’’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری‘‘

0

عارف عزیز (بھوپال)
سب سے پہلے ہندوستان کی وسعت، ہمہ گیری، فراخ دلی اور ہر نئی تہذیب وروایت کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت پر ہمیں نظر ڈالنا چاہئے، ہندوستان وہی ملک ہے جس پر سب سے پہلے بیرونی آریائوں نے چڑھائی کی اور یہاں کے اصل باشندے دراوڑوں کو جنوبی ہند تک ڈھکیل دیا، اس کے بعد جو بھی یہاں وارد ہوئے ، خواہ وہ مسلم تاجر ہوں، صوفیائے کرام ہوں، ترک ، پٹھان اور مغل ہوں سب کو اس ملک نے اپنے اندر جذب کرلیا، ہر نئی تہذیب کو اپنانے، ہر نئی فکر کو اپنی فکر بنانے اور ہر حملہ آور کو شہری کا درجہ دینے میں ہندوستان نے شروع سے جس وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا، اس کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں اس ملک کی اصل قوت کا راز یہی فراخ دلی ہے۔ ڈاکٹر عابد حسین کے الفاظ میں ’’ہمارا ملک اس ریل کی طرح ہے جس میں مسافروں کو ہر اسٹیشن پر چڑھنے سے روکا تو جاتا ہے ،یہ کہہ کر کہ اندر جگہ نہیں ہے، لیکن بعض مسافر سینہ زوری کرکے اندر آنے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور اگلے اسٹیشن پر پہلے مسافروں کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ دشمن یعنی نئے مسافروں کو ریل میں چڑھنے سے منع کرنے لگتے ہیں۔عین یہی تصور ہندوستان کی تہذیب کا ہے باہر کے لوگوں نے اس ملک پر حملہ کیا لیکن آخر کار وہ ہندوستانی بن گئے، کہاں کہاں سے لوگ آئے ، کیا کیا تحفے لائے، ایرانی آئے، تورانی آئے، یونانی آئے، منگولی آئے سب نے اس ملک میں قدم رکھا تو کچھ عرصہ بعد انہوں نے ہندوستان کو اپنا ملک تسلیم کرلیا اور ایک مشترکہ تہذیب کی بنیاد ڈالی‘‘۔ (ماخوذ ’قومی تہذیب کا مسئلہ‘)
یہ وہی تہذیب ہے جس کی طرف مہاتماگاندھی نے بھی اشارہ کیا تھا ، میں نہیں چاہتا کہ میرے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے چاروں طرف سے بند کردیئے جائیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ دروازے اور کھڑکیاں ہمیشہ کھلی رہیں اور یہاں تازہ ہوائیں آتی رہیں ، لیکن میں ایسی مضبوطی سے کھڑا رہوں کہ میرے پائوں لڑکھڑا نہ جائیں۔ خواہ باہر کی ہوائیں کتنی ہی تیز کیوں نہ ہوں۔
ہندوستان کی یہی وہ تہذیب اور اس کے اندر مضمر طاقت ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
یونان ومصر روما، سب مٹ گئے جہاں سے
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
اس تہذیب کو جسے ہمارے پرکھوں نے کسی خاص فلسفے یا عقیدے کا نام نہیں دیا ، کیونکہ رواداری اور دوسروں کا لحاظ کرنا ان کے مزاج کا ایک حصہ تھا، ان کے نظریات کچھ بھی رہے ہوں مگر انہوں نے اپنی فکر وعمل کے اختلاف کو کبھی دشمنی یا نفرت کا باعث نہیں بننے دیا، اسی لئے ہندوستان میں مختلف فلسفے اور نظریات بیک وقت پھلتے پھولتے رہے لیکن ان کی وجہ سے کبھی جنگ وجدال کا ماحول پیدا نہیں ہوا۔ یہی وہ ملک ہے جہاں مہاتمابودھ نے اپنے دھرم کے پرچار میں مشرق ومغرب کو ایک کردیا لیکن کسی نے ان پر پتھر پھینکنے کی ضرورت نہیں سمجھی، اشوک اعظم نے لنکا کے معرکہ کے بعد رضاکارانہ طور پر بدھ مذہب اپنا لیا تو بھی کسی کی پیشانی پر بل نہیں پڑے، عرب سیاحوں نے جب گجرات، مالابار اور کیرالہ کے ساحلوں پر اپنی کشتیوں کے باد بان کھولے تو انہیں سمندر میں واپس ڈھکیلا نہیں گیا، بلکہ تواضع کی گئی بیرونی سیاحوں کے سفر نامے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ کتنے بڑے دل کے اور رواداری کے مالک تھے، اسی لئے ہندوستان میں مذہب اسلام کا آغاز محمد بن قاسم سے نہیں، جنوبی ہند میں عرب سیاحوں کی آمد اور مقامی راجائوں کی طرف سے کئے گئے ان کے استقبال سے ہوتا ہے۔