدار کو ایک ناپسندیدگی سے دیکھتی ہے۔وہ کئی بغاوتوں اور سیاسی مخالفتوں کوجھیل کرگزشتہ بیس سال سے ترکی کے سیاسی منظرنامہ پرچھائے ہوئے ہیں۔مغربی ممالک طیب اردگان کو اظہارخیال کی آزادی کے خلاف ،مذہب پسند کافی حد تک بنیادپرست لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔زیرنظر تحریر میں ترکی کے سیاسی ماحول اور ایشوز کا جائزہ لیا گیاہے۔
کل یعنی 14مئی کو ترکی میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔یہ انتخابات پارلیمنٹ جس کو گرانڈ نیشنل اسمبلی کہتے ہیں،کی 600 سیٹوں اور سربراہ مملکت یعنی صدر کے عہدے کے لئے ہوںگے۔ ترکی میں صدر کا انتخاب براہ راست ہوتاہے۔ صدر مملکت کے پاس مکمل ایگزیکٹیو،اختیارات ہوتے ہیں۔وہ اپنی مرضی سے اپنے نائبین ،وزراء ، وزیراعلیٰ اوراہم عوام افسران کو مقرر کرتے ہیں۔صدرمملکت داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی طے کرتا ہے،یعنی ’ مالک کل ہے‘۔ترکی میں ووٹروں کی تعداد64ملین ہے، ان میں عورتوں کی تعداد30.7ملین اور مرد ووٹروں کی تعداد29ملین ہے ،اس مرتبہ کے انتخابات میں 4.9ملین نئے ووٹرزہیں۔مغربی ممالک کوامید ہے کہ یہ نئی نسل حالات کا رخ پلٹ دے گی۔ترکی ایک وسیع وعریض ملک ہے ، اس کے 81صوبے اور 78انتخابی اضلاع ہیں۔الیکشن سے چند روز قبل ایک اور سیاسی جماعت ہوم لینڈ پارٹی کے صدارتی امیداورنے طیب اردگان کے حق میں میدان سے ہٹنے سے موجودہ صدر کے حوصلے بلند کردیے ہیں۔
صدارتی عہدے کے لئے موجودہ صدر طیب اردگان کا مقابلہ اپوزیشن کے متحدہ امیدوار کمال اوگلوسے ہے۔ کمال اوگلو کلیدی اپوزیشن پارٹی سی ایچ پی کے لیڈر ہیں ، وہ اپوزیشن کے متحدہ محاذ کے نمائندہ امیدوار ہیں۔ اوگلو ماہر اقتصادیات ہیں، اس اتحاد میں ایپی پارٹی(Iyi Party) دایاں بازو، اینڈڈیموکریسی پروگریس(DEVA) پارٹی اور سینٹر رائٹ گیلک پارٹی Gelecek Partyکے علاوہ چھوٹی پارٹیاں سادات پارٹی Saadad Partyاور ڈیموکریسی پارٹی Demcrate Partyشامل ہیں۔قومی اتحادمتحدہ اپوزیشن کے امیدوار کمال اوگلو کا وعدہ ہے کہ وہ گزشتہ 20سال سے برسراقتدار اے کے پارٹی کے نظام کو بدل کر رکھ دیں گے اور ملک میں جمہوری اقدار ،اظہارخیال کی آزادی کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کا وعدہ بھی کیاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اتحاد میں طیب اردگان کے سابق حلیف سابق وزیرخارجہ علی بباکنAli Babacan اور سابق وزیراعظم احمد دیوت اوگلو بھی شامل ہیں۔مغربی ممالک کو امید ہے کہ کمال اوگلو آخر وقت میں کوئی کمال کرکے دکھائیں گے۔کمال موجودہ صدر کے بنسبت مخالف ہیں۔
اس اتحاد نے عوام سے وعدہ کیاہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کے لئے مفت مکانات بنائیں گے اور غیر ملکی لوگوں کو جائیداد کی فروخت پر پابندی عائد کرے گی۔ اقتصادی محاذ پر ترکی میں پرانی یاروایتی اقتصادی پالیسی کو دوبارہ متعارف کرانے کا وعدہ کیاگیا ہے۔ قومی اتحاد نے موجودہ صدارتی نظام کو بدلنے کا وعدہ کیا۔یاد رہے کہ طیب اردگان کے2017میں متعارف کرائے گئے نظام کو بدلنے اور پارلیمانی نظام حکومت کو مستحکم بنانے کا وعدہ کیا ہے۔وہ شام کے مہاجرین کو واپس بھیجنے کا وعدہ کررہے ہیں۔یہ مہاجرین شام کا ترکی پر کافی بوجھ ہے ۔ترکی میں جرمن کا مسئلہ کافی حساس ہے۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پرکمال اوگلو مغربی ممالک سے تعلقات کو استوار کرنے کا وعدہ کررہے ہیں۔ دراصل ان کا فوکس طیب اردگان کی پالیسیوں سے ناراض عوام کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔طیب اردگان کے خلاف ایک اور سیاسی اتحاد میدان میں ہے۔یہ محاذ بایاں محاذہے ،یہ کردوں سے ہمدردی رکھنے والی پارٹیDemocartic Partyکی قیادت میں الیکشن لڑرہاہے۔
یہ پارٹی گرین لیفٹ پارٹی کے بینر کے تحت الیکشن لڑرہی ہے۔اس اتحاد کی دوسری بڑی پارٹی ورکرز پارٹی آف ترکی ہے۔ بایاں اتحاد کمال اوگلو کو ہی اپنا صدارتی عہدے کا امیدوار مانتا ہے۔اس اتحاد کا کہناہے کہ وہ ترکی کو برباد کرنے والے ایک آدمی (طیب اردگان) کی حکمرانی کے خلاف ہے۔ یہ اتحاد بھی صدارتی نظام حکومت کو ختم کرکے پارلیمانی نظام کو واپس لانے اور کردوں کے مسئلہ کو امن اور مذاکرات سے حل کرنے کا قائل ہے۔
عوام اتحاد:موجودہ صدرطیب اردگان کی پارٹی کانام اے کے پارٹی ہے ۔عوامی اتحاد میں قوم پرست سے جماعت نیشنل مومنٹ پارٹی National Movement Partyاور گرانڈ یونیٹی پارٹی Grand Unity Partyبایاں بازو کے شدت پسند اسلام پسندNew Welfare Party(وائی آر پی) اسی اتحاد میں شامل ہیں۔اس اتحاد کو ایک اور چھوٹی سیاسی پارٹی ہڈا پار Huda-parکی حمایت حاصل ہے۔ یہ اسلام پسند کردوں کی پارٹی ہے۔طیب اردگان ترکی کی پرانی خلافت عثمانیہ کے زمانے کی حیثیت کو بحال کرنے والی خارجہ پالیسی کے حامی ہیں۔ طیب اردگان کردستان ورکرز پارٹی (بی کے کے)اورگولین تحریک کے خلاف ہیں۔وہ ایل جی بی ٹی کیویسس کے خلاف ہیں۔ طیب اردگان کی اے کے پی شام اور قرب وجوار کے ممالک کے ساتھ تعاون اور خیرسگالی کے قائل ہیں اور روس کی مصالحت کے امید لگائے بیٹھے ہیں۔oum

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS