یہ کسی مجرم کا قتل نہیں در حقیقت آئینی اور عدالتی نظام کا قتل ہے

0

عبیداللّٰہ ناصر

تقریباً چار دہائیوں پر محیط صحافتی زندگی میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ذہن و دل میں خیالات اور جذبات کا بحر بیکراں موجزن ہو مگر انہیں قلم بند کرنے کے لیے الفاظ نہ مل رہے ہوں۔ یاد کرتا ہوں تو ایسا سب سے پہلا واقعہ کرنیل گنج ضلع گونڈہ اتر پردیش کا فرقہ ورانہ فساد یاد آتا ہے جو میرا پہلا اسائنمنٹ تھا۔ جو کچھ دیکھ کر آیا تھا وہ لکھنا محال ہو رہا تھا تو مشفق ایڈیٹر عثمان غنی صاحب پاس آئے، سگریٹ پینے کو کہا، پھر بتایا ممتاز و لیجنڈری صحافی خواجہ احمد عباس کا واقعہ کہ کیسے گاندھی جی کی شہادت کے بعد اس واقعہ کی رپورٹ لکھتے وقت ان کے آنسو نہیں رک رہے تھے توبامبے کرانکل میں ان کے ایڈیٹر نے ان سے کہا: عباس ایک انسان اور ایک ہندوستانی کی طرح رو چکے ہو تو اب ایک صحافی کی طرح خبر لکھو، کیونکہ صحافی غمزدہ بھی ہوتے ہیں، غصہ بھی ہوتے ہیں، دوسرے جذبات بھی ان کے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں لیکن وہ اپنا فرض منصبی بھی ادا کرتے ہیں۔ پھر راجیو گاندھی کی شہادت کے بعد میرے بھی ایسے ہی جذبات تھے کیونکہ دو تین دن قبل ہی سلطان پور میں ان سے مل کر آیا تھا اور سب سے بڑا صدمہ تھا6دسمبر کا، جب ایودھیا سے بابری مسجد کی ایک ایک اینٹ توڑ کر اسے زمیں بوس کر دینے کا منحوس منظر دیکھا تھا اور کار سیوکوں نے مجھ جیسے نہ جانے کتنے صحافیوں کا پیٹ پیٹ کر برا حال کر دیا تھا، اس وقت بھی عثمان صاحب، شوکت صاحب سمیت دوسرے ساتھیوں نے کہا تھا صحافی کا سب سے بڑا سہارا شراب، سگریٹ اور چائے ہوتی ہے۔ شراب پیتے نہیں ہو، سگریٹ پیو، چائے پیو، اس کے بعد اپنے صرف دو پیرا گراف لکھ دو، باقی ایجنسی کی خبر لگا دی جائے گی، اس کے بعد قومی آواز کا پورا پہلا صفحہ سیاہ چھاپ کر اس قومی سانحہ کو اس نے جس طرح پیش کیا، اس سے صبح ہاہاکار مچ گیا اور شاید دو یا تین بار اسے دوبارہ چھاپنا پڑا تھا۔
آج بھی کم و بیش ویسے ہی حالات ہیں۔ پہلے تو سوچا تھا اس ہفتہ کا کالم نہیں لکھوں گا پھر سوچا اب تو یہ سب زندگی کے ساتھ ہے، کب تک اس سے راہ فرار اختیار کی جا سکتی ہے کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی پڑے گا۔پہلے مافیا سرغنہ عتیق احمد کے جوان بیٹے کی انکاؤنٹر میں موت، پھر عتیق اور ان کے بھائی کا پولیس کی کسٹڈی میں قتل رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات ہیں کیونکہ یہ قتل صرف چار انسانوں کے قتل ہی نہیں ہیں، یہ در اصل ہندوستان میں قانون، انصاف اور آئین کے نظام اور ہندوستان کے ایک مہذب سماج ہونے کا قتل ہے۔ قتل کے ان واقعات پر خوشی اور ایک طبقہ سے نفرت کا جو سیلاب دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ خطرناک بھی ہے اور خوفناک بھی کیونکہ برائی، جرم اور نفرت کی یہ قبولیت اور پسندیدگی ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔یہ ملک سری لنکا، شام اور روانڈہ کے راستے پر جا رہا ہے، یہ سوچ سوچ کر دل بے چین ہو رہا ہے اور کیونکہ آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر بھی خوفناک ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے6برس کے دور حکومت میں مافیا سرغنہ عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور ان کے شوٹر غلام کی جھانسی کے ایک سنسان علاقہ میں مبینہ پولیس مڈبھیڑ میں موت، ایسی مڈ بھیڑوں میں ایک 184ویں نمبر پر آتی ہے یعنی اس سے قبل183ایسی مڈ بھیڑیں ہو چکی تھیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ان مڈ بھیڑوں میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے جن میں اکثریت کس طبقہ کی تھی یہ سبھی جانتے ہیں، یہ سب کچھ وزیراعلیٰ کی ٹھونک دو پالیسی کے تحت ہوا اور اس کی لہلہاتی ہوئی سیاسی فصل وزیراعلیٰ اور ان کی پارٹی نے کاٹی۔