ہندوستان کی اس فراخ دلی، رواداری اور سب سے بڑھ کر عظمت کو جدید اصطلاح میں کوئی معنی دیئے جاسکتے ہیں تو وہ اس ملک کا ’’سیکولر کیریکٹر‘‘ ہے۔ اس ملک کا مزاج شروع سے رواداری اور وسعت قلبی پر مبنی رہا ہے۔ آج کل سیکولرازم سے مراد لادینی نظام لیا جاتا ہے جبکہ ’’انسائیکلو پیڈیا امریکانا‘‘ میں سیکولرازم کی تشریح اس اخلاقی نظام سے کی گئی ہے جو فطرت کے مطابق اخلاقی اصولوں پر مشتمل ہو اس کی پہلی بنیاد فکر کی آزادی اور دوسری اختلاف رائے کا حق ہے ، سیکولرازم کی ایک او رتعریف یہ ہے کہ اس کو ماننے والا ہر ایک مذہب کو برابری کی نگاہ سے دیکھے اور دوسرے مذاہب کی عزت وتوقیر کرے، ہندوستان نے سیکولرازم کی اس تیسری تعریف کو قبول کیا ہے یعنی ہر ہندوستانی اپنے مذہب کے ساتھ دوسرے مذاہب کا احترام کرے اور اس سے روشنی حاصل کرے۔ یہی وہ فکر ہے جو ہمارے یہاں قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو مستحکم کرتی رہی ہے۔
ملک کی آزادی کی طرح اس اتحاد کو قائم رکھنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری یہاں کے اکثریتی فرقہ پر عائد ہوتی ہے، اسے ہوشیار ومستعد رہنا چاہئے کہ کسی خاص اقلیت یا کمزور طبقہ کے دل ودماغ میں احساسِ کمتری پیدا نہ ہو، اقلیتوں کے جائز حقوق پامال نہ کئے جائیں، قومی اتحاد کے اس جذبہ کو انگریز حکمرانوں نے سیاسی مقاصد کے لئے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ہندوستان کی ’’تہذیبی ریل‘‘ میں اپنے لئے علاحدہ سے ڈبے لگوائے ، جو لوگ دوسرے ملکوں سے آئے ان میں انگریز واحد قوم تھی جس نے ہندوستان کی تہذیب وتمدن کو اپنانے میں دلچسپی نہیں لی۔ نہ یہاں بیٹھ کر حکمرانی کی بلکہ سات سمندر پار انگلینڈ سے ان کے کارندوں کو احکامات جاری ہوتے تھے، انگریز دوسری قوموں کی طرح ہندوستان میں رہنے بسنے نہیں، صرف حکومت کرنے اور یہاں کے مال ودولت سے یوروپ کے خزانے بھرنے آئے تھے۔ انہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو جو ہندو مسلمانوں نے باہم مل جل کر ایک مسلم بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں لڑی تھی، فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی، جھانسی کی رانی پر ان کا یہی اعتراض تھا کہ وہ بہادر شاہ کی قیادت کو تسلیم کرتی ہے اور ان کا تو پچی ایک مسلمان محمد غوث ہے۔ حالانکہ آخری لمحہ تک وہ اپنا فرض ادا کرکے قومی اتحاد کی ایک روشن تاریخ رقم کرگیا۔ ملک میں ہندومسلم اتحاد کا یہ مظاہرہ پہلے بھی ہوتارہا، اورنگ زیب کا عہد ہو یا اٹھارھویں صدی میں مرہٹوں او رمغلوں کا فوجی تصادم، اس زمانے میں بھی قومی تعصب ، تنگ نظری یا فرقہ پرستی کی مثالیں ڈھونڈنے سے نہیں ملتیں، ایسی مثالیں بھی نہیں کہ ایک فرقہ نے دوسرے فرقہ کے مذہبی ٹھکانوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہو یا پرانی غلطیوں کو لے کر بدلہ لینے کی بات کہی ہو، شیواجی کی مراٹھا فوج کے دستوں میں کئی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔صدیوں سے یہی رواداری اور فراخ دلی ہندوستان کی ریتی اور روایت رہی ہے، جس کا مقصد ہر فرقہ کے احساسا ت اور جذبات کا احترام کرنا ہے ، لہٰذا ہماری کوشش ہونا چاہئے کہ مستقبل میں بھی ہمارے ملک کی ’’کچھ بات‘‘ جسے سیکولر کیریکٹر کا نام دینا مناسب ہوگا، باقی رہے اور ملک کو استحکام حاصل ہو، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہمیں اپنا دل بڑا ، ضمیر سچا، اس کی جرأت محفوظ اور زاویہ نگاہ درست رکھنا پڑے گا۔ روشن خیالی اپنا کر اور ترقی یافتہ سیکولر نظام کو فروغ دے کر ہی یہ کام ہوسکتا ہے۔ جس میں ضمیر وفکر اور اظہار رائے کی آزادی ضروری ہے، طاقت کے زور سے کسی کا منہ بند کرنے یا دھمکی ودھونس سے کام چلانے کی گنجائش نہیں ہو۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS