تمل ناڈو : بی جے پی لیڈرکو صرف ایک ووٹ ملا،ٹویٹر پرہوئی کھنچائی تو کی وضاحت

0
twitter

چنئی (ایجنسی):تمل ناڈو میں حال ہی میں منعقد ہونے والے دیہی بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کے عہدیدار ڈی کارتک کو صرف ایک ووٹ ملا۔ یہ غور کرنے والی بات یہ ہے ان کے گھر میں کل پانچ ممبر ہیں۔ ڈی کارتک کو ایک ووٹ ملنے کی خبر سوشل میڈیا پر اس طرح وائرل ہوئی کہ انہیں اس کی وضاحت کرنی پڑی۔ کوئمبٹور ضلع کے پیریانیکنا پالیم یونین میں وارڈ ممبر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے والے ڈی کارت کو ایک ووٹ ملنے کی خبر پر مصنفہ اور کارکن مینا کنڈاسامی نے ٹویٹ کیا


، “بی جے پی امیدوار کو بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ووٹ ملا۔ مجھے فخر ہے اس کے گھر کے چار دیگر ووٹرز جنہوں نے دوسروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ کانگریس لیڈر اشوک کمار نے کہا ، “وارڈ ممبر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے والے بی جے پی امیدوار کے گھر میں پانچ ممبر ہیں


۔ بی جے پی امیدوار کو کوئمبٹور سے ایک ووٹ ملا ہے۔ ایک اور ٹویٹر صارف نے کہا کہ کارتک کی جانب سے ان کی انتخابی مہم کے لیے جاری کیے گئے پوسٹرز میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور خود سمیت سات دیگر رہنماؤں کی تصاویر تھیں۔ لیکن لیکن انہیں صرف ایک ووٹ ملا۔


‘دی نیو انڈین ایکسپریس’ سے بات کرتے ہوئے بی جے پی یوتھ ونگ کے ضلعی نائب صدر ڈی کارتک نے کہا میں نے بی جے
پی کی جانب سے الیکشن نہیں لڑا۔ میں نے کار کے نشان پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ میرے خاندان کے
چار ووٹ ہیں اور تمام ووٹ پنچایت کے وارڈ 4 میں ہیں۔ انہوں نے بتایا “وارڈ نمبر 9 جہاں سے میں نے الیکشن لڑا، وہاں میرے خاندان کے چار افراد ہیں اور میرا کوئی ووٹ نہیں ہے۔اس بیچ سوشل میڈیا میں ٹرالرز کی طرف سے میرا غلط ذکر کیا جا رہا ہے کہ میں بی جے پی کی طرف سے الیکشن لڑا تھا اور مجھ کو میرے خاندان کے ممبروں کو ووٹ بھی نہیں ملا ،جو سچ نہیں ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں بلدیاتی انتخابات 6 اور 9 اکتوبر کو دو مراحل میں ہوئے تھے۔اس انتخاب میں کل
27،003 عہدوں کے لیے 79،433 امیدوار میدان میں تھے۔ انتخابی مہم کے دوران کارتک نے اپنے پوسٹروں کے ساتھ
پی ایم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ جیسے بڑے چہروں کا استعمال کیا۔پھر وہ اپنے لیے صرف ایک ووٹ حاصل کر سکے۔

آپ کے تاثرات
+1
2
+1
0
+1
0
+1
3
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here