صرف ہم آپ ہی نہیں سپریم کورٹ تک ان مڈ بھیڑوں کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے، اس لیے اس نے اس سلسلہ میں کئی گائیڈلائنس جاری کی ہیں جس کے تحت ہر مڈبھیڑ کی ابتدائی رپورٹ درج ہوگی، مجسٹریٹی جانچ ہوگی، جانچ میں مڈ بھیڑ میں شامل پولیس ٹیم کے اوپر کے افسران شامل ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن گزشتہ 6برسوں میں ان مڈ بھیڑوں میں ان گائیڈلائنس کی کتنی پابندی ہوئی، کیا نتیجے آئے، کتنے صحیح اور کتنے غلط انکاؤنٹر پائے گئے، کسی پولیس والے کے خلاف کارروائی ہوئی کہ نہیں، یہ کم سے کم میرے علم میں تو نہیں ہے۔ ملک اور ریاست میں حقوق انسانی کمیشن بھی ہے، ایسے انکاؤنٹروں کی جانچ اس کے دائرۂ اختیار میں ہے لیکن ہندوستان اور اترپردیش میں آئینی اداروں کا کیا حال ہے، اس کا رونا راہل گاندھی اکثر اپنی تقریروں میں روتے ہی رہتے ہیں، کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔
اپنے بیٹے اسد کے قتل کے دوسرے دن ہی عتیق اور ان کے بھائی اشرف کو تقریباً ڈیڑھ درجن مسلح پولیس کے تحفظ میں طبی جانچ کے لیے اسپتال لایا جاتا ہے اور جیسے ہی وہ لوگ پولیس کی گاڑی سے اتر کر اسپتال کے اندر داخل ہوتے ہیں، صحافی بن کر آئے دو لڑکے عتیق اور اشرف کے قریب آ کر ان کو گولیوں سے بھون دیتے ہیں اور جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالہ بھی کردیتے ہیں، یہ سارا منظرصحافیوں کے کیمروں میں قید ہو کر ملک ہی نہیں ساری دنیا میں پھیل گیا اور ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ ہمارا سماج کیسا بن گیا ہے۔ لازمی طور سے پوچھا جانا چاہیے کہ اتنے ہائی پروفائل جرائم پیشہ بھائیوں کو جن کی جان کو واضح خطرات تھے، جس کی گہار دونوں سپریم کورٹ سے بھی کر چکے تھے اور سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ اتر پردیش سرکار کی کسٹڈی میں ہیں اور ان کا تحفظ اتر پردیش سرکار کی ذمہ داری ہے، اس لیے الگ سے کوئی حکم جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو ان کے نزدیک میڈیا کو بھی اتنی بڑی تعداد میں کیوں آنے دیا گیا تھا، اس لیے کہ میڈیا کو ان کا بیان دلانا کوئی ضروری نہیں تھا، خاص کر جب ایسا سیکورٹی خطرہ ہو، پھر حملہ اور بغیر جانچ پڑتال کے صرف شناختی کارڈ ٹانگ کر ملزموں کے اتنے نزدیک کیسے پہنچ گئے۔ انہوں نے جب فائرنگ کی تو پولیس نے جوابی فائرنگ کیوں نہیں کی، کیا اسے پتہ تھا کہ حملہ آور خود سپردگی کر دیں گے یا ان کا جے شری رام کا نعرہ لگانا کوئی اشارہ تھا کہ ہمیں مت مارو، ہم ہندو ہیں، کیا یہ سب کچھ کسی منصوبہ، کسی سازش کا حصہ تو نہیں تھا؟
یوگی حکومت نے اس واقعہ کے بعد عتیق کی سیکورٹی میں تعینات پولیس والوں کو معطل کر دیا ہے اور پورے معاملہ کی جانچ کے لیے ایک تین رکنی عدالتی کمیشن بھی تشکیل کر دیا ہے۔ ریاست میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے پوری ریاست میں دفعہ144نافذ کر دی گئی ہے لیکن یہ سب سعی لا حاصل ہیں، جب تک ایسے واقعات پر سماج خوش ہو کر حکمراں جماعت پر ووٹوں کی بارش کرتا رہے گا تب تک حکمراں جماعت سیاسی فائدہ کے اس اے ٹی ایم کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ گزشتہ دس سال کے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ ایسی ہر لاقانونیت سے بی جے پی کو فائدہ ملتا رہا ہے، اس لیے اس لا قانونیت کا لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا۔ ایمانداری کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مجوزہ عدالتی جانچ کے دائرہ میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ٹھونک دو اور مٹی میں ملا دوں گا جیسے بیانات کو بھی لایا جائے اور پتہ لگایا جائے کہ انکاؤنٹر وں اور عتیق و اشرف کے ان حالات میں قتل میں ان بیانوں کا کیا کردار رہا ہے۔ ہمارے نظام کی بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ سب کچھ ہوتا ہے سیاسی قیادت کے اشارہ پر اور قانون کے شکنجہ میں پھنستے ہیں افسران اور سرکاری عملہ۔جس دن سے سیاسی قیادت کو بھی قانون کے شکنجہ میں لایا جانے لگے گا، ایسے واقعات از خود رک جائیں گے۔
رہ گیا عتیق تو اس کا تو یہ انجام ہونا ہی تھا۔ کسی حریف مافیا یا پولیس کی گولی یا پھر پھانسی کا پھندہ اس کا مقدر بن ہی چکا تھا۔اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اتر پردیش میں سرگرم سبھی مافیا میں عتیق سب سے زیادہ خونخوار، ظالم اور درندہ صفت تھا۔ اس نے صرف اپنے عبرت ناک انجام کا خاکہ ہی نہیں تیار کیا تھا، اپنے معصوم بچوں کے اس انجام کا بھی وہی ذمہ دار ہے، وہ چاہتا تو اپنے بچوں کو جرم کی دنیا سے دور رکھ کر انہیں اچھا انسان بناسکتا تھا۔معلوم ہوا ہے کہ اس کا مقتول بیٹا پڑھنے میں بہت اچھا تھا اور انٹر کے بعد لندن جا کر قانون کی اعلیٰ ڈگری لینا چاہتا تھا مگر عتیق کے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے اسے پاسپورٹ ملنے میں دقت ہورہی تھی، ایسے بیٹے سے اس نے یہ پہلا قتل کرواکے جرم کی دنیا میں کیوں داخل کیا؟ اس لڑکے سے بڑے اس کے دونوں بھائی بھی جیل میں ہیں جبکہ دو چھوٹے بھائی بچوں کے سرکاری ہوم میں پرورش پارہے ہیں، اس کی اہلیہ بھی ملزموں کی فہرست میں ہیں، جنہیں پولیس تلاش کر رہی ہے، اس کی کھربوں روپے کی جائیداد بھی ضبط کی جا چکی ہے۔ یہ جائیداد عتیق نے اپنی محنت اور ایمانداری سے نہیں بلکہ کھلے طور پر غنڈئی اور مافیا گیری کے ذریعہ کھڑی کی تھی۔عتیق کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا لیکن غیرقانونی، غیر آئینی طریقہ سے ہوا، اس کا ہی افسوس کیا جانا چاہیے عتیق کے انجام کا نہیں ۔
ہماری آنکھ میں آنسو، ہمار ی فکر مندی، ہماری تشویش عتیق کے انجام پر نہیں، ملک کے ممکنہ انجام کو لے کر ہے، اس سماجی انحطاط کو لے کرہے جس میں یہ ملک گزشتہ دس برسوں کے درمیان پھنس گیا ہے جہاں جرم، لاقانونیت، نفرت، تشدد، فرقہ پرستی کو عمومی قبولیت مل رہی ہے، جہاں پڑوسی کے مکان پر بلڈوزر چلتا دیکھ کر پڑوسی خوشیاں مناتا ہے، جہاں مجرم کا مذہب اور ذات دیکھ کر اس پر رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے، جہاں انسانیت، مروت، شرافت، بھلمنساہت، اپنائیت اور در گزر کی جگہ مذہبی جنون اور فرقہ وارانہ پاگل پن نے لے رکھی ہے، یہ ملک بہت بڑی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے، اسے بچانے کا آخری